خیبر ایجنسی اپریشن میں اہم کامیابی

ایڈیٹر  |  اداریہ
خیبر ایجنسی اپریشن میں اہم کامیابی

خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں گذشتہ روز 20 دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے، کارروائی میں دہشتگردوں کے پانچ ٹھکانے بھی تباہ کر دئیے گئے جبکہ بھاری تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ کیا گیا۔ ہلاک ہونے والوں میں کالعدم لشکر اسلام کا ایک اہم کمانڈر ملک طاہر بھی شامل ہے۔ اس کارروائی کے بعد باڑہ میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
سکیورٹی فورسز کی جانب سے شمالی وزیرستان کے اپریشن ضربِ عضب کیساتھ ساتھ گزشتہ دس روز سے خیبر ایجنسی میں بھی اپریشن جاری ہے جسے خیبرون کا نام دیا گیا ہے۔ خیبر ایجنسی بشمول باڑہ گنجان آباد علاقے ہونے کے باعث سکیورٹی فورسز کو اپریشن کے دوران یقیناً مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ عام شہری اور بے گناہ لوگ بھی اس اپریشن کی زد میں آ سکتے ہیں تاہم یہ خوش آئند صورتحال ہے کہ سکیورٹی فورسز مشاقی کیساتھ اس اپریشن کے مراحل بھی لے کر رہی ہیں جن میں اب تک بیسیوں دہشتگردوں کی ہلاکتوں اور انکے محفوظ ٹھکانوں کی تباہی کی صورت میں سکیورٹی فورسز کی نمایاں کامیابیاں بھی حاصل ہوئی ہیں۔ گذشتہ روز کے اپریشن سے یقیناً دہشتگردوں کے حوصلے پست ہوئے ہونگے اور اگر اسی جذبے اور رفتار کیساتھ دہشت گردوں کے تمام ٹھکانوں پر اپریشن جاری رہا جس کیلئے حکومت اور عسکری قیادتیں پُرعزم بھی ہیں تو اس سے قوم کی دہشت گردی کے ناسُور سے خلاصی یقینی ہو سکتی ہے۔ اپریشن ضربِ عضب کے دوران شمالی وزیرستان سے فرار ہونیوالے دہشت گردوں نے بھی خیبر ایجنسی اور ملک کے دوسرے علاقوں میں پناہ لے رکھی ہے جن کیخلاف بروقت اور مؤثر اپریشن سے ہی انکے حوصلے پست کئے جا سکتے ہیں بصورت دیگر وہ محفوظ ٹھکانوں میں منظم ہو کر اپریشن ضربِ عضب کے ثمرات بھی ضائع کر سکتے ہیں۔ اگر سکیورٹی فورسز نے یکسوئی کے ساتھ دہشت گردوں کیخلاف اپریشن جاری رکھا تو اس سے فی الواقع ان کی کمر ٹوٹ جائے گی۔