کیا کراچی آپریشن ناکام ہو گیا

ایڈیٹر  |  اداریہ

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے بدھ کو کراچی بدامنی کیس کی سماعت کی۔ کسٹمز حکام نے عدالت کو بتایا سہراب گوٹھ منشیات اور اسلحے کا سب سے بڑا اڈا ہے جہاں اسلحے اور سمگلنگ کے سامان کے گودام موجود ہیں۔ کسٹمز کے چیف کلکٹر یحیٰی خان نے عدالت کو بتایا کہ اسلحہ، منشیات اور سمگلنگ کا سامان پبلک بسوں کے ذریعے لایا جاتا ہے اور ویگنوں اور سوزوکیوں کے ذریعے شہر کے دیگر علاقوں میں پہنچایا جاتا ہے۔ علاقے میں طالبان کی موجودگی اور تسلط قائم ہے اور اس وجہ سے کارروائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
کراچی میں نو گو ایریاز کے خاتمے کیلئے رینجرز اور پولیس کو بااختیار بنایا گیا، اس حوالے سے قوانین بھی بنائے گئے اور دعوے کئے گئے کہ کراچی میں رینجرز اور پولیس کا اپریشن کامیابی سے جاری ہے۔ چیف کلکٹر نے سہراب گوٹھ میں اسلحہ اور سمگل شدہ سامان کی بازیابی سے یہ کہہ کر اپنی بے بسی کا اظہار کیا کہ وہاں تشدد پسند لوگوںکا تسلط ہے۔ اگر یہ لوگ اس علاقے میں اتنے ہی طاقتور ہیں تو پولیس اور رینجرز نے اب تک کیا کِیا ہے؟ اپریشن کے باوجود کراچی میں نو گو ایریا کا موجود ہونا مرکزی، صوبائی حکومت رینجرز، پولیس اور دیگر قانون نافد کرنے والے ادارے کی مکمل ناکامی ہے۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا سہراب گوٹھ کے علاوہ کراچی کے دیگر علاقوں میں غیر قانونی اسلحے اور منشیات کی نقل و حمل نہیں ہوتی؟ اس کا جواب بھی کلکٹر کے بیان میں موجود ہے کہ منشیات اور اسلحہ ویگنوں اور سوزوکیوں میں پورے شہر میں سپلائی ہوتا ہے۔ کلکٹر کو ایسی معلومات انکے اعتراف کے مطابق حکومت سندھ نے دی ہیں۔ لگتا ہے کہ اپنی نااہلی چھپانے کیلئے حکومت نے سارا ملبہ ان لوگوں پر ڈال دیا۔ سندھ کے وزیر جیل خانہ جات منظور وسان نے کہا ہے کہ اپریشن کے دوران گرفتار ہونیوالے 9 ہزار ملزم جیلوں میں نہیں ہیں، اگر وہ جیلوں سے باہر ہیں تو کیا وہ جمہوریت کو مضبوط کر رہے ہیں؟  پورے کراچی میں قتل و غارت، بھتہ خوری کا سلسلہ بدستور جاری ہے کیا یہ بھی طالبان کی کارروائیاں ہیں؟ کراچی کی بدامنی میں شدت پسندی کے فیکٹر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا مگر دوسرے گروپ بھی اپنے مفادات کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے، سب کیخلاف بلا امتیاز کارروائی سے ہی کراچی کا امن بحال ہو سکتا ہے۔