یکساں نظام تعلیم کے دوررس نتائج برآمد ہونگے

ایڈیٹر  |  اداریہ
یکساں نظام تعلیم کے دوررس نتائج برآمد ہونگے

مولانا جان محمد شیرانی کی زیرصدارت اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس میں پیش کی گئی سفارشات کے مطابق ملک میں یکساں نظام رائج کیا جائے، مدارس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے، مکتب اور سکولوں کی تعلیم کو آپس میں جوڑا جائے۔
اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات مثبت ہیں اور ان پر عملدرآمد سے قوم کو دہرے اور امتیازی نظام تعلیم سے نجات دلائی جا سکتی ہے جبکہ مکتب اور سکولوں کی تعلیم کو آپس میں جوڑنے کے بھی دوررس نتائج برآمد ہونگے۔ ایک طرف مدارس کے طلبہ جدید علوم سے بہرہ مند ہونگے تو دوسری طرف سکولوں میں پڑھنے والوں کو دینی تعلیم سے آگاہی ہو گی۔ اس طریقہ کار سے جہاں انتہا پسندی کی حوصلہ شکنی ہو گی وہاں رواداری اور بردباری کے جذبوں کو فروغ حاصل ہو گا۔ طلباءکے ساتھ اساتذہ بھی تدریس کے جدید تقاضوں سے مستفید ہونگے۔ یکساں اوقات صلوٰة کی طرح یکساں نظام تعلیم ملکی تعمیر و ترقی اور امن و امان کے قیام کا ضامن ثابت ہو سکتا ہے۔ حکمرانوں کو چاہئے کہ ان سفارشات پر غور کے بعد انہیں عملی قالب میں ڈھالنے کے اقدامات اٹھائے۔