بھارتی جارحیت کے سامنے پاکستان کا دفاعی طرز عمل قطعاً مناسب نہیں

ایڈیٹر  |  اداریہ
 بھارتی جارحیت کے سامنے پاکستان کا دفاعی طرز عمل قطعاً مناسب نہیں

کشمیر پر بھارتی تسلط کے 67 سال‘ کشمیریوں کا دنیا بھر میں یوم سیاہ اور لندن ملین ماچ میں تحریک انصاف کی ہلڑبازی

مقبوضہ کشمیر پر قبضے کے 67 سال مکمل ہونے پر کل جماعتی حریت کانفرنس کی اپیل پر گزشتہ روزریاست جموں و کشمیر کے دونوں حصوں اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیریوں نے بھارت کیخلاف یوم سیاہ منایا۔ 27اکتوبر  1947ء کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں فوج داخل کر کے قبضہ کر لیا تھا۔ یوم سیاہ کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال رہی جلسے جلوس اور مظاہرے کئے گئے۔ حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی گیلانی نے مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد بھارتی انتخابی عمل مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات حق خود ارادیت کا متبادل نہیں ہیں۔ علی گیلانی نے لندن مارچ کو ایک بروقت قدم قرار دیا۔ وفاقی وزیر امور کشمیر وگلگت بلتستان برجیس طاہر نے کہا ہے کہ بھارت مسائل کا مذاکرات کے ذریعے حل نہیں چاہتا، بھارت کھربوں ڈالر کا اسلحہ کس لئے خرید رہا ہے، وزیراعظم نے 26ستمبر کو جنرل اسمبلی میں بھارتی امیدوں پر پانی پھیرا تو اس نے 30ستمبر کو ورکنگ بائونڈری پر فائرنگ کا سلسلہ شروع کردیا۔ بھارت باز نہ آیا تو اینٹ کا جواب پتھر سے دینگے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے حقوق کیلئے آزادی کی تحریک لڑنے والے کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی و سفارتی حمایت کرتا رہے گا۔ جماعۃالدعوہ کے سربراہ حافظ محمد سعید نے کہا کہ کشمیری پاکستان کی سالمیت کی جنگ لڑ رہے ہیں‘ انہیں کسی صورت بھارت کے ظلم و ستم کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستانی قوم تحریک آزادی میں کشمیریوں کے ساتھ قدم سے قدم اور کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے، مظلوم کشمیریوں کو حق خودارادیت ملنے تک جنوبی ایشیا میں کسی صورت امن قائم نہیں ہو سکتا۔
 67 برس سے مقبوضہ کشمیر پر جاری بھارتی فوجوں کے جبر و تسلط کے دوران کشمیری قائدین کے بقول پانچ لاکھ کشمیری باشندے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ کشمیری باشندوں پر بھارتی ظلم و جبر کی بے شمار مثالیں دنیا کے سامنے موجود ہیں۔اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی پامالی اسی مقبوضہ وادی میں ہوتی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تسلط اور بھارتی فوجوں کے مظالم کیخلاف بھارتی عوام اور دانشور بھی صدائے احتجاج بلند کرتے رہتے ہیں۔ خاتون بھارتی دانشور ارون دھتی رائے نے تو اپنے ایک مضمون کے ذریعے بھارتی حکمرانوں کو یہ بھی باور کرا دیا تھا کہ تاریخی اور جغرافیائی اعتبار سے کشمیر کبھی بھارت کا حصہ نہیں رہا اس کی توثیق عالمی بنک کے نقشہ میں بھی کی گئی ہے جس میں مقبوضہ کشمیر کو بھی پاکستان کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔بھارت کی سیاست میں تیزی سے پاپولر ہونیوالی عام آدمی پارٹی کے سربراہ کجریوال نے بھی کشمیریوں کی آزادی کی بات کی تو بنیاء ذہنیت نے انہیں عبرت کا نشان بنا دیا ۔گزشتہ انتخابات میں ان کو صدائے حق بلند کرنے کا بدترین شکست کی صورت میں خمیازہ بھگتنا پڑا۔
کشمیری جہاں اپنی آزادی کیلئے جانوں کی قربانی سے دریغ نہیں کرتے‘ وہیں وہ عالمی برادری کے سامنے بھارتی فوج کے مظالم بے نقاب کرنے اور حق خودارادیت کیلئے بھی کوشاں رہتے ہیں۔ پاکستانی دنیا کے ہر گوشے میں کشمیریوں کے ہمقدم ہوتے ہیں۔ گزشتہ روز لندن میں مسئلہ کشمیر کو عالمی برادری کے سامنے بھرپور طریقے سے اجاگر کرنے کیلئے لندن میں ملین مارچ کیا گیا۔ اس میں پاکستانی کمیونٹی نے زبردست شرکت کی۔ خواتین اور بچوں کے ساتھ بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو بھی کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کیلئے موجود تھیں۔ بھارت نے ملین مارچ کو ناکام بنانے کیلئے پوری کوشش کی۔ وزیر خارجہ سشما سوراج خود لندن گئیں۔ سفارتکاری کو بروئے کار لایا گیا لیکن بھارت کی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔ البتہ بلاول بھٹو کے خطاب کے دوران ہلڑ بازی دیکھنے میں آئی‘ جس سے انہیں اپنا خطاب نامکمل چھوڑ کر روانہ ہونا پڑا۔ اس بدتمیزی کا ذمہ دار تحریک انصاف کے کارکنوں کو قرار دیا جا رہا ہے اور عمران خان کے بھانجے حسن نیازی کو تو اس مارچ کے دوران سٹیج پر ہنگامہ آرائی اور بوتلیں پھینکنے پر حراست میں بھی لیا گیا جنہیں بعدازاں رہا کر دیا گیا۔ یہ حرکت جس پاکستانی نے بھی کی شرمناک ہے۔ آپ کے ملک کے اندر سیاسی اختلافات ہو سکتے ہیں۔ لندن میں ملین مارچ جیسے قومی ایشو پر آزادی اظہار کے نام پر ہلڑبازی قابل مذمت ہے۔ اگر یہ حرکت تحریک انصاف کے کارکنوں کی ہے تو عمران خان کو اس کا ضرور نوٹس لینا چاہیے کہ اس سے پاکستان کے کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔
کشمیر ایشو ہی وہ واحد تنازعہ ہے جس پر پاکستان اور بھارت کے مابین تقسیمِ ہند کے وقت سے ہی کشیدگی جاری ہے جبکہ بھارت پاکستان پر دو جنگیں بھی مسلط کر چکا ہے، سقوطِ ڈھاکہ کی شکل میں اس کا ایک بازو بھی کاٹ چکا ہے اور باقی ماندہ پاکستان کی سالمیت کے بھی درپے ہے۔ بھارت کی جانب سے گذشتہ کم و بیش ایک سال سے جاری کنٹرول لائن کی خلاف ورزیوں اور پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر بلا اشتعال فائرنگ کے سلسلے میں تیزی آگئی ہے۔ ایک ماہ کے دوران ورکنگ بائونڈری کے پار اس کی شر انگیزی سے خواتین اور بچوں سمیت 16افراد جاں بحق ہوئے۔نقل مکانی کرنے والوں تعداد ہزاروں میں ہے۔ایک طرف بھارت لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پر گولہ باری میں پہل کا الزام پاکستان پر لگاتا ہے دوسری طرف یہ بھی کہتا ہے کہ پہلے ہم نے ڈھال پکڑی ہوئی تھی‘ پاکستان کو سبق سکھانے کیلئے اب تلوار اُٹھالی ہے۔یہ طرفہ تماشہ ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اور کنٹرول لائن پر مسلسل جارحیت کا ارتکاب بھی کر رہا ہے اور ’’اْلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے‘‘ کے مصداق دراندازی کے الزامات بھی پاکستان پر دھرے جا رہا ہے۔ اسی طرح بھارت میں دہشت گردی کی جو بھی واردات ہوتی ہے وہ اس کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے میں ذرہ برابر نہیں چوکتا جس کا مقصد کشمیری عوام کی قربانیوں سے لبریز اور صبر آزما جدوجہد سے دنیا کی نگاہیں ہٹانے کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔
بھارت نے آئے روز کی سرحدی خلاف ورزیوں کے ذریعے پاکستان کیخلاف غیر اعلانیہ جنگ بھی شروع کر رکھی ہے جبکہ وہ عالمی برادری میں بھی پاکستان کو تنہا کرنے کی سازشوں میں مصروف ہے اس صورتحال میں ہمارے پاس یہی چارۂ کار رہ گیا ہے کہ بھارتی جارحیت کے توڑ کیلئے اپنے دفاع کو ہر لحاظ سے مضبوط کیا جائے اور عالمی سطح پر کشمیری عوام کے کاز کے حق میں بھرپور آواز اٹھائی جائے۔ کشمیر بلاشبہ پاکستان کی شہ رگ ہے جس کے بغیر پاکستان کا وجود مکمل نہیں ہوتا بلکہ اس کی سالمیت کو بھی مسلسل خطرہ لاحق ہے۔ کشمیری عوام بھارتی تسلط کیخلاف یومِ سیاہ منا کر اور عالمی برادری میں اپنی آواز بلند کرنے کے دوسرے راستے اختیار کر کے جدوجہدِ آزادی کومنزلِ مقصود تک پہنچانے کی تگ و دو میں مصروف ہیں اس لئے پاکستان کو بھی بغیر کسی لگی لپٹی کے اور تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر کشمیریوں کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونا چاہئیے۔
وزیراعظم نوازشریف نے گزشتہ ماہ یو این جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں اپنے خطاب کے دوران مسئلہ کشمیر پر کھل کر بات کی تاہم پاکستان واپسی پر انہوں نے بھارتی جارحیت پر دفاعی طرزعمل اختیار کرلیا۔ کشمیریوں نے وزیراعظم کے مذکورہ خطاب پر خراج تحسین پیش کیا تھا۔ نریندر مودی‘ ارون جیٹلی جیسی بڑی ہندو قیادت کے جارحانہ بیانات پر وزیراعظم نوازشریف کی خاموشی سے کشمیری عوام اور محب وطن پاکستانی مایوسی کا شکار ہیں۔ فوج کی طرف سے بھارتی قیادت کے جارحانہ بیانات کا پاک فوج کی قیادت ترکی بہ ترکی جواب دے رہی ہے۔ یہ جواب سیاسی قیادت کی طرف سے بھی آئے تو بہتر ہوگا جس سے کشمیر کی آزادی کی خاطر بھارت کی آٹھ لاکھ سفاک سپاہ سے برسرپیکار کشمیریوں کے حوصلے بلند ہونگے۔