مصر کے حالات پر مسلم اُمہ کی خاموشی افسوسناک ہے

ایڈیٹر  |  اداریہ

قاہرہ میں معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں کے ایک ماہ سے جاری دھرنے کو طاقت کے بل بوتے پر ختم کرنے کی کوشش میں 120 افراد جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہو گئے ہیں۔ مصری فوج کے بزور بازو اقتدار پر قابض ہونے کے بعد اخوان المسلمین نے پُرامن احتجاج کا راستہ اپنایا تھا۔ اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کی طرح ان کا بھی یہ حق تھا لیکن مصری فوج جو اپوزیشن کے ساتھ مل کر اخوان المسلمین کو راستے سے ہٹانے کے درپے ہے۔ اس نے اخوان کے ایک ماہ سے جاری پُرامن دھرنے پر فائرنگ کر کے 120 افراد کوایک ہی دن قتل کر دیا۔ جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود معزول صدر مرسی کے حامیوں نے اپنی پُرامن جدوجہد کو چھوڑا نہیں۔ لیکن مصری فوج کی اس وحشیانہ کارروائی پر مسلم اُمہ کی خاموشی انتہائی افسوسناک ہے؟ مسلم ممالک کی نمائندہ تنظیم او آئی سی اس قتل عام پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ گزشتہ روز مصری فوج کی بے رحمانہ فائرنگ پر امریکہ برطانیہ اور یورپی یونین نے احتجاج کیا ہے۔ لیکن مسلم ممالک کو تو اس کی بھی توفیق نہیں ہوئی۔ مصر کی سڑکیں خون آلود ہو چکی ہیں۔ افراتفری کا سامان ہے۔ چند لاکھ افراد کے احتجاج کو بہانہ بنا کر مُرسی حکومت کو برطرف کرنے والے آگ اور خون کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ لیکن تف ہے مسلم ممالک پر کہ وہ اس قتلِ عام پر خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ پاکستان ابھی تک مرسی کو صدر تسلیم کرتا ہے اور گزشتہ روز پاکستانی دفتر خارجہ نے معزول صدر مرسی کی رہائی اور بحالی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ اب حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ ہی آگے بڑھ کر مصر کے بحران کو حل کرنے میں کردار ادا کرے تاکہ مصر میں معاملات زندگی بہتر ہو سکیں۔ او آئی سی کو بھی اس بحران کے حل کیلئے کوششیں کرنی چاہئیں۔ ورنہ لیبیا، شام کی طرح مصر میں بھی خانہ جنگی کے خطرات بڑھ جائیں گے۔ مسلم اُمہ کو خواب غفلت سے جاگ کر مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا مزید خون بہنے سے روکنا چاہئے۔