راولا کوٹ اور سیالکوٹ کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ اور پاکستان کا رسمی احتجاج

ایڈیٹر  |  اداریہ

بھارت کی ہٹ دھرمی اور پاکستان کی برداشت کا پیمانہ

بھارتی فوج نے کنٹرول لائن پر سب سیکٹر نینرہ پیر میں پاکستان کی سرحدی چوکی اور سیالکوٹ میں ورکنگ باﺅنڈری سے ملحقہ گاﺅں جگوال پر بلا اشتعال گولہ باری و فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں ایک فوجی جوان شہید اور ایک زخمی ہو گیا۔ پاک فوج نے بھارت کے اس اشتعال انگیز اقدام پر فوری اور بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن کی گنیں خاموش کرا دیں۔ بھارتی فوج نے حسبِ سابق پاک فوج پر فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ہفتے کی صبح ساڑھے دس بجے بھارتی فوج نے راولا کوٹ کے سب سیکٹر نینرہ پیر میں پاکستانی سرحدی چیک پوسٹ پر بلا اشتعال فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں سپاہی عاصم اقبال شہید اور نائیک محمد خان زخمی ہو گیا۔ اسی طرح بھارتی فوج نے دوسرے واقعہ میں سیالکوٹ کے قریب ورکنگ باﺅنڈری پر بھاری ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے بلا اشتعال فائرنگ کی تاہم اس فائرنگ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فائر بندی کے معاہدے کی اس خلاف ورزی پر بھارتی فوج سے ہاٹ لائین پر رابطہ کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا ہے جبکہ پاک فوج نے فلیگ میٹنگ بُلانے اور ذمہ دار بھارتی فوجیوں کے خلاف کارروائی عمل میں لانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ بھارتی فوج کی اس بلا اشتعال کارروائی سے علاقے میں خوف و ہراس پیدا ہو گیا ہے اور لوگوں نے محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت ہُوا ہے جب دونوں ممالک تعلقات کی بہتری اور تصفیہ طلب تنازعات کے حل کیلئے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں۔
 ہمارے حکمران جہاں بھارت کے ساتھ امن و آشتی سے رہنے کے راستے ڈھونڈ رہے ہیں، اس کے ساتھ تجارت کیلئے فکرمند ہیں ،اسے جنگ نہیں امن کا پیغام پہنچا رہے ہیں، اس کی جانب یکطرفہ دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں مگر اس کے جواب میں بھارت ہمیں گولیوں سے چھلنی کرنے، ہر محاذ پر شکست دینے اور ہماری سالمیت کو کمزور کرنے کا ہر حربہ اختیار کرنے پر تُلا بیٹھا ہے۔ اگر ایک خطے کے پڑوسی ممالک پُرامن بقائے باہمی کے آفاقی اصول کی بنیاد پر ایک دوسرے کی آزادی اور خود مختاری کو تسلیم کرتے ہوئے امن و آشتی سے رہ رہے ہوں اور اپنی اور عوام کی ترقی کیلئے ایک دوسرے کے ممد و معاون بن رہے ہوں تو اس خطے کی تقدیر بدل جاتی ہے مگر بدقسمتی سے ہمارا پڑوسی ملک ہمارے آزاد وجود کو دل سے قبول کرنے کو تیار ہی نہیں چنانچہ اس خطہ میں گذشتہ 65 سال سے جاری بھارتی ریشہ دوانیوں سے علاقائی ترقی اور امن و استحکام کا خواب آج تک شرمندہ¿ تعبیر نہیں ہو پایا۔ بھارتی ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 28 مئی 1998ءکو پاکستان کے ایٹمی دھماکوں نے خطے میں طاقت کے توازن کو برقراررکھا، تو وہیں بھارت کے مسلسل جارحانہ لب و لہجے اور ایل او سی کی خلاف ورزیوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی قائم رکھی، دونوں ممالک کے درمیان بنیادی تنازع مسئلہ کشمیر ہے۔کشمیر پر بھارت نے یو این قراردادوں کے باوجود اسی نیت سے تسلط جمایا رکھا۔ کشمیری عوام کو نہ صرف پاکستان کی طرف سے تحریک آزادی کیلئے حوصلہ افزائی حاصل رہی بلکہ پاکستانی عوام تا قیامت کشمیری بہن بھائیوں کے حق خودارادیت کے حق میں ڈٹے رہیں گے اس کے علاوہ کشمیر کے راستے آنے والے دریاﺅں پر غیر قانونی چھوٹے بڑے ڈیمز کی تعمیر تسلسل سے جاری ہے اور اب دریائے چناب اور سندھ پر ڈیمز کے میگا پراجیکٹس پر بھی کام کا آغاز ہو چکا ہے اس سلسلے میں دریائے چناب پر بگلیہار سے تین گنا بڑے ڈیم کی تعمیر کا بھی ٹھیکہ دے دیا گیاہے جس کے بعد دریائے چناب کا پانی شاید پاکستانی کسانوں کو قطروں کی صورت میں بھی نہیں مل سکے گا، مسلسل کشیدگی کی فضا برقرار رکھنا بھارت کا مسلسل ایجنڈا رہا ہے تاکہ اس ماحول میں یو این قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کے حل کی بات نہ ہو سکے۔ بھارت کی پاکستان دشمنی ہی اسے سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد امریکی کیمپ میں لائی ہے اور آج وہ استعماری قوتوں کا ترجمان بن کر ان کے سہارے علاقے میں اپنی تھانیداری قائم کرنے کی کوشش میں ہے۔
چونکہ پاکستان ہی بھارت کو اپنے ان عزائم کی تکمیل کی راہ میں بڑی رکاوٹ نظر آتا ہے اس لئے وہ وقفے وقفے سے پاکستان کے برداشت کا امتحان لیتا رہتا ہے،کبھی ایل او سی کی خلاف ورزی،کبھی ایک اور غیر قانونی ڈیم پر آنکھ مچولی سے منظوری،کبھی پروپیگنڈہ سے پاکستان کا نام عالمی برادری میں دہشت گردی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اچھال کرمزید میلا کرتا رہتا ہے۔ ان حقائق کے باوجود، پاکستان ایک مثبت اور مضبوط جواب دینے میں ناکام رہا ہے ۔بھارت کی طرف سے تضحیک اور طاقت کے بل پر ناانصافی ختم تب تک نہیں ہوگی جب تک پاکستان کو نہ روکے، جنرل (ر) مشرف نے اپنے دور میں یکطرفہ طور پر مسئلہ کشمیر کے حل کا چار نکاتی فارمولا پیش کر کے بھارت کے ساتھ کمپوزٹ ڈائیلاگ اور شٹل ڈپلومیسی کا سلسلہ شروع کیا جس میں سوائے ہزیمتوں کے ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کے سابق دورِ حکومت میں پورے پانچ سال تک بھارت کو پسندیدہ ترین قرار دینے کے اقدامات اٹھائے جاتے رہے اور جب ہمارے ان سابقہ حکمرانوں کی خواہش کی تکمیل کی منزل قریب آئی تو گذشتہ سال دسمبر میں کنٹرول لائن پر بھارتی فوجیوں کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کرکے اور پاکستان کی جوابی دفاعی کارروائی پر الزامات کی بوچھاڑ کر کے پاکستان کے خلاف اپنے اصل عزائم پر مبنی اپنا اصل چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیاگیا، پھر بھارت کی اپنی ہی پیدا کی گئی اس کشیدگی کو جواز بنا کر بھارتی وزیراعظم منموہن نے پوری رعونت کے ساتھ اپنا مجوزہ دورہ¿ پاکستان منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا مگر ان بھارتی عزائم اور نیت کو بھانپ کر بھی ہمارے موجودہ حکمران بھارت کے ساتھ دوستی کی خاطر تمام حدیں عبور کرنے کی ٹھانے بیٹھے ہیں۔
من موہن سنگھ اور دوسرے بھارتی حکومتی اور اپوزیشن لیڈران تو آج بھی کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے والی ہٹ دھرمی ترک کرنے کو تیار نہیں مگر وزیراعظم میاں نواز شریف پاکستان کی شہ رگ کو فراموش کرکے بھارت کے ساتھ دوستی اور تجارت کو ہی معیشت کی ترقی کا زینہ سمجھے بیٹھے ہیں جس پر چڑھنے کیلئے وہ سابقہ حکمرانوں سے بھی زیادہ بے تاب نظر آتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب بھارت کی جانب سے آج ایک شہید فوجی کا تحفہ ملا ہے توکیا پاکستان کو حق نہیں اور کیا ہمارے حکمرانوں کا فرض نہیں کہ بھارت کی لاکھ باتیں ماننے کے بجائے ایک بات اپنی بھی منوالیں۔ یقینا مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں لیکن مذاکرات کی میز پر جب شہید فوجیوں کا خون سجا ہوگا تو پاکستانی آخر بھارت سے کیا بات کرناچاہیں گے۔مذاکرات کی میز پر کشمیر کا تذکرہ ممکن نہیں ہمارے حکمرانوں کے کمزور موقف کے باعث بھارت کو کنٹرول لائن پر بار بار جارحیت کے ارتکاب کی جرا¿ت ہو رہی ہے اوروہ بھی کمپوزیٹ ڈائیلاگ سے چند ہفتے قبل۔ کیا اس سے یہی نتیجہ افزا کیاجائے کہ بھارت ڈائیلاگ کے حق میں ہے اور نہ ہی پاکستان کو اس حوالے سے خیر سگالی پیغام دینے کا خواہش مند ہے۔اگر ایسا ہوتا تو کل کی ایل او سی کی خلاف ورزی چہ معنی؟
یہ ملک کی سلامتی کے تحفظ و بقا کا معاملہ ہے جس میں قوم اپنے حکمرانوں کی جانب سے کسی لچک، نرمی یا مفاہمت کو قبول نہیں کر سکتی بالخصوص اس وقت جبکہ پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ اقتدار میں ہے ،اس کے قائدین کو بھارت کے ساتھ تعلقات کے معاملہ میں تو انتہائی محتاط ہونا چاہئے اور دشمن پر اپنی کسی کمزوری کا تاثر نہیں پیدا ہونے دینا چاہئے۔ کنٹرول لائن پر گذشتہ روز کی بھارت جارحیت پر حکومت کو بھارت کے ساتھ اور دوسرے عالمی فورموں پر محض اپنا رسمی احتجاج ہی ریکارڈ نہیں کرانا چاہئے بلکہ بھارت کی پیدا کردہ سرحدی کشیدگی کے خلاف اس پر عالمی برادری میں آواز اٹھانی چاہئے اور یہ واضح کرناچاہئے کہ بھارت دہشت گرد ریاست اور پاکستان امن پسند ملک ہے۔