امریکہ کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کی حمایت

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ لڑنے کے بجائے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا بہتر ہے۔ ایتھوپیا کے طلبہ سے گفتگو کے دوران طالبان سے بات چیت کے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اگر امریکہ وسعت ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسروں کی اتھارٹی کو تسلیم کرے، تو دنیا میں نائن الیون سے پہلے والا امن قائم ہو سکتا ہے۔ امریکہ مطلوب افراد کو پکڑنے کے طریقہ کار کو ترجیح دے اس سے بے گناہ افراد کا خون نہیں ہو سکے گا۔ امریکی وزیر خارجہ اپنی غلطیاں تسلیم کر رہے ہیں انہیں اپنی غلطیوں کو سامنے رکھ کر ڈرون کو بھی مکمل بند کر دینا چاہئے۔ جان کیری نے طالبان سے مذاکرات کی بات کی ہے جبکہ پاکستان میں چند دنوں تک بننے والی حکومت بھی طالبان سے مذاکرات کرنے کا اعلان کر چکی ہے جس سے بادی النظر میں طالبان کے مضبوط ہونے کا پیغام جائیگا اس لئے بہتر یہ ہے کہ امریکہ اور پاکستان باہمی مشاورت سے کوئی حکمت عملی طے کرکے پہلے طالبان کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کریں اور پھر ان سے مذاکرات کی بات کی جائے۔ اگر طالبان ہتھیار ڈال کر مذاکرات پر آمادہ ہوں‘ اس سے امن کی بحالی میں مدد مل سکتی ہے۔ بصورت دیگر انکے ہاتھوں حکومتی رٹ چیلنج ہوتی رہے گی اور قیام امن کی منزل بھی حاصل نہیں ہو پائے گی تو اس صورت میں بھی کوئی متبادل جامع منصوبہ بندی تیار رکھنی چاہیے۔ امریکہ کے افغانستان کے انخلاءکے بعد یہ لازم نہیں کہ طالبان پاکستان پر حملے روک دیں‘ آخر ان کا بار بار یہ کہنا کہ وہ پاکستانی جمہوریت کو گناہ سمجھتے ہیں اور پاکستان ریاست سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتے‘ امریکہ کی افغانستان میں حماقتوں سے تعلق نہیں رکھتا۔ اصل جیت پاکستان کے ان عناصر سے پاکستان کی سالمیت اور ریاست کے قیام کو تسلیم کرانا ہے‘ ورنہ پاکستان اپنی جڑوں کو خود ہی کمزور کرنے کے درپے ہے۔