پارٹیاں بدلنے والے شکست سے دوچار ہونگے

تحریر راجہ منیر خان ....ایبٹ آباد
ایبٹ آباد کی دو قومی اور 5 صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر سیاسی سرگرمیوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ضلع میں پہلی دفعہ امیدواروں کی اتنی بڑی تعداد ہے۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان معدنیات کا کام کرنے والے اس انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں جن کے پاس پیسے کی کوئی کمی نہیں ہے۔ جو الیکشن کمیشن کے احکامات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے پیسے کو پانی کی طرح بہا رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی خاموشی بھی سوالیہ نشان ہے۔ الیکشن کمیشن نے جو حد مقرر کی ہے وہ چند امیدواروں کے سوا کہیں بھی نظر نہیں آ رہی ہے۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان جس طرح تعلیم کے نام پر لوٹ مار کرتے رہے اب وہ اس لوٹی ہوئی دولت کو الیکشن میں استعمال کر رہے ہیں۔ اسی طرح معدنیات پر سرکاری خزانوں کو لوٹنے والے بھی ا س لوٹی ہوئی دولت کو لٹا رہے ہیں اسی طرح بڑے بڑے سرمایہ دار جو زمینوں کے لین دین میں غریب لوگوں کی اراضی کو زبردستی ہتھیا کر لوٹ مار کرتے رہے وہ بھی اسی طرح سرگرم عمل ہیں۔ ان حالات میں یہ سوالات اٹھ رہے ہیں، الیکشن کمشن کے وہ ضابطے کہاں گئے جن کے وہ بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ جس طرح برادری ازم کو فروغ دیا جا رہا ہے اور جس طرح مفاد پرست پاکستانی قوم کو صوبوں کے نام پر قومیت میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ اگر یہ صوبے قومیت کے بجائے انتظامی بنیادوں پر نہیں بنائے جاتے ان میں بسنے والے عوام کو مطمئن نہیں کیا جا سکے گا۔
محب وطن عوام کو پاکستان اور اپکستان کی سالمیت کی جنگ لڑنے و الوں کو عوام کو کامیاب کروانا ہوگا تاکہ قوم میں سندھی مہاجر پنجابی بلوچی ہزارے والی پٹھان کی سوچ ختم ہو اور ایک پاکستان کی سوچ پیدا ہو۔ ضلع ایبٹ آباد سمیت ہزارہ ڈویژن میں مسلم لیگ (ن) کے خلاف خاص کر سازش ہو رہی ہے اٹھارویں ترمیم میں صوبہ سرحد کے نام کی تبدیلی کا نزلہ بھی مسلم لیگ پر گرایا گیا۔ جبکہ صوبے کے نام کی تبدیلی کے اصل نعرے کی طرف کسی نے نہیں دیکھا اور تحریک وبہ ہزارہ چلا کر اسے سردار مہتاب کے خلاف بطور حربہ استعمال کیا سیاست میں پارٹی تبدیل کرنا ان کے نزدیک گالی ہے اور وہ پارٹی کو ماں کے برابر درجہ دیتے ہیں ان کی طرح ہزارہ میں علی افضل خان جدون‘ آصف زبیر شیخ‘ مرتی جاوید عباسی‘ عبدالرزاق عباسی‘ بیرسٹر جاوید عباسی‘ اورنگزیب‘ سمروز خان‘ پیر صابر شاہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ جنہوں نے پارٹی تبدیل نہیں کی جبکہ باقی کے سب کے سب سیاستدان ہر الیکشن میں دوسری جماعت میں چلے جاتے ہیں جن کی سوچ ہمیشہ اقتدار کے زیر اثر رہی ہے۔ اس وقت سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے ایک ایک سیٹ پر کئی کئی امیدوار میدان میں ہیں لیکن اصل مقابلہ صرف تین سے چار امیدواروں میں ہے۔ این اے سترہ سے سردار مہتاب احمد خان مسلم لیگ (ن) ڈاکٹر اظہر جدون پاکستان تحریک انصاف متحدہ دینی محاذ سے ایاز خان جدون جماعت اسلامی سے حبیب الرحمن عباسی مقابلے کی صف میں کھڑے ہیں۔ اسی طرح این اے 18 میں مسلم لیگ (ن) کے مرتضیٰ جاویدعباسی تحریک صوبہ ہزارہ کے بابا حیدر زمان، سردار محمد یعقوب ایسے تین نام ہیں جن کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہوگا جبکہ اس حلقے پر چودھری فیصل ذوالفقار بھی مقابلے کی صف میں آتے ہیں۔ لیکن یہاں ان دو قومی اسمبلی کی نشستوں پر برادری ازم کے نام کی سیاست زور پکڑ رہی ہے کیونکہ تحریک صوبہ ہزارہ کے دوران بھی ایک خاص برادری سرگرم عمل رہی اور سردار مہتاب احمد خان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے۔ سردار مہتاب احمد خان تمام برادری کی نمائندگی کرتے ہیں وہ کبھی بھی تعصب کی سیاست کو پسند نہیں کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ جب سے سیاسی میدان میں اُترے ہیں انہیں شکست نہیں ہوئی ہے کیونکہ وہ برادری ازم پر یقین نہیں رکھتے وہ نظریے کی سیاست کرتے ہیں۔ وہ چار دفعہ ممبر قومی اسمبلی اور سات دفعہ ممبر صوبائی اسمبلی اور ایک دفعہ سینٹر رہ چکے ہیں اور وہ سینٹر بھی اس دفعہ منتخب ہوئے جس وقت صوبہ خیبرپختونخواہ میں مسلم لیگ (ن) کے پاس صرف دو سیٹیں تھیں۔ اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ نظریے کی سیاست کی جس کے نتیجے میں سینٹ الیکشن میں انہیں دیگر جماعتوں نے کامیاب بنایا اور اس الیکشن میں بھی اُن کے خلاف سازش کا سلسلہ جاری ہے جو اُن کے خلاف پچھلے ایک عرصہ سے چلا آرہا ہے لیکن ہمیشہ نظریہ جیتا ہے اور برادری ازم کو شکست ہوئی ہے۔ پی کے 44 پر بھی حقیقی معاملہ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار عنایت اللہ خان جدون اور آزاد امیدوار مشتاق احمد غنی کے درمیان ہے لیکن تحریک انصاف کے امیدوار آصف زبیر شیخ، قومی وطن پارٹی کی نغمہ نثار، تحریک صوبہ ہزارہ کے انجینئر سلطان، پاکستان پیپلزپارٹی کے شمروزخان بھی مقابلے کی صف میں کھڑے ہیں۔ پی کے 45 سے سردار مہتاب احمد خان کا مقابلہ دیگر سیاسی اتحادوں سے ہے اسی طرح پی کے 46 میں بھی یوں تو درجن سے زیادہ امیدوار میدان میں ہیں لیکن مقابلے میں آزاد امیدوار حاجی قلندر لودھی، مسلم لیگ (ن) کے محمد ایوب آفریدی، پاکستان پیپلزپارٹی کے ڈاکٹر عفران بشیر، جماعت اسلامی کے پیر خان تنولی شامل ہیں جبکہ سجاد اکبر تحریک انصاف اور سرکاری خزانے پر ہاتھ صاف کرنے والے سلیم خان، پیپلزپارٹی شہید بھٹو کی طرف سے مقابلے کے دعویدار ہیں۔ اسی طرح پی کے 47 پر بھی سردار اورنگزیب نلوٹھ، مسلم لیگ (ن) محمد نثار صفدر، تحریک انصاف اور اعجاز زر خان، تحریک صوبہ ہزارہ کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ پی کے 48 پر بھی اصل مقابلہ تین امیدواروں کے درمیان ہوگا اگر پی کے 48 سے دیگر امیدوار کاغذات واپس لے لیتے ہیں تو بیرسٹر جاوید عباسی مسلم لیگ (ن) سردار محمد ادریس تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے عبدالرزاق عباسی کے درمیان ہوگا لیکن ایک بات واضح ہے کہ ہزارہ کے عوام پارٹیاں بدلنے والوں کو ہمیشہ مسترد کرتے ہیں لہٰذا اس مرتبہ بھی پارٹیاں بدلنے والوں کا مقدر شکست ہی ہوگی۔