آئندہ چیف جسٹس سپریم کورٹ کیلئے سنیارٹی کی بنیاد پر جسٹس تصدق حسین جیلانی کی نامزدگی

ایڈیٹر  |  اداریہ

انہیں عدلیہ کی فعالیت کو عام آدمی کی دادرسی کا ذریعہ بنانا ہو گا
صدر مملکت ممنون حسین نے سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج مسٹر جسٹس تصدق حسین جیلانی کے بطور چیف جسٹس پاکستان تقرر کی منظوری دے دی۔ وہ چیف جسٹس مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری کی 11 دسمبر کو ریٹائرمنٹ کے بعد 12 دسمبر کو چیف جسٹس کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ گزشتہ روز وفاقی وزارت قانون نے 12دسمبر سے انکے بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ تقرر کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ انکے تقرر کیلئے آئینی تقاضے کے تحت وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے انکے سینئر ترین جج ہونے کی بنیاد پر سفارش کی گئی تھی جس پر صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر عمل کرتے ہوئے آئین کی دفعہ 175۔اے‘ شق3 کے تحت انکے تقرر کی منظوری دی۔ مسٹر جسٹس تصدق حسین جیلانی اس وقت قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ وہ بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ اپنی عمر کی آئینی میعاد پوری ہونے پر 5 جولائی 2014ء کو ریٹائر ہو جائینگے۔ اس طرح وہ سات ماہ 18 دن چیف جسٹس پاکستان کے فرائض سرانجام دینگے۔ 
مسٹر جسٹس تصدق حسین جیلانی سپریم کورٹ کے ان ججوں میں شامل ہیں‘ جنہوں نے جنرل مشرف کے 3 نومبر 2007ء کے نافذ کردہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا تھا۔ وہ جنوبی پنجاب کے علاقہ خان گڑھ کے ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے بطور وکیل ملتان میں اپنی پریکٹس کا آغاز کیا۔ ملتان ہائیکورٹ بار کے عہدیدار بھی رہے اور پھر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے منصب پر فائز ہو کر لاہور آگئے۔ وہ عبوری عرصہ کیلئے ایڈوکیٹ جنرل پنجاب بھی رہے اور پھر لاہور ہائیکورٹ کے جج کے منصب پر فائز ہوئے۔ لاہور ہائیکورٹ کے سینئر جج کی حیثیت سے انہیں 31 جولائی 2004ء کو سپریم کورٹ کے جج کے منصب پر فائز کیا گیا تھا۔ وہ اپنی شرافت‘ پیشہ ورانہ قابلیت اور اہلیت کے ناطے وکلاء برادری اور عدالتی حلقوں میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ اگرچہ چیف جسٹس پاکستان کے منصب پر جسٹس تصدق حسین جیلانی کے تقرر کے معاملہ میں کسی قسم کا ابہام موجود نہیں تھا اور سپریم کورٹ نے ججز کیس کے فیصلہ میں خود ہی یہ اصول طے کر دیا تھا کہ عدالت عظمیٰ کے سب سے سینئر جج کو ہی چیف جسٹس کے منصب پر فائز کیا جائیگا تاہم بعض حلقوں کی جانب سے مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری کو اس استدلال کے تحت انکی ریٹائرمنٹ کے بعد اس منصب پر توسیع دینے کی باقاعدہ لابنگ کی گئی کہ انہوں نے مشرف کی جرنیلی آمریت کے ہاتھوں راندۂ درگاہ بنائی گئی عدلیہ کی آزادی اور بحالی کیلئے جرأت مندی کے ساتھ کردار ادا کیا اور انکے حرف انکار سے ہی جرنیلی آمریت کا بت ٹوٹا تھا اور عدلیہ خود بھی نظریہ ضرورت کے ساختہ فلسفے سے خود کو باہر نکال پائی تھی۔ قومی اسمبلی کے آزاد رکن جمشید دستی نے تو اس سلسلہ میں اسمبلی میں باقاعدہ ایک قرارداد بھی پیش کی جسے متعلقہ کمیٹی نے اسمبلی میں زیر بحث لانے کی ہی منظوری نہ دی۔ اس طرح قوم خود عدلیہ بھی چیف جسٹس کو انکے منصب پر توسیع دینے کی ایک بری روایت کے پیدا ہونے سے بچ گئی جبکہ سینئر موسٹ کے بطور چیف جسٹس تقرر کی روایت مستحکم ہونے سے بھی عدلیہ ماضی والی کئی قباحتوں سے بچ جائیگی اور ممکن ہے اس روایت کے مستحکم ہونے سے دیگر قومی آئینی اداروں میں بھی انکے سربراہوں کو توسیع دینے اور کسی سربراہ کے تقرر کیلئے سنیارٹی کو نظرانداز کرنے کی بری روایت سے نجات مل جائے۔ مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری نے بطور چیف جسٹس پاکستان عدلیہ میں جہاں یادگار لمحات گزارے ہیں‘ وہیں انہوں نے عدلیہ کی فعالیت کے معاملہ میں کئی نئی روایات بھی قائم کیں جبکہ پاکستان کی عدلیہ میں وہ واحد چیف جسٹس ہیں جن کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس آیا اور پھر وہ اس ریفرنس میں عدالتی عملداری کی بنیاد پر سرخرو ہو کراپنے منصب پر بحال ہوئے جبکہ مشرف کے 3؍ نومبر  2007ء کے پی سی او کے تحت وہ پھر چیف جسٹس کے منصب سے ہٹائے گئے تو انکے حق میں چلائی گئی سول سوسائٹی کی عدلیہ بحالی تحریک کے نتیجہ میں حکومت انہیں اور انکے ساتھ فارغ ہونیوالے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹوں کے فاضل ججوں کو بحال کرنے پر مجبور ہوئی۔ مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری کو انکے منصب پر توسیع دینے کیلئے یہ استدلال بھی سامنے آیا تھا کہ عدلیہ پر جرنیلی شپ خون کے نتیجہ میں انہوں نے جتنا عرصہ غیرفعالیت میں گزارا‘ وہ عرصہ انکی فعال سروس کے عرصہ میں شامل کرلیا جائے۔ اگر حکومت خود چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو انکے منصب پر توسیع دینے کے حق میں ہوتی تو ایسے کسی استدلالوں کا سہارا لے کر نوٹیفکیشن جاری کیا جا سکتا تھا تاہم حکومتی حلقوں میں اجتماعی رائے توسیع دینے کی روایت پیدا نہ کرنے کی تھی جو ایک درست سوچ تھی چنانچہ گزشتہ روز چیف جسٹس پاکستان کی ریٹائرمنٹ سے 14 روز قبل سینئر موسٹ ہونے کے ناطے مسٹر جسٹس تصدق حسین جیلانی کو اگلا چیف جسٹس نامزد کرکے ان حلقوں کا منہ بھی بند کردیا گیا ہے جو اپنے اپنے مفادات اور ایجنڈے کے تحت مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری کو انکی ریٹائرمنٹ کی آئینی عمر پوری ہونے کے بعد بھی چیف جسٹس کے منصب پر فائز دیکھنا چاہتے تھے۔ 
مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری نے بطور چیف جسٹس پاکستان عدلیہ میں بلاشبہ نئے رجحانات متعارف کرائے ہیں‘ بالخصوص عدلیہ کی فعالیت کی بنیاد پر حکومتی گورننس کے معاملہ میں اپنے ازخود اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے جسٹس افتخار محمد چودھری حکومتی گورننس کا بگاڑ درست کرنے اور حکومتی اداروں میں کرپشن اور اقرباپروری کے تدارک اور اسی طرح آئین و قانون کی عملداری کیلئے ایسے احکامات صادر اور ریمارکس پاس کرتے رہے ہیں جس سے حکمرانوں کی جبینیں شکن آلودہ ہوجاتی تھیں اور وہ عدلیہ کی اس فعالیت کی بنیاد پر ہی اسکے ساتھ ٹکرائو پر آمادہ نظر آتے تھے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری کے ان اقدامات سے گورننس بہتر بنانے کیلئے حکمران طبقات کی کتنی اصلاح ہو پائی ہے‘ اس کیلئے ابھی تک حکومتی صفوں میں سے کسی قسم کے مثبت اشارے نہیں مل پائے البتہ عوام کیلئے بڑھائے گئے غربت‘ مہنگائی اور روٹی روزگار کے مسائل کا عدالت عظمیٰ کی جانب سے سخت نوٹس لینے‘ دادرسی کے عبوری احکام جاری کرنے اور ریمارکس دینے سے روزمرہ کے مسائل کے ستائے عوام کی وقتی تشفی کا اہتمام ضرور ہوتا رہا ہے کہ انکی آواز سننے اور دادرسی کی امید دلانے والا کوئی ادارہ تو موجود ہے۔ عدلیہ کی اس فعالیت کی بنیاد پر ہی عوام کی فاضل چیف جسٹس کے ساتھ توقعات بھی زیادہ وابستہ ہوئیں جبکہ عدلیہ کی فعالیت میں بھی عوام کے مسائل کے حل کی کوئی قابل عمل راہ نہیں نکل سکی تو فطری طور پر اس سے عدلیہ کی فعالیت کے معاملہ میں عوام میں اب مایوسی کی فضا پیدا ہونا شروع ہو گئی اور یہی وہ چیلنج ہے جس کا آنیوالے فاضل چیف جسٹس کو سامنا کرنا پڑیگا۔ 
حکمرانوں کی جانب سے عدلیہ کے ساتھ بے اعتنائی کا معاملہ اپنی جگہ درست ہے کہ لوئر کورٹس سے اعلیٰ عدلیہ تک حکمرانوں کو ججوں کی تعداد پوری کرنے کا کبھی خیال ہی نہیں آیا اور عدلیہ کیلئے دیگر وسائل کی فراہمی میں بھی ہاتھ سکیڑ کر رکھے گئے ہیں‘ تاہم عدلیہ میں کرپشن کے خاتمہ اور فوری انصاف کی فراہمی کا جو تقاضا خود عدلیہ نے نبھانا تھا‘ وہ بھی بدقسمتی سے نہیں نبھایا جا سکا اور عدلیہ کی فعالیت کی نذر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ بالخصوص ماتحت عدلیہ میں آج بھی انصاف کے فروخت ہونے کا تاثر قائم ہے جہاں کیس کی دائری سے تاریخوں کے حصول تک متعلقہ عملہ کی جیب گرم کئے بغیر کوئی مرحلہ طے نہیں ہوتا۔ اسی طرح مقدمات کے سالہا سال زیر التواء رہنے میں بھی عدلیہ میں سرائیت ہونیوالے اسی کرپشن کلچر کا عمل دخل ہے چنانچہ فاضل چیف جسٹس کا عدلیہ کی فعالیت کی بنیاد پر حکمرانوں کی ٹیڑھی کل درست کرنے کا جذبہ اپنی جگہ‘ اگر عام آدمی کیلئے حصول انصاف کے دروازے ہی عملاً بند ہونگے تو عوام کو عدلیہ کی فعالیت سے بھی کوئی سروکار نہیں ہو سکتا۔ یہ صورتحال نامزد چیف جسٹس مسٹر جسٹس تصدق حسین جیلانی کیلئے یقیناً ایک بڑے چیلنج کی صورت میں ابھر کر سامنے آئیگی جس سے عہدہ برأ ہونا ہی ان کا اصل امتحان ہو گا۔ اگرچہ انہوں نے گزشتہ روز اعلان کیا ہے کہ آئین اور قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا جس سے حکمران طبقات کا پیدا کردہ یہ تاثر زائل ہو جائیگا کہ عدلیہ کی قیادت تبدیل ہونے کے بعد انہیں کھل کھیلنے کا موقع مل سکتا ہے ‘تاہم نامزد چیف جسٹس کیلئے یہ بھی ایک چیلنج ہو گا کہ انہوں نے امور حکومت سے متعلق معاملات میں غیرضروری مداخلت سے عدلیہ کو کیسے دور رکھنا ہے تاکہ حکومت اپنے فرائض کی انجام دہی کے معاملہ میں عدلیہ کی فعالیت کے چیک کا جواز نہ تراش سکے اور عدلیہ بھی انصاف کی فراہمی سے متعلق اپنے فرائض حکومتی رکاوٹوں کے خطرے سے بغیر خوش اسلوبی سے ادا کرتی رہے۔ عدلیہ کی فعالیت میں بلاشبہ اچھی بری سب روایات پیدا ہو جاتی ہیں اس لئے اب نامزد چیف جسٹس کا امتحان ہو گا کہ وہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے عہد میں عدلیہ کی فعالیت سے پیدا ہونیوالی اچھی روایات کا دامن کیسے تھامے رکھتے ہیں اور بری روایات سے کیسے عدلیہ کی خلاصی کراتے ہیں۔ اس تناظر میں ان کا سات ماہ کا دور آزمائشوں سے بھرا ہوا نظر آتا ہے۔