پاکستان کو آسٹریلیا کیخلاف فتح مبارک

ایڈیٹر  |  اداریہ
پاکستان کو آسٹریلیا کیخلاف فتح مبارک

پاکستان نے آسٹریلیا کو شکست دے کر تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 1-0سے برتری حاصل کر لی ۔ مصباح اینڈ کمپنی نے کنگروز کھیل کے تینوں شعبوں میں آؤٹ کلاس کرتے ہوئے 221 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دے کر ناقدین، ماہرین و مبصرین کے تمام اندازوں کو غلط ثابت کر دیا۔ پاکستان کی ٹیم تنازعات اور بحرانوں کے سائے میں متحدہ عرب امارات گئی تھی۔ جاتے ہی اس کا ناکامیوں نے استقبال کیا۔ 20, 20  میچ اور ون ڈے سیریز میں آسٹریلیا کی کلین سویپ کے بعد کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم پانچ روزہ میچ میں اتنے شانداز انداز میں کم بیک کریگی۔ آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ میچ جیتنا خاصہ مشکل ہوتا ہے۔ کنگروز سارا سال ہاٹ کرکٹ کھیلنے میں مصروف رہتے ہیں۔ ان حالات میں پاکستانی کھلاڑیوں کا آسٹریلیا کیخلاف میچ جیتنا لائق تحسین ہے۔ پاکستان کی طرف سے نوجوان کھلاڑیوں نے بھی شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا۔ اسد شفیق، اظہر علی، ذوالفقار بابر، سرفراز احمد، یاسرشاہ، عمران خان اور احمد شہزاد نے صلاحیت کا بھرپور اظہار کیا اور اپنی کارکردگی سے ٹیم کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ مصباح الحق نے رنز بھی کئے اور کامیاب قائد بھی قرار پائے۔ قومی ٹیم کے بلے بازوں نے دونوں اننگز میں بھرپور کارکردگی دکھائی اور مہمان ٹیم کو دبائو میں رکھا اور ہمارے گیند بازوں نے وکٹیں حاصل کیں۔ کھلاڑیوں کی پرفارمنس اپنی جگہ لیکن اس کامیابی کے دولہا بلاشبہ تجربہ کار بلے باز یونس خان ہیں جنہوں نے دونوں اننگز میں سنچری سکور کرکے مخالف ٹیم کو تو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا ساتھ ہی پاکستان کرکٹ بورڈ میں ’’یونس خان مخالف‘‘ لابی کو بھی بھرپور جواب دیا اور پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ سنچریاں بنانے کے ریکارڈ پر بھی قبضہ جما لیا۔ یونس خان باصلاحیت تجربہ کار اور محب وطن کھلاڑی ہیں۔ اگر اس فارم اور فٹنس والے کھلاڑی کو بھی نظرانداز کرنا کرکٹ بورڈ کے پالیسی سازوں کی دور اندیشی ہے تو پھر بااختیار افراد کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنا ہو گی۔ آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں کامیابی پر تمام کھلاڑی اور کوچنگ سٹاف مبارکباد کا مستحق ہے۔