مفتی اعظم سعودی عرب کی خلیجی ممالک کی دولت پر قابض ہونے سے متعلق دشمنوں کی سازشوں کی نشاندہی ایران اور سعودی عرب کے درمیان اچھے تعلقات کی امید

مفتی اعظم سعودی عرب کی خلیجی ممالک کی دولت پر قابض ہونے سے متعلق دشمنوں کی سازشوں کی نشاندہی ایران اور سعودی عرب کے درمیان اچھے تعلقات کی امید


مفتی اعظم سعودی عرب شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ الشیخ نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک میں فرقوں کے درمیان فسادات وہاں کی دولت پر قبضہ کرنے کیلئے کرائے جا رہے ہیں جبکہ ایران خلیج میں حالات کی خرابی کا ذمہ دار نہیں۔ عاشورہ محرم کے موقع پر اپنے خطبہ میں مفتی اعظم سعودی عرب نے ایران کو خلیج میں بدامنی کا ذمہ دار قرار دینے کی مذمت کی اور خلیجی عوام کو تلقین کی کہ وہ بدامنی سے باز رہیں۔ سعودی اخبار ”الوطن“ کے مطابق مفتی اعظم سعودی عرب نے کہا کہ عرب خلیجی خطے کو نشانہ بنانے کا مقصد مذہب کو بدنام کرنا اور خطے میں موجود مادی مفادات اور دولت کو تقسیم کرنا ہے اس لئے خطے کے عوام دشمنوں کی پیروی نہ کریں جو انہیں احتجاجی مظاہروں پر اکساتے ہیں۔ انہوں نے سٹیلائٹ چینلز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ چینلز بُرائی کو نشر کرتے ہیں۔ انہوں نے چینلز مالکان پر زور دیا کہ وہ ملکی قوانین کی پاسداری کریں اور اپنے چینلز کو سیکورٹی کے فروغ کیلئے استعمال کریں۔
مفتی اعظم سعودی عرب نے عاشورہ محرم کے دوران خلیجی ممالک میں فرقہ ورانہ فسادات کی نشاندہی کرکے انتشار کا شکار مسلم دنیا کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا ہے اور دوٹوک الفاظ میں باور کرایا ہے کہ مسلم دنیا کی دولت اور وسائل پر قابض ہونے کیلئے امتِ واحد میں فرقہ واریت‘ لسانی‘ گروہی اور فروعی اختلافات کو ہوا دے کر انتشار و افتراق کی راہ ہموار کرنا ایک باقاعدہ منصوبہ بندی ہے جبکہ انہی اختلافات کی بنیاد پر مسلمان ایک دوسرے کے گلے کاٹ کر دینِ اسلام کے رواداری اور انسانیت کی سلامتی کے پیغام کو بٹہ لگا رہے ہیں۔ یقیناً فرقہ واریت کی بنیاد پر ہی برادر اسلامی ممالک سعودی عرب اور ایران کے مابین اختلافات کی خلیج حائل رہی ہے جبکہ فرقہ واریت ہی طویل ترین ایران عراق جنگ پر منتج ہوئی تھی جس میں دونوں برادر مسلم ممالک کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا جبکہ دنیا کو یہ کہنے کا بھی موقع ملا کہ مسلمان خود آپس میں بھی تحمل‘ برداشت اور رواداری سے کام نہیں لے سکتے۔ نائن الیون کے واقعہ کے بعد دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر عراق اور افغانستان پر حملہ اور اسکے بعد قبضہ حالیہ تاریخ میں مثال ہے کہ مسلمان ممالک کثیر تعداد کے باوجود کوئی موثر اپوزیشن نہ افغان جنگ کیخلاف اکٹھی ہو سکی اور نہ عراق کیلئے۔ ان دونوں ممالک کے حکمرانوں کے اقتدار کی بساط لپیٹ کر کٹھ پتلی حکومتیں قائم کی گئیں اور دونوں ممالک میں نہ صرف لاکھوں عام شہری شہید ہوئے‘ بلکہ انفراسٹرکچر اور معیشت بھی تباہ کرکے رکھ دی گئی۔ عراق جنگ کے بعد امریکی فوجی حکام نے اعتراف کیا کہ عراق میں ایسے کوئی کیمیکل ہتھیار موجود نہیں تھے جن سے امریکی سلامتی کو خطرے کی بنیاد پر عراق پر جنگ مسلط کی گئی تھی۔اس پر بھی نہ مسلمان ممالک نے کوئی حکمت عملی طے کی اور اب جبکہ بغیر تفتیش و ٹرائل پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون ایک بٹن کی کمانڈ پر مبینہ ”شدت پسندوں“ کو ٹارگٹ کر رہے ہیں‘ اس وقت بھی ڈرونز کیخلاف پاکستان کے شانہ بشانہ مسلمان ممالک کا اتحاد دور دور تک نظر نہیں آتا۔ مفتی اعظم کا یہ کہنا درست ہے کہ مسلمانوں کے درمیان انتشار پیدا نہیں ہونا چاہیے لیکن عوام کو جابر سلطان کیخلاف احتجاج سے روکنا اس زمرے میں نہیں آتا۔ جہاں خلیجی ریاستوں میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے‘ وہیں ان کا حل محض فتویٰ نہیں بلکہ ان افراد کے شکوے شکایات‘ حکمرانوں کے کھلے دل سے سننے اور ایمانداری سے حل کرنے کی کوشش سے ہی ممکن ہے۔ عرب ریاستوں میں عوامی بیداری سے پیدا ہونیوالی لہر بھی جہاں مثبت پیشکش معلوم ہوئی‘ وہیں چند مہینوں بعد یہی محسوس کیا جا رہا ہے کہ ایک آمر کو ہٹا کر ایک نیا آمر پایا۔ مسلمان ممالک کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نہ صرف مسلمانوں کیخلاف ہر قسم کا جھوٹا پروپیگنڈہ بھی ہوا بلکہ مسلمان ممالک بھی ترقی اور خوشحالی کی توجہ تو کجا‘ اس پروپیگنڈہ کیخلاف بھی موثر اتحاد نہ قائم کر سکے۔
بدقسمتی سے مسلم دنیا کی قیادتیں بھی اپنی آمریتوں‘ بادشاہتوں اور فرمانروائیوں کو قائم رکھنے اور طول دینے کی خاطر مصلحتوں اور مفاہمتوں کا شکار ہو ئی جبکہ فرقہ واریت کی لعنت نے بھی اسلام دشمن قوتوں کو اپنے مقاصد کیلئے مسلمان کو ایک دوسرے سے برسر پیکار رکھنے کا نادر موقع ملا۔ اگر مسلم دنیا اپنے مذہبی‘ فروعی اختلافات کو پس پشت رکھ کر مذہبی رواداری کو فروغ دینے کیلئے باہم متحد ہو جائے تو تیل‘ گیس‘ کوئلے اور قیمتی دھاتوں کی شکل میں موجود وسائل کو ایک دوسرے کے تعاون سے بروئے کار لا کر مسلم دنیا امریکہ کے مقابلے کی سپرپاور بن سکتی ہے جس کی نشاندہی گزشتہ ہفتے ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے بھی اسلام آباد میں ڈی ایٹ کانفرنس کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کے دوران کی ہے۔
مفتی اعظم سعودی عرب نے اپنے خطبہ¿ حج کے موقع پر بھی مسلم دنیا کو اسی تناظر میں دوٹوک پیغام دیا تھا کہ وہ مصلحتوں کے لبادے اتار کر اتحادِ امت کی بنیاد رکھے اور اپنے وسائل غیروں کے ہاتھوں میں دینے کے بجائے خود بروئے کار لائے۔ یہی پیغام ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے بھی مسلم دنیا کو انتشار کے باعث بننے والی قوتوں کو یہ باور کراکے دیا کہ حضرت نبی¿ آخرالزمان نہ شیعہ تھے‘ نہ سنی تھے‘ وہ رحمت اللعالمین تھے اس لئے ان کا دین بھی پوری کائنات کیلئے سلامتی اور رحمت کا دین ہے چنانچہ انکے اسوہ¿ حسنہ پر عمل پیرا ہو کر مسلم دنیا اتحاد و یکجہتی کی علامت بن سکتی ہے۔
اگر مسلم دنیا کے قائدین کو یہ احساس ہو چکا ہے کہ فرقہ واریت اور دوسرے اختلافات کو صرف مسلم دنیا کو منتشر رکھنے کی سازش ہی سمجھی جا سکتی ہے تو یقیناً یہی وقت ہے کہ مسلم دنیا کے اتحاد کیلئے عملی پیش رفت کی جائے۔ اس مقصد کیلئے چاہے او آئی سی اور عرب لیگ ہو یا ڈی ایٹ تنظیم ہو‘ اگر ان پلیٹ فارموں کو مسلم دنیا کے اتحاد و یگانگت کیلئے اپنے باعمل کردار پر مجبور کیا جائےگا اور زبانی جمع خرچ سے نکل کر عملی اقدامات بھی اٹھائے جائینگے تو کوئی وجہ نہیں کہ مسلم دنیا اپنے پاﺅں پر کھڑے ہو کر اسلام کی نشاة ثانیہ کے احیاءکی صورت میں اپنی کھوئی ہوئی عظمت دوبارہ حاصل نہ کر سکے۔ اس سلسلہ میں مفتی¿ اعظم سعودی عرب اور ایران کے صدر نے مسلم دنیا میں فرقہ ورانہ فروعی اختلافات کو ختم کرنے کیلئے امید کی جو کرن پیدا کی ہے‘ مسلم دنیا کی قیادتوں کو اسے اب اپنے عملی اقدامات کے ذریعے روشن اجالے میں تبدیل کرنا چاہیے اور دنیا میں مسلمان ممالک کو ترقی پذیر ممالک کی اولین صف میں کھڑا کرنے کا عزم کرنا چاہیے۔ دنیا کے تمام مسلمانوں کیلئے ایسا اتحاد روشن مستقبل اور آزاد زندگی کی ضمانت ثابت ہو سکتا ہے۔