یوم تکبیر کو قومی دن کے طور پر منانے میں کیا امر مانع ہے؟

ایڈیٹر  |  اداریہ
یوم تکبیر کو قومی دن کے طور پر منانے میں کیا امر مانع ہے؟

ایٹمی قوت پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کا دفاع ناقابل تسخیرتو ہو گیا‘ اندرونی استحکام کیلئے بھی فول پروف پلاننگ کی جائے

ملک خداداد کو اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی قوت بنے آج 17 برس ہو گئے۔ ملک کی بقاء و سلامتی کی ضامن اس ایٹمی قوت کے حصول کے پس پردہ موجود قومی جذبے اور جذبات کو ہمہ وقت تروتازہ رکھنے کیلئے قوم ہر سال  28 مئی کو روایتی جوش و جذبے کے ساتھ یوم تکبیر مناتی ہے۔ آج ملک کا 17واں یوم تکبیر بھی پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کی سرخوشی میں اور پاکستان کی سالمیت کیخلاف شروع دن سے گھنائونی سازشوں میں مصروف ازلی اور روایتی دشمن کو یہ احساس دلانے کیلئے منایا جا رہا ہے کہ وہ ہمیں ترنوالہ نہ سمجھے۔ یوم تکبیر کی مرکزی تقریب آج  ایوان کارکنانِ لاہور میں حسب سابق منعقد ہو رہی ہے جس میں وطن عزیز کو ایٹمی قوت سے سرفراز کرنیوالے وزیراعظم میاں نوازشریف کو مدعو کیا گیا تھا مگر مصروفیات کے باعث وہ تشریف نہیں لا رہے۔ انہوں نے کہا کہ انکی نمائندگی گورنر پنجاب رفیق رجوانہ کرینگے۔ آج یوم تکبیر کی تقریب کے مہمان خصوصی گورنر پنجاب ہونگے اور صدارت سابق صدر مملکت رفیق تارڑ کرینگے۔ یہاں ہمیں دکھ بھرے جذبات کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ یہ تقریب اپنے آغاز کے پہلے سال سے لے کر گزشتہ سال تک جناب مجید نظامی کی زیر صدارت ہوا کرتی تھی‘ آج وہ ہم میں نہیں ہیں۔ پہلی بار یوم تکبیر کی پرشکوہ تقریب معمار نوائے وقت جناب مجید نظامی مرحوم کی عدم موجودگی میں منائی جا رہی ہے۔ آج کی تقریب میں وطن عزیز کو درپیش چیلنجوں کے تناظر میں ملک کی ایٹمی ٹیکنالوجی کے تحفظ و توسیع کے تقاضوں پر روشنی ڈالی جائیگی اور یوم تکبیر کی اہمیت کو اجاگر کیا جائیگا۔
پاکستان کے حصول کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ خطے کے مسلمان اپنی زندگی اسلامی اصولوں کے مطابق گزار سکیں۔ کانگرسی قیادت کی یہ کوشش تھی کہ برصغیر سے جاتے ہوئے انگریز اقتدار ہندو اکثریت کے حوالے کرکے جائیں۔ قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں آل انڈیا مسلم لیگ کا مسلمانوں کیلئے الگ مملکت کے قیام کا مطالبہ تھا۔ شدت پسند ہندو تقسیم ہند کو گئوماتا کے ٹکڑے کرنے سے تعبیر کرتے تھے۔ کانگرس کی پوری کوشش کے باوجود قائداعظم کی قیادت میں جدوجہد سے پاکستان معرض وجود میں آگیا جس کے وجود کو ہندو لیڈر شپ شروع دن سے برداشت نہیں کر پارہی۔ قیام پاکستان کے پہلے روز سے اسے عدم استحکام سے دوچار کرنے کی پلاننگ شروع ہو گئی تھی۔ کشمیر پر قبضہ اور 1971ء میں پاکستان کو دولخت کرنا اسی پلاننگ اور سازش کا شاخسانہ ہے۔
پاکستان نہایت پرامن ملک ہے‘ اسکے کبھی کسی پڑوسی کیخلاف جارحانہ عزائم نہیں رہے جبکہ بھارت کا معاملہ اسکے برعکس ہے۔ اس نے 16 دسمبر 1971ء کو سازش اور فوجی طاقت کے ذریعے مشرقی پاکستان کو الگ کر دیا۔ اس کیلئے مغربی پاکستان بھی قابل برداشت نہیں تھا۔ سقوط ڈھاکہ کے تین سال بعد 1974ء میں اس نے خود کو مزید مضبوط بنایا۔ روایتی اسلحہ کے انبار تو وہ پہلے ہی لگا رہا تھا‘ وہ ایٹمی قوت کے حصول کے خبط میں بھی مبتلا ہو گیا۔ اس نے پوکھران میں ایٹمی دھماکہ کرکے پاکستان کیخلاف اپنے مذموم عزائم کا اظہار کر دیا۔ پاکستان کبھی بھارت کے ساتھ اسلحہ کی دوڑ میں شامل نہیں رہا تاہم اپنی بقا کیلئے جو بھی ممکن تھا کرنا مجبوری تھی۔  مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے 1974ء میں بھارتی ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان کی جانب سے ایٹمی توانائی کے حصول کی منصوبہ بندی کو عملی شکل دی اور یہ اعلان کرکے دشمن کی صفوں میں کھلبلی پیدا کی کہ ہم گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم ضرور بنائیں گے۔ انہوں نے اس مقصد کیلئے ہالینڈ میں موجود نوجوان پاکستانی ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی خدمات حاصل کیں۔ انہیں سنٹری فیوجز کے حصول پر مامور کیا جنہوں نے ایٹمی سائنس دانوں کی مستعد ٹیم کی معاونت سے ملک کو ایٹمی قوت سے ہمکنار کرنے کا کارنامہ سرانجام دے دیا جبکہ میاں نواز شریف کو 28 مئی 1998ء کو چاغی کے مقام پر ایٹمی بٹن دبا کر وطن عزیز کے ایٹمی قوت بننے کا اعلان کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ یہ اعزاز بلاشبہ سالہا سال کی جدوجہد کا ثمر ہے۔ وزیراعظم نوازشریف پر مقامی اور عالمی سطح پر دھماکے نہ کرنے کا دبائو تھا۔ امریکی صدر بل کلنٹن نے 5 ارب ڈالر میاں نوازشریف کے ذاتی اکاوئنٹ میں جمع کرانے کی پیشکش کی جسے انہوں نے ٹھکرا دیا۔3 مئی 1998ء کو بھارت کی طرف سے کئے گئے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں اگر اس وقت میاں نواز شریف امریکی صدر کلنٹن کی پاکستان کو عالمی تنہائی میں پہنچانے کی دھمکیوں سے مرعوب ہو کر یا پانچ ارب ڈالر کی پیشکش قبول کرکے 28 مئی کو ایٹمی دھماکے نہ کرتے تو اندھی طاقت کے نشے میں جھومتا ہمارا یہ دشمن پڑوسی ملک ہمیں صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے اب تک نہ جانے کیا کیا اقدامات اٹھا چکا ہوتا۔ میاں نوازشریف کو ایٹمی دھماکے کرنے کی ہمت بھی امام صحافت مجید نظامی کے اس دھمکی آمیز تاریخی فقرے نے بندھائی تھی کہ ’’میاں صاحب! آپ دھماکہ کر دیں ورنہ قوم آپ کا دھماکہ کر دیگی‘ میں آپ کا دھماکہ کر دوں گا‘‘ ورنہ میاں نوازشریف نے تو بھارتی دھماکوں کے بعد 25 دن شش و پنج میں پڑے اپنے مصاجین سے مشاورت میں گزار دیئے تھے۔
آج پاکستان کا جغرافیائی سرحدوں کے حوالے سے دفاع پاکستان کے ایٹمی قوت ہونے کے ناطے ناقابل تسخیر ہو چکا ہے مگر اندرونی طور پر دشمن ہمیں عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش میں ہے۔
بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردوں اور بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی کررہی ہے۔ کراچی کے حالات بگاڑنے میں بھی اس کا ہاتھ ہے۔ سیاسی و عسکری قیادت کے پاس ’’را‘‘ کی  پاکستان میں مداخلت کے ثبوت موجود ہیں جن کو عالمی برادری کے سامنے رکھنا چاہیے۔ ساتھ ’’را‘‘ کی سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے فول پروف پلاننگ بھی ناگزیر ہے۔ ’’را‘‘ کے حکام تو دور بیٹھے ہیں‘ اسکے فنڈڈ لوگ یہاں اودھم مچائے ہوئے ہیں انکی گردن دبوچنے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہیے۔ کالاباغ ڈیم کو دشمن کی سازش پر سیاسی ایشو بنا دیا گیا۔ پاک چین راہداری کو بھی متنازعہ بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اگر کالاباغ ڈیم اور راہداری کو متنازعہ بنانے کے پیچھے دشمن کا ہاتھ ہے تو اسے نہ صرف سیاسی و عسکری قیادت بے نقاب کرے بلکہ کسی مصلحت اور دبائو کو خاطر میں لائے بغیر ایسے ملک دشمنوں کو عبرت کا بھی نشان بنا دے۔
وزیراعظم میاں نوازشریف بجا طور پر پاکستان کو ایٹمی قوت سے سرفراز کرنے کا کریڈٹ لیتے ہیں۔ یہاں سوال یہ ہے کہ میاں نوازشریف یوم تکبیر کی اہمیت کو کس خوف کے باعث نظرانداز کررہے ہیں۔ یوم تکبیر سرکاری سطح پر منانے کا اہتمام کیوں نہیں کیا گیا۔ کیا اس سے بھارت ناراض ہو جائیگا جس کو پسندیدہ ملک قرار دینے کا سر پر بھوت سوار ہے۔
آج اصولاً یوم تکبیر کی قومی اور سرکاری سطح پر سب سے بڑی تقریب ہونی چاہیے تھی۔ یوم تکبیر کی حکمرانوں کے نزدیک اہمیت کا اندازہ اس سے لگالیں کہ آج ایک راہداری پر تحفظات دور کرنے کیلئے فضول اے پی سی بلائی گئی ہے۔