امریکہ میں مقیم مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک میں اضافہ

ایڈیٹر  |  اداریہ
امریکہ میں مقیم مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک میں اضافہ

امریکہ میں گزشتہ برس 50 فیصد مسلمانوں کو امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ 74 فیصد مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان کے ساتھ رویہ دوستانہ نہیں۔ کچھ مسلمان خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ پیور ریسرچ سنٹر کی رپورٹ ۔
امریکہ میں ٹرمپ حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد مسلمانوں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ پہلے ہی دہشت گردی کے حوالے سے امریکہ سمیت پورے مغرب میں مسلمانوں کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ موجودہ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی سیاسی مہم کی بنیاد ہی مسلم دشمن رویہ پر رکھی۔ صدر منتخب ہونے کے بعد کئی مسلمان ممالک کے شہریوں پر پابندی لگائی کہ وہ امریکہ داخل نہیں ہو سکتے۔ اس طرح ملازمتوں، رہائش اور پناہ گزینوں کے مسئلہ پر بھی ان کا مسلم دشمنی پر مبنی رویہ سب کے سامنے ہے۔ وہ مسلمانوں اور مسلم ممالک کو دہشت گرد سمجھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ امریکی انتظامیہ اور عوام بھی مسلمانوں کے ساتھ رویہ میں تعصب برتنے لگے ہیں۔ اس کا اظہار امریکی ادارے پیور ریسرچ سینٹر کی اس رپورٹ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ خواتین نے تو کھلم کھلا اس بات کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ میں مسلمانوں کا رہنا اب بہت مشکل ہو گیا ہے وہ وہاں کھل کر اپنے مذہبی عقائد پر عمل پیرا نہیں ہو سکتیں۔ امریکی میڈیا بھی مسلمانوں کے ساتھ اس امتیاز پر رائے عامہ کو بیدار کرنے میں مکمل ناکام نظر آتا ہے جس کی وجہ سے وہاں مسلمانوں کے مصائب میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے تدارک کیلئے مسلم ممالک کو مل کر آواز بلند کرنا ہو گی۔