لاہور ہائیکورٹ کا ایکسپریس وے اور سگنل فری منصوبہ روکنے کا حکم

ایڈیٹر  |  اداریہ
لاہور ہائیکورٹ کا ایکسپریس وے اور  سگنل فری منصوبہ روکنے کا حکم

لاہور ہائیکورٹ نے لاہور میں ایکسپریس وے منصوبہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ عوامی نکتہ نظر سے صحت اور تعلیم اہم شعبے ہیں جنہیں ترجیح دی جانی چاہئے جبکہ ایکسپریس وے جیسے منصوبے اتنی اہمیت کے حامل نہیں۔ یہ منصوبے عام حالات کے تحت بھی تعمیر کئے جا سکتے ہیں۔ دریں اثناء عدالت عالیہ نے قرطبہ چوک سے لبرٹی چوک تک سگنل فری منصوبے کیخلاف دائر رٹ درخواست میں بھی یہ منصوبہ روکنے کا حکم دے دیا۔
بلاشبہ صحت‘ تعلیم‘ روزگار اور سفری سہولتوں سمیت عوام کی تمام ضروریات پوری کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے جس کیلئے حکومتیں اپنے بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے رقوم مختص کرتی ہیں۔ شہریوں کو صحت اور تعلیم کی اچھی سہولتوں کی ضرورت ہے جو اس وقت ناپید ہو چکی ہیں۔ ایسی حکومتی پالیسیاں قومی صحت اور صحت مند معاشرے کیساتھ کھلواڑ کرنے کے مترادف ہوتی ہیں اگر حکومت اور ادارہ جاتی معاملات اور ترقیاتی منصوبوں میں بے ضابطگیاں ہوں تو عدلیہ ہی وہ مجاز اتھارٹی ہے جو حکومتی شاہ خرچیوں اور بے ضابطگیوں کے آگے بند باندھ سکتی ہیں۔ تاہم عوام کی فلاح اور سہولت کیلئے کسی جاری منصوبہ کو اس بنیاد پر روکنا کہ یہ اولین ترجیحات میں شامل نہیں ہونا چاہئے‘ مناسب نظر نہیں آتا۔ ایکسپریس وے کے منصوبے کے ذریعے اگر لاہور کے شہریوں کے سفری مسائل میں کمی ہوتی ہے تو یہ منصوبہ بھی اتنا ہی سودمند ہو سکتا ہے جتنا دوسرے ترقیاتی کاموں کی عوام کو ضرورت ہے۔ اگر اس منصوبے میں کسی بے ضابطگی کی نشاندہی ہوتی ہے تو اسکے ازالہ کیلئے عدلیہ ہی مجاز فورم ہے اس لئے کسی بھی ترقیاتی منصوبے کو جاری رہنے دیا جائے سوائے اسکے کہ اس میں کوئی بے ضابطگی ثابت نہ ہو جائے۔ پنجاب حکومت کے پاس عدالت عالیہ کے اس فیصلہ کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا حق موجود ہے اس لئے توقع کی جانی چاہئے کہ حکومت اپنے قانونی مشیروں کے ذریعے عدالت عالیہ کے فیصلہ کیخلاف مضبوط کیس تیار کرائے گی۔