شمالی وزیرستان میں ٹرمپ دور کا دوسرا ڈرون حملہ

ایڈیٹر  |  اداریہ
شمالی وزیرستان میں ٹرمپ دور کا دوسرا ڈرون حملہ

شمالی وزیرستان میں پاک افغان بارڈر کے قریب سرحدی قصبے زوائے پر جمعرات کی درمیانی شب ایک امریکی ڈرون نے پہاڑ پر بنے ایک مکان کو نشانہ بنایا۔ بتایا گیا کہ یہ مکان طالبان کا ہیڈ کوارٹر تھا ڈرون سے دو میزائل فائر کئے گئے جس سے آگ لگ گئی۔ حملے میں کالعدم تحریک طالبان کے سات دہشت گردوں سمیت دس افراد ہلاک ہوئے۔ مرنے والوں میں تحریک طالبان کا ایک سینئر کمانڈر عبدالرحمن اور تین مزدور شامل ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے رواں سال جنوری میں عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ پاکستان کی سرزمین پر دوسرا امریکی ڈرون حملہ ہے۔ ماضی کی نسبت ڈرون حملوں میں اگرچہ خاصی کمی آ گئی ہے لیکن یہ پریکٹس پہلے کی طرح آج بھی وقفے وقفے سے جاری ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ امریکی ڈرون حملے پاکستان کے قومی وقار اور ملکی سلامتی اور خود مختاری کیخلاف ہیں۔ پاکستانی حکومت اور پارلیمنٹ انکی مخالفت کر چکی ہے اور عوامی حلقوں سے بھی ان کےخلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ اب جبکہ ہماری سکیورٹی فورسز اپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کیخلاف بلاامتیاز اپریشن میں مصروف ہیں جس سے اب تک نمایاں کامیابیاں بھی ہوچکی ہیں اس لئے ہماری سرزمین پر امریکی ڈرون حملوں کا کوئی جواز نہیں۔ اب ڈرون حملوں کا سلسلہ فی الفور اور مستقل طور پر بند کر دینا چاہیے۔