وزارتِ مذہبی امورِ حج درخواست سکینڈل کا نوٹس لے

ایڈیٹر  |  اداریہ
وزارتِ مذہبی امورِ حج درخواست سکینڈل کا نوٹس لے

حج 2014ء کیلئے سرکاری سکیم میں حج درخواستوں کی وصولی کے سکینڈل کا انکشاف ہوا ہے۔ 6 قومی کمرشل بنکوں میں وفاقی وزارتِ مذہبی امور کی ’’پہلے آئو پہلے پائو‘‘ سکیم کو 21 اپریل 2014ء کو ہی فارم جاری کر کے ناکام بنا دیا ہے۔
حکومت نے حج کیلئے ’’پہلے آئو پہلے پائو‘‘ فارمولے کا اعلان کیا تھا، وزرارتِ مذہبی امور کے مطابق اس فارمولے کے تحت سفارش کلچر ختم ہو کر میرٹ پر مستحق افراد حج کا مقدس فریضہ ادا کر سکیں گے لیکن قومی کمرشل بنکوں اور پرائیویٹ حج کمپنیوں نے مقررہ تاریخ سے قبل ہی فارم جاری کر دئیے تھے اور 21 اپریل دن 11 بجے تک ساری درخواستیں جمع بھی ہو گئی تھیں حالانکہ طے شدہ شیڈول کے مطابق 21 اپریل کو فارم جاری ہونے تھے۔
بعض حج گروپ آرگنائزر نے ریگولر سکیم میں اپنے درخواست دہندگان شامل کرادیئے ہیں جن کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے حالانکہ ان کا کوٹہ صرف 68 ہزار افراد کا تھا۔ وزارتِ مذہبی اب موصول شدہ درخواستوں کو مسترد مت کرے بلکہ ان سب درخواستوں کی قرعہ اندازی کی جائے تاکہ کسی سے کوئی زیادتی نہ ہو۔
 حج ایک مذہبی فریضہ ہے‘اس میں تو دو نمبری نہ کی جائے۔ اس سے قبل سابق وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی اور رائو شکیل ابھی تک تفتیش کا سامنا کر رہے ہیں، موجودہ افراد ان سے کچھ تو عبرت پکڑتے۔ اللہ کے مہمانوں کے ساتھ ہیرا پھیری کرنا عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ وزارتِ مذہبی امور ابھی سے تفتیش کر کے حج درخواست سکینڈل میں ملوث افراد کو کیفرِ کردار تک پہنچائے اور جتنے بھی درخواست دہندگان ہیں اگر ممکن ہو تو سب کو حج پر بھیج دیں یا پھر قرعہ اندازی کریں تاکہ مستحق افراد کو ان کا حق مل سکے۔