غیر ملکی جنگجوئوں کو گرفتار کرکے انکے ملک واپس بھیجا جائے

ایڈیٹر  |  اداریہ
غیر ملکی جنگجوئوں کو گرفتار کرکے انکے ملک واپس بھیجا جائے

 قبائلی علاقوں میں غیرملکی جنگجوئوں کو شام جانے سے روکنے کیلئے زبردست سکیورٹی کارروائی کی جا رہی ہے۔ غیرملکی جنگجوئوں کو شام میں جاری بغاوت میں حصہ لینے سے روکنے کیلئے یہ کارروائی کی جا رہی ہے۔ ہتھیار ڈالنے اور گرفتاری دینے والے غیرملکی جنگجوئوں کو انکے ممالک میں بھیج دیا جائیگا جبکہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والوں کو حراست میں رکھا جائیگا۔
 تحریک طالبان نے پاکستان غیرملکی جنگجوئوں کی حفاظت سے متعلق کمزوری ظاہر کرتے ہوئے انہیں کہا کہ وہ اپنی ذمہ داری پر جہاں مرضی جائیں اور وہ خود اپنے لئے بندوبست کریں۔ تحریک طالبان پاکستان کے اس اعلان کے بعد غیرملکی جنگجوئوں کو باہر جانے سے روکنے کیلئے سخت کارروائی جاری ہے۔
حکومت پاکستان طالبان کے ساتھ مذاکرات کر کے امن قائم کرنے کی خواہاں ہے لیکن کچھ غیر ملکی جنگجو مذاکرات کرنا نہیں چاہتے اور وہ غیر ملکی جنگجو ملک شام میں جاری بغاوت کا حصہ بننے کیلئے پاکستان سے جا رہے ہیں ہمارے سکیورٹی اداروں کو چاہیے کہ ان شدت پسندوں کو گرفتار کرکے انہیں انکے جرائم کے مطابق سزا دے۔ ہمارے ملک کے امن و امان کو جن شدت پسندوں نے خراب کیا ہے‘ انہیں یہاں سے بھاگنے نہیں دینا چاہیے بلکہ انہیں گرفتار کرکے انکے جرائم کے مطابق سزا دی جائے اور جو شدت پسند ہمارے امن میں دخل اندازی نہیں کر رہے‘ انہیں گرفتار کرکے انکے ملکوں میں سکیورٹی فورسز کے حوالے کیا جائے تاکہ متعلقہ ممالک کو بھی اس بات کا احساس ہو کہ انکے شہری کس طرح دنیا میں امن غارت کرنے کے درپے ہیں۔ یہ شدت پسند اگر شام جاتے ہیں اور ہمارے سکیورٹی ادارے انہیں نہیں روکتے تو پھر دنیا میں یہ تاثر ابھرے گا کہ پاکستان ان جنگجوئوں کو شام میں لڑنے کیلئے بھیج رہا ہے۔ لہٰذا القاعدہ کے لوگ ہوں یا کسی اور شدت پسند تنظیم سے تعلق رکھنے والے جنگجو انہیں آزادانہ گھومنے پھرنے کی اجازت بالکل نہیں دینی چاہیے کیونکہ یہ لوگ اگر شام جاکر لڑتے ہیں تو مریں گے وہاں بھی ہمارے مسلمان بھائی کیونکہ شدت پسندوں کا ایک ہی ایجنڈہ ہے‘ لہٰذا انکے مقاصد کو کسی جگہ بھی پورا نہیں ہونے دینا چاہیے۔