ریلوے کے کرایوں میں کمی سے مسافروں کا رجحان بڑھنے لگا

ایڈیٹر  |  اداریہ

ریلوے نے ملک بھر میں برانچ لائنوں پر چلنے والی ٹرینوں کا کم از کم کرایہ 35 روپے سے کم کر کے 20 روپے کرنے سمیت مختلف ٹرینوں کے اے سی سلیپر، اے سی بزنس اور اکانومی کلاس کرایوں میں 17 سے 57 فیصد تک کی کمی کر دی ہے۔ وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے پہلے45 دنوں میں ہی ریلوے کوکچھ سنبھالا دیا ہے، جب انہوں نے ریلوے کا چارج سنبھالا تو ریلوے کی یومیہ آمدنی 10 لاکھ روپے تھی جو انہوں نے محنت کر کے ایک کروڑ تک پہنچا دی ہے۔ سابق وزیر ریلوے نے ریلوے کے کرایوں میں بے تحاشہ اضافہ کر رکھا تھا جس کے باعث مسافر ریل گاڑی کی بجائے عام ٹرانسپورٹ میں سفر کو ترجیح دیتے تھے لیکن سعد رفیق نے روڈ ٹرانسپورٹ کے کرایوں کے ساتھ ریلوے کے کرایوں کا موازنہ کر کے کرایوں میں خاطر خواہ کمی کی ہے جس کا فائدہ ریلوے کو ہو گا اور مسافر اب اس میں سفر کرنے کو ترجیح دیں گے۔ وزیر ریلوے کی محنت سے ریلوے کا شعبہ مکینیکل بھی متحرک ہو چکا ہے جس کے باعث 22 سے 24 لوکو موٹیو سسٹم پر آ گئے ہیں مستقبل میں اس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ ریلوے کا اصل سرمایہ تو مال گاڑیاں ہیں جو ہمارے ہاں گزشتہ پانچ سالوں میں تقریباً بند ہو چکی ہیں۔ وزیر ریلوے کو چاہئے کہ وہ مال گاڑیوں کی تعداد بڑھا کر انکے کرائے کم کریں تاکہ ریلوے کی آمدن میں اضافہ ممکن ہو۔ اس طرح وزرائ، ایم این ایز اور ایم پی ایز کو بھی ٹرینوں میں سفر کرانے کی کوشش کریں ۔