اقتصادی راہداری منصوبے پر تمام قائدین کا اتفاق ‘ قوم کو مبارک ہو

ایڈیٹر  |  اداریہ
اقتصادی راہداری منصوبے پر تمام  قائدین کا اتفاق ‘ قوم کو مبارک ہو

وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت خصوصی طور پر بلائی گئی کل جماعتی کانفرنس نے پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے پر تیزی سے عملدرآمد کیلئے حکومت کی مکمل حمایت کرتے ہوئے گوادر کو کاشغر کے ساتھ ملانے کیلئے مغربی روٹ کو ترجیحی طور پر تیار کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اے پی سی میں شریک تمام سیاسی قائدین بشمول اسفندیار ولی، محمود اچکزئی، مولانا فضل الرحمن، میر حاصل بزنجو، سراج الحق، سید قائم علی شاہ اور ڈاکٹر عبدالمالک وزیراعلیٰ بلوچستان نے حکومت کے پیش کردہ پاکستان چین اقتصادی راہداری معاہدے کی توثیق کی۔ اے پی سی کے بعد میڈیا سے بات چیت کے دوران قائدین نے راہداری منصوبے پر اتفاق رائے کو وزیراعظم نواز شریف کا کارنامہ قرار دیا۔ بلاشبہ گوادر پورٹ کو دنیا سے ملانے والا پاکستان چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ ملکی تعمیر و ترقی اور قومی خوشحالی کا منصوبہ ہے جسکے اپریشنل ہونے سے اقتصادی او خارجہ امور کے ماہرین کے بقول ملک میں ترقی و خوشحالی کا ایک نیا سفر شروع ہو گا جس سے ملک کے اقتصادی استحکام کی بنیاد پڑیگی اور عوام کیلئے روزگار کے لاکھوں مواقع پید ہونگے۔ اس طرح ایٹمی دھماکہ کے بعد وزیراعظم میاں نواز شریف کا اقتصادی دھماکے کا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہو پائے گا۔ ہمارے بے لوث دوست چین کے تعاون سے گوادر پورٹ کی تکمیل کے بعد اسے عالمی منڈیوں کے ساتھ مربوط کرنے کیلئے طے کئے گئے پاکستان چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کے خدوخال پر اصولی طور پر کسی کو بھی اختلاف نہیں ہونا چاہئے تھا مگر صدر عوامی جمہوریہ چین ژنگ شی پنگ کے گذشتہ ماہ کے دورہ پاکستان کے بعد اس منصوبے کی تفصیلات سامنے آتے ہی اپوزیشن ہی نہیں، بعض حکومتی اتحادی جماعتوں کی جانب سے بھی آسمان سر پر اٹھا لیا گیا۔ اے این پی کے اسفندیار نے یہ دھمکی بھی دیدی کہ اقتصادی راہداری کے اس منصوبے کو بھی کالاباغ ڈیم کی طرح قصہ ماضی بنا دیا جائےگا۔ اور تو اور وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بھی بول اٹھے کہ اس منصوبے پر ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ عمران خان نے بھی اس منصوبے کی مخالفت پر اپنی سیاست چمکائی اور حکومتی اتحادی مولانا فضل الرحمن نے بھی آنکھیں دکھاتے نظر آئے۔ یہ خوش آئند صورتحال ہے کہ اس ایشو پر وزیراعظم نواز شریف کی بلائی گئی صرف ایک اے پی سی نے ہی اس منصوبے کیلئے قومی مفاہمت کی راہ ہموار کر دی ہے اور اسکے مخالفین بھی اب اس کیلئے رطب اللسان ہیں۔ اس پر وزیراعظم کے ساتھ ساتھ اے پی سی کے شرکاءتمام قومی سیاسی قائدین بھی مبارکباد کے مستحق ہیں اور اب قوم کے دلوں میں یہ امید پیدا ہو گئی ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے جو ”امرت دھارا“ استعمال کر کے بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے قوم پرست قائدین تک کو اقتصادی راہداری منصوبے کیلئے قائل اور متفق کر لیا ہے تو اسی امرت دھارا کو بروئے کار لا کر وہ اب کالاباغ ڈیم کے مخالفین کو بھی قومی تعمیر و ترقی کے اس منصوبے کیلئے قائل کر لیں گے۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا! وزیراعظم بسم اللہ کریں اور اب کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا کریڈٹ بھی اپنے کھاتے میں شامل کر لیں۔ قوم کو توانائی کے سنگین بحران سے بھی نجات مل جائیگی۔