ون ڈے سیریز میں جیت اور قوم کی امیدیں

ایڈیٹر  |  اداریہ

پاکستان نے دوسرے ون ڈے میں جنوبی افریقہ کو ہرا کر سیریز جیت لی۔ پاکستان نے ایک رن سے کامیابی اس وقت حاصل کی جب جنوبی افریقہ کی جیت یقینی نظر آ رہی تھی۔ چند روز قبل ہی جنوبی افریقہ نے پاکستان کو متحدہ عرب امارات میں ون ڈے سیریز اور ٹی ٹونٹی میچز میں آؤٹ کلاس کر کے رکھ دیا تھا، پاکستان نے یہ بدلہ جنوبی افریقہ کو اس کے گھر جا کر شکست دینے کی صورت میں  اتار دیا۔ گو دوسرا ون ڈے جنوبی افریقہ نے پلیٹ میں رکھ کر پاکستان کو پیش کیا تاہم ریکارڈ میں میچوں کی روداد نہیں صرف نتیجہ لکھا ہوتا ہے۔ پاکستانی ٹیم نے جنوبی افریقہ کو اس کی ہوم گرائونڈ میں ہرا کے یہ ثابت کر دیا کہ اس میں اچھی سے اچھی ٹیم کو ہرانے کی صلاحیت یقیناً موجود ہے لیکن یہ صلاحیت ہر موقع پر ظاہر ہونی چاہئے۔ دس میچ ہار کر ایک دو میں کامیابی ٹیم کے اندر نظم و ضبط کے فقدان کا مظہر ہے، ایسی کارکردگی سے ناقدین کو یہ کہنے کا موقع ملتا ہے کہ آج بھی ٹیم کی ڈوریاں باہر بیٹھے جواریوں کے ہاتھ میں ہیں، یہ تاثر لگاتار اچھی کرکٹ کھیل کر ہی زائل ہو سکتا ہے۔ صرف میچ جیتنا ہی اچھے کھیل کی علامت نہیں جیت کی طرح ہار بھی گیم کا حصہ ہے اسے قوم قبول کرتی ہے تاہم کھلاڑیوں سے منظم اور متحدہ ہو کر کھیل پیش کرنے کی توقع رکھتی ہے جس کا فقدان نظر آئے تو پُتلے جلانے سے بھی گریز نہیں کرتی۔ امید ہے کہ قومی کھلاڑی قوم کی توقعات پر پورا اتریں گے۔