بلوچستان اور سندھ کے معاہدے وزیر اعلیٰ پنجاب کیوں کر رہے ہیں

ایڈیٹر  |  اداریہ

پنجاب حکومت اور چین کی معروف کمپنی چائنہ پاور انٹرنیشنل ہولڈنگز کے مابین 2400 میگاواٹ کے 4 کول پاور پلانٹ لگانے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوگئے ہیں۔ توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے وفاق اور صوبے سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ وزیراعظم میاں نواز شریف نے حلف اٹھانے کے بعد پہلا دورہ چین کا کیا تھا، اس دورے کا مقصد توانائی بحران پر قابو پانا تھا اور وزیراعظم اپنے مقاصد میں کافی حد تک کامیاب بھی ہو گئے ہیں لیکن وزیراعظم اپنے وفد میں صوبوںمیں سے وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیراعلیٰ بلوچستان کو لیکر گئے تھے جس پر اپوزیشن نے کافی شور کیا تھا کہ وزیراعظم کے ساتھ صرف پنجاب اور بلوچستان کے وزراءاعلیٰ کا دورے پر جانا دیگر چھوٹے صوبوں کیلئے کوئی اچھا پیغام نہیں تھا۔ اب وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف چینی کمپنیوں کے ساتھ پاور پلانٹ لگانے کیلئے معاہدے کر رہے ہیں اس پر بھی اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو صرف اپنے صوبے کیلئے معاہدے کرنے کا اختیار ہے لیکن وہ بلوچستان اور سندھ میں بھی توانائی کے منصوبوں کیلئے معاہدے کر رہے ہیں، انہیں اس سے بہرصورت گریز کرناچاہئے کیونکہ حکومت مخالف عناصر کو پورے ملک پر پنجاب کی حکمرانی کا پروپیگنڈہ کرنے کا موقع ملے گا جبکہ دیگر صوبوں کیلئے کئے گئے انکے ایم او یوز چیلنج بھی ہوسکتے ہیں۔گذشتہ روز ہونے والے معاہدے میں اگر وہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کو شامل کیاجاتا تو زیادہ اچھا ہوتا کیونکہ 2400 میگا واٹ کے پلانٹ تو بلوچستان میں ہی لگنے ہیں۔