وزیرستان دھماکہ میں 3 فوجی شہید‘ پشاور ایئرپورٹ پر راکٹ حملے‘ ایئرچیف کا اپریشن کی مکمل تیاری کا عندیہ…شدت پسندوں نے مذاکرات کے ماحول کو سبوتاژ کردیا‘ اپریشن ناگزیر ہو گیا؟

ایڈیٹر  |  اداریہ
وزیرستان دھماکہ میں 3 فوجی شہید‘ پشاور ایئرپورٹ پر راکٹ حملے‘ ایئرچیف کا اپریشن کی مکمل تیاری کا عندیہ…شدت پسندوں نے مذاکرات کے ماحول کو سبوتاژ کردیا‘ اپریشن ناگزیر ہو گیا؟

شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں فوجی گاڑی الٹنے سے افسر سمیت 3 اہلکار جاں بحق 3 زخمی ہو گئے۔ بارودی سرنگ شمالی جنوبی وزیرستان کی سرحد کے قریبی علاقے میں سڑک کنارے نصب تھی جیسے ہی فوجی گاڑی گزری دھماکہ ہو گیا جس سے علاقہ لرز اٹھا۔ آئی ایس پی آر نے رات گئے واقعہ کی تصدیق کر دی۔دریں اثناء پشاور ایئرپورٹ پر گزشتہ رات نامعلوم افراد نے راکٹوں سے حملے کئے۔ ایک راکٹ رن وے دوسرا ایئرپورٹ کے باہر پشتہ خڑہ کے علاقے میں گرا۔ چمکنی میں پویس چوکی کے قریب کنستر میں رکھا گیا 70 کلو بارودی مواد برآمد کرکے علاقے کو تباہی سے بچا لیا گیا۔ طالبان نے جنگ بندی کا اعلان کیا تو بھی دہشت گردی کے واقعات ہوتے رہے لیکن وہ پہلے کی طرح شدید اور سنگین نہیں تھے۔ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد طالبان نے مذاکرات کا باب بند کرنے کا اعلان کیا اور پورے ملک میں اندوہناک کارروائیاں شروع کر دیں۔ اس دوران حکومت کا رویہ مصالحانہ رہا اور مذاکرات پر زور دیا جاتا رہا۔جنرل اشفاق پرویز کیانی کی ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل راحیل شریف آرمی چیف بنے تو دہشت گردی کے حوالے سے منظرنامے میں زبردست تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ دہشت گردی میں شہید ہونیوالے اہلکاروں کی شہادت کا ترکی بہ ترکی جواب دیا جانے لگا۔ شدت پسندوں کے ٹھکانے ٹارگٹ کئے گئے‘ اہم شدت پسند رہنمائوں کی وسیع پیمانے پر ہلاکتوں کا سلسلہ شروع ہوا تو طالبان مذاکرات پر آمادہ ہوئے۔ جنگ بندی کا اعلان بھی کر دیا گیا‘ اسکی مدت ختم ہوئی تو اس میں توسیع کرنے سے انکار کر دیا جس سے فوج بھی اپنی کارروائیوں میں آزاد ہو گئی اور اپنی پہلی کارروائی میں 24 اپریل کو خیبر ایجنسی میں جیٹ طیاروں سے بمباری کی گئی جس میں 37 شدت پسند ہلاک اور 20 زخمی ہوئے۔ مرنے والوں میں اہم کمانڈر بھی شامل تھے۔ آزاد ذرائع کے مطابق شدت پسندوں کے 11 ٹھکانے تباہ کئے گئے۔ ان ٹھکانوں میں اسلام آباد فروٹ منڈی میں دھماکہ‘ ایف آر پشاور اور چارسدہ میں پولیس حملے میں ملوث ملزم چھپے ہوئے تھے۔ اس واقعہ پر طالبان ترجمان نے محض مذمت پر اکتفا کیا اور کہا کہ حکومت سنجیدہ اور بااختیار ہو تو مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔ ملک میں امن کے قیام کیلئے مذاکرات کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے‘ یقیناً امن ہر پاکستانی کی ضرورت ہے جو مذاکرات کے ذریعے حاصل ہو جائے تو خون خرابے کی ضرورت نہیں ہے تاہم مذاکرات کیلئے فریقین کا سنجیدہ ہونا لازم ہے۔ یہ سنجیدگی عسکریت پسندوں کی طرف سے نظر نہیں آرہی۔ وہ مذاکرات پر محض اپنی بقاء کیلئے آمادہ ہوئے ہیں۔ فوج کی کارروائیاں بند ہوتی ہیں تو وہ آپس میں رابطے بہتر بناتے اور تباہی کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ اس دوران انکے حملے بھی جاری رہتے ہیں۔ اب ایک بار پھر انہوں نے اوپر نیچے فوجی اہلکاروں اور دفاعی ادارے کو نشانہ بنایا ہے۔ ایک بھی معصوم پاکستانی کا خون بہے یہ قابل قبول نہیں ہے۔ ملک کے دفاعی حصار پر زد لگانے والوں کو تو کسی صورت معاف نہیں کیا جا سکتا۔ ہر دہشت گردی کے بعد حکمران امن کو ایک اور موقع دینے کی بات کرتے ہیں جس سے دہشت گردوں کے حوصلے مزید بلند ہو جاتے ہیں۔ طالبان کمیٹی کے ارکان کا طالبان سے بظاہر تو کوئی تعلق نہیں‘ یہ خود کو طالبان کا پیغام رساں باور کراتے ہیں لیکن مطالبات میں وہ بعض اوقات طالبان سے بھی ایک قدم آگے ہوتے ہیں۔ جس دن وزیرستان میں تین اہلکاروں کو ٹارگٹ کیا اور پشاور ایئرپورٹ پر دو راکٹ حملے کئے گئے تو اسی روز طالبان کمیٹی کے ممبران اپنی اپنی بولی بولتے دکھائی دیئے۔ مولانا سمیع الحق کا کہنا تھا کہ اپریشن کا مطالبہ کرنیوالے ملک دشمن ہیں۔ مولانا کی عجب منطق ہے جو دہشت گردی کی کارروائیوں میں مسلح افواج کے اہلکاروں‘ دفاعی اداروں اور معصوم بچوں سمیت عام پاکستانی کو نشانہ بناتے ہیں کیا وہ محب وطن ہیں؟ ایسا کرنیوالوں کیخلاف اپریشن کرنیوالے ملک دشمن ہو گئے! پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ فوج کارروائیاں ترک کرکے سنجیدگی دکھائے۔ وہ فوج سے اپریشن ترک کرنے کی توقع رکھتے ہیں‘ ساتھ کہتے ہیں کہ حکومتی اور طالبان کمیٹیوں کی آرمی چیف سے ملاقات کرائی جائے۔ پاک فوج مذاکرات کا حصہ نہیں بنتی تو حکومت پر اعتماد کرے۔ طالبان کمیٹی کے کوآرڈینیٹر یوسف شاہ کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں ڈیڈلاک نہیں ہے‘ انہوں نے دو تین روز میں کمیٹیوں کے مابین مذاکرات کے انعقاد کی توقع ظاہر کی ہے۔ مذاکرات کیلئے جس ماحول کی ضرورت ہوتی ہے‘ وہ موجودہ حالات میں ناپید ہے۔ طالبان کی مذاکرات میں نمائندگی کرنیوالے آرمی چیف سے ملاقات کے متمنی ہیں‘ جب آپ دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے‘ اہلکاروں کو دھماکوں میں اڑائیں گے تو اگلے دن آرمی چیف کے ساتھ ملاقات میں کیسا ماحول ہو گا؟بہرحال آرمی چیف سعودی عرب روانہ ہو گئے ہیں!
 پاکستان کی مشکلات آج بھی کوئی کم نہیں ہیں‘ ان میں ممکنہ طور پر پڑوسی ممالک میں سیاسی تبدیلیوں سے اضافہ ہو سکتا ہے۔ بھارت اور افغانستان میں انتخابات آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔ دونوں ممالک کے ساتھ پاکستان کی سرحدوں پر گرماگرمی رہتی ہے۔ بھارت میں مودی کے اور افغانستان میں عبداللہ عبداللہ کے جیتنے کے امکانات ہیں‘ دونوں کیلئے پاکستان قابل برداشت نہیں ہے۔ عبداللہ عبداللہ کسی بھی سابق حکمران سے زیادہ بھارت نواز ہیں۔ پڑوس میں سیاسی تبدیلیوں سے قبل پاکستان کا اندرونی استحکام ضروری ہے جس کیلئے سب سے بڑا خطرہ دہشت گردی اور دہشت گرد ہیں۔ انکے ساتھ حتمی مذاکرات کیلئے وقت بہت کم ہے۔ اگر طالبان اپنی روایت کے مطابق سنجیدگی سے مذاکرات پر آمادہ نہیں ہوتے تو اپریشن کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہتا۔ حکومت نے جو فیصلہ مزید نقصان کے بعد کرنا ہے‘ آج ہی کرلے جس کیلئے فوج تیار اور شدت پسند خوفزدہ نظر آتے ہیں‘ جس کا اظہار انکی طرف سے غیرملکی شدت پسندوں کی حفاظت سے معذوری کا اظہار کرکے کیا ہے۔ ایئرچیف طاہر رفیق بٹ نے کہا ہے کہ حکومت جو بھی ٹاسک دیگی‘ پورا کرینگے۔ پاک فضائیہ طالبان کے ساتھ ہر اپریشن کیلئے پوری طرح تیار ہے۔ ایئرفورس کی تیاری اور مہارت کا مظاہرہ قوم دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ملیامیٹ ہوتے دیکھ چکی ہے۔ قوم کو پاک افواج کی مہارت پر ذرہ بھر بھی شک نہیں۔اب صرف حکومت کو سیاسی مصلحتوں سے نکلنے کی ضرورت ہے۔