وزیراعظم کا دہشت گردوں سے کوئی رعایت نہ کرنے کا عزم

ایڈیٹر  |  اداریہ
وزیراعظم کا دہشت گردوں سے  کوئی رعایت نہ کرنے کا عزم

وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ جنہوں نے پورے معاشرے کو یرغمال بنا رکھا ہے پاکستان کو ایسے گمراہ کن عناصر سے پاک کر دیا جائیگا۔ گذشتہ روز کراچی میں فضائیہ کے نگران جہاز قراقرم ایگل کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی کے ہاتھ میں ناجائز اسلحہ برداشت نہیں کیا جائیگا، جہاں بھی مسلح ملیشیا ہیں انہیں نہیں چھوڑا جائیگا۔ انکے بقول اسلحہ اب (ریاست) قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھ میں ہو گا۔ دہشتگرد بھول جائیں کہ انکے ساتھ کوئی رعایت کی جائیگی۔
ملک کو پُرامن خوشحال بنانا اور بلا امتیاز ہر شہری کی جان و مال کا تحفظ کرنا ریاست ہی کی بنیادی آئینی ذمہ داری ہے چنانچہ جن ہاتھوں میں امور مملکت چلانے کی ذمہ داری ہوتی ہے ان کا پُرعزم ہونا اور خوش اسلوبی سے اپنے فرائض منصبی نبھانے کے اہل ہونا ضروری ہے، اگر حکومت کی گورننس بہتر ہو اور تمام حکومتی اور ادارہ جاتی معاملات پر اسکی گرفت مضبوط ہو تو کسی کو بندوق اٹھا کر حکومتی ریاستی اتھارٹی کو چیلنج کرنے کی جرأت نہ ہو مگر بدقسمتی سے یہاں سیاسی مجبوریوں اور مفادات کے پیش نظر مصلحتوں اور سمجھوتوں کی حکومت ہوتی رہی ہے، نتیجتاً حکمران جماعتیں اپنے اقتدار کے تحفظ کی خاطر ایک دوسرے کو سہولت دینے کی مجبوری کے تابع ان ساری خرابیوں سے صرفِ نظر کرتی رہی ہیں جو بالآخر حکومتی رٹ کی کمزوریوں کی نوبت لاتی ہیں۔ کراچی کے گذشتہ آٹھ دس سال سے دگرگوں حالات حکومتوں کی ایسی ہی پالیسیوں کا ساخشانہ ہیں جن میں وہاں بھتہ خوروں، ٹارگٹ کلرز اور دوسرے بدقماش عناصر کو کھل کھیلنے کا موقع ملتا رہا۔ ریاستی اتھارٹی کو چیلنج کرنیوالے یہ عناصر آج اتنے منظم اور مضبوط ہو چکے ہیں کہ کراچی میں گذشتہ ڈیڑھ سال سے جاری ٹارگٹڈ اپریشن کے ذریعے بھی ان کا مؤثر سدباب نہیں ہو سکا، اسی طرح دہشتگردی کے دوسرے عوامل کے سدباب کیلئے بھی حکومت تذبذب کا شکار رہی اور دہشتگردوں سے مذاکرات کی پالیسی اختیار کر کے حکومت نے اپنی اتھارٹی کی کمزوری کا تاثر دیا۔ اب اپریشن ضرب عضب کے تحت عسکری قیادتیں ملک کو دہشتگردی کے ناسُور سے خلاصی دلانے کے عزم کی تکمیل پر کاربند ہیں اور کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔ اگر یہی پالیسی شروع دن سے اختیار کی جاتی تو کسی فردِ واحد یا گروپ کے ذہن میں بندوق کے زور پر خود کو ریاست سے برتر سمجھنے کا خناس پیدا نہ ہوتا۔ اب وزیراعظم ریاستی اتھارٹی کو دہشتگردوں سے تسلیم کرانے کے عزم کا اظہار کر رہے ہیں تو انہیں اس پر سختی سے کاربند رہ کر بالخصوص کراچی اپریشن کو بلا امتیاز کارروائی کے تحت منطقی انجام تک پہنچانا چاہئے۔ اگر حکومتی اتھارٹی کی کمزوری کا تاثر قائم رہے گا تو یہاں حکومتی ریاستی اتھارٹی کا نہیں‘ دہشت گردوں کا ہی راج ہو گا۔