بھارت کو منہ توڑ جواب دینا ہی وقت کا تقاضا ہے

ایڈیٹر  |  اداریہ
بھارت کو منہ توڑ جواب دینا ہی وقت کا تقاضا ہے

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ روز سیالکوٹ ورکنگ بائونڈری کا دورہ کیا اور وہاں تعینات فوجی جوانوں سے ملاقات کی۔ آرمی چیف نے ورکنگ بائونڈری کے قریب رہنے والے لوگوں سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے فوجی جوانوں اور مقامی افراد کے بلند حوصلے اور عزم کو سراہا۔ آرمی چیف نے کہا ہے کہ قوم اور پاک فوج وطن عزیز کے دفاع کیلئے متحد ہے۔ بھارت کی طرف سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی سے علاقائی استحکام متاثر ہو رہا ہے۔ بھارتی فوج کی فائرنگ کا مقصد دہشتگردی کیخلاف آپریشن سے توجہ ہٹانا ہے۔ کوئی خوش فہمی میں نہ رہے، بلااشتعال فائرنگ کا منہ توڑ جواب دیا جائیگا۔ جنرل راحیل شریف نے سرحدی علاقوں میں تعینات جوانوں کی تیاری پر انہیں داد دی۔ آرمی چیف نے سیالکوٹ کینٹ اور بھارت کی طرف سے بلااشتعال گولہ باری سے متاثرہ دیہات کا بھی دورہ کیا۔
دہشتگردوں کیخلاف پاک فوج نے گزشتہ سال جون کے وسط میں اپریشن ضرب عضب شروع کیا تو اسکی عوامی و سیاسی حلقوں میں پذیرائی ہوئی۔ حکومت کی طرف سے بھی اس اپریشن کو اون کیا گیا مگر دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے جس عزم‘ ارادے‘ اتحاد‘ یکجہتی و یگانگت کی ضرورت تھی‘ اس کا حکومتی صفوں میں فقدان تھا۔ ایک حلقہ واضح طور پر دہشتگردوں کیساتھ مذاکرات کا حامی تھا۔ دہشت گردوں کی طرف سے فوج نے مذاکرات کی بھد اڑتی دیکھ لی تھی۔ ایک طرف یہ لوگ مذاکرات کی بات کر رہے تھے‘ دوسری طرف دہشتگردی کی کارروائیاں بھی جاری رکھے ہوئے تھے۔ مذاکراتی عمل کیلئے پیشرفت کے دوران ہی انکی طرف سے 23 فوجیوں کو ذبح کرکے انکے سروں سے فٹبال کھیلا گیا۔ فوج کا مذاق اڑانے کیلئے اسکی ویڈیو بھی جاری کر دی گئی۔ ایسے بھیانک سانحہ پر بھی انکے ساتھ مذاکرات کے مشورے دیئے گئے جس پر فوج خاموش رہی تاہم کراچی ایئرپورٹ میں داخل ہو کر دہشتگردوں نے جس طرح قتل و غارت کی اور دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا‘ اس پر فوج کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ اسکے بعد فوج نے شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے اپریشن ضرب عضب شروع کر دیا۔ بادی النظر میں اس اپریشن میں فوج دہشتگردوں کیخلاف تنہا نظر آتی تھی‘ ایسا لگتا تھا کہ حکمران محض تماشا دیکھ رہے ہیں۔ 16 دسمبر کے دلدوز سانحہ پشاور میں سفاک دہشتگردوں نے سکول میں داخل ہو کر جس بہیمانہ طریقے سے خونریزی کی‘ اسکی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ جہاں سینکڑوں بچوں پر بے رحمی سے بارود و آہن برسایا گیا جس سے اساتذہ اور عملے سمیت ڈیڑھ سو بچے گولیوں سے چھلنی ہو کر شہید ہوئے اور اتنے ہی زخموں سے چور ہسپتالوں میں پہنچ گئے۔ اس اندوہناک سانحہ پر ہر پاکستانی دکھی اور مغموم تھا۔ اس دکھ نے دہشتگردوں کیخلاف جہاں حکومتی صفوں میں اتحاد پیدا کیا‘ وہیں قوم بھی مزید کمٹمنٹ کے ساتھ فوج کے شانہ بشانہ ہو گئی۔
حکمران جماعت اور دیگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے فوج کے ساتھ مثالی اظہار یکجہتی دیکھنے میں آیا۔ یہ لوگ جذبات کی رو میں بہتے نظر آئے۔ دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے فوج نے جو بھی اقدامات تجویز کئے‘ سیاسی قیادتوں نے یک زبان ہو کر حمایت کی۔ فوجی عدالتوں کیلئے آئین میں متفقہ ترمیم کی گئی‘ فوج کے مشورے پر مرکزی حکومت نے قومی ایکشن پلان کی منظوری دی اور اس پر عمل کا آغاز بھی کردیا۔ دہشت گردوں کی پھانسیوں پر معطلی کا حکم واپس لے کر ان کو تختہ دار پر لٹکانے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ 16 دسمبر کی جذباتی فضا میں حکومت کی طرف سے جو فیصلے کئے گئے اور اقدامات اٹھائے گئے‘ وہ آج سست روی کا شکار ہیں۔ہر روز وزیراعظم اور انکے ساتھیوں کی طرف سے دہشتگردوں کے خاتمے‘ ان کو کہیں بھی نہ چھوڑنے‘ انکے سہولت کاروں کا قلع قمع کرنے کے اعلانات ہوتے ہیں‘ عملی طور پر ایسا نظر نہیں آتا۔ فوجی عدالتیں تشکیل پا چکی ہیں مگر ان عدالتوں میں مقدمات کی سماعت کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ دہشت گردوں کو پھانسیاں ایک بار پھر التواء کا شکار ہیں جس سے دہشتگردوں کے حوصلے پھر بڑھ رہے ہیں جس کا نتیجہ گزشتہ دنوں دہشتگردی کی پے در پے وارداتوں کی صورت میں قوم دیکھ چکی ہے۔
دہشتگردی کیخلاف جنگ دہشتگردوں کی پناہ گاہیں اور نرسریاں ختم اور انکے پشت پناہوں اور سہولت کاروں کو نکیل ڈالے بغیر جیتنا ممکن نہیں۔ اس کیلئے حکومت کو اندرونی کے ساتھ ساتھ بیرونی محاذ پر بھی فعال‘ متحرک اور سرگرم ہونا چاہیے تھا۔ حکومت کی دونوں محاذوں پر کوتاہ اندیشی نظر آتی ہے۔ شاید اہلیت ہی اتنی ہے البتہ پاک فوج دونوں محاذوں پر سرگرم ضرور ہے۔ دہشتگردوں کی بیرونی ممالک سے بھی پشت پناہی ہوتی ہے۔ افغانستان میں پاکستان کو مطلوب دہشتگرد پناہ گزیں ہیں۔ آرمی چیف اور ڈی آئی ایس آئی 16 دسمبر کے بعد متعدد بار افغانستان گئے۔ افغان انتظامیہ کا رویہ سابق حکمران حامد کرزئی کی نسبت مثبت‘ اطمینان بخش اور حوصلہ افزا ہے‘ بہت سے معاملات افغانستان میں آج بھی امریکہ طے کرتا ہے۔ مولوی فضل اللہ کی حوالگی کے حوالے سے امریکی رویے کو دوستانہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ادھر بھارت بھی ضرب عضب کو ناکام بنانے پر تلا ہوا ہے۔ آرمی چیف نے سرحدی علاقے کے دورے پر اس کا اظہار بھی کیا ہے۔ اس سے قبل ڈی جی‘ آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ بھی بھارت کی پاکستان میں مداخلت کی بات کر چکے ہیں۔ انہوں نے تو بھارت کو مداخلت سے باز رہنے کی تنبیہہ بھی کی تھی۔ وزیراعظم نوازشریف اور وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خان نے بھی پاکستان میں دہشتگردوں کے پیچھے بھارتی ہاتھ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ ڈی جی ،آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر اپنے دورہ امریکہ کے دوران سی آئی اے کے ہیڈکوارٹرگئے جہاں انکی امریکی خفیہ ادارے کے ڈائریکٹرجان برینن سے ملاقات ہوئی جس میں دہشتگردی کیخلاف جنگ میں دوطرفہ انٹیلی جنس شیئرنگ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔  ملاقات میں پاکستان میں جاری بھارتی مداخلت سے بھی جنرل رضوان اختر نے سی آئی اے چیف کو آگاہ کیا۔ گویا اب بھارت کی پاکستان میں مداخلت‘ دہشت گردوں کی پشت پناہی بالکل واضح ہو چکی ہے۔
ہماری فوجی قیادت لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پر بھارت کی اشتعال انگیز کارروائیوں کو دہشت گردوں کیخلاف اپریشن ضرب عضب کو ناکامی سے دوچار کرنے کا شاخسانہ قرار دے چکی ہے۔ ہر بھارتی شرارت اور شرپسندی پر منہ توڑ جواب دینے کی بات کی جاتی ہے۔ بھارت پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرتا۔ اسکے حکام کی طرف سے پاکستان میں دہشتگردوں کی پشت پناہی کا اعتراف کیا جاتا ہے۔ کیا اب اس بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کا وقت نہیں آگیا جو پاکستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتا ہے جس کے پاک فوج اور سیاسی حکومت کے پاس ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں جو ہر دو قیادتوں کی طرف سے امریکہ کو پیش کر دیئے گئے ہیں۔ امریکہ بھارت کو باز رہنے کو نہیں کہتا تو اسے پھر اب منہ توڑ جواب دینے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہیے۔ بھارت دہشت گردی کے ذریعہ پاکستان کی سالمیت کمزور کرنا چاہتا ہے تو دہشتگردوں کو نکیل ڈالنا بھی افواج کی ذمہ داری ہے۔ بھارت کو دوٹوک جواب دینا ہی وقت کا تقاضا ہے۔