ٹیکس قوانین پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے

ایڈیٹر  |  اداریہ
ٹیکس قوانین پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے

میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کی چوری کو منی لانڈرنگ قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ دانستہ غلط ٹیکس گوشوارے جمع کروانے پر تین سال قید اور ایک لاکھ روپیہ جرمانہ ہو گا۔ نوٹیفیکشن کے مطابق ٹیکس انوائسز میں رد و بدل اور کسی دوسرے شخص کا ٹیکس نمبر استعمال کرنا بھی منی لانڈرنگ کا جرم تصور ہو گا۔ مروجہ قوانین میں انکم ٹیکس اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے موجود سقم دور کرنا وقت کی ضرورت تھی۔ تاکہ قومی دولت غیر قانونی طریقوں سے بیرون ملک نہ جا سکے۔ اکتوبر 2013 ءمیں اس وقت کے گورنر سٹیٹ بنک یاسین انور کے ایک بیان کے مطابق نو بلین ڈالر سے زائد رقم بیرون ملک منتقل ہوئی۔ یہ سب اس لئے ممکن ہوا کہ قانون میں ٹیکس چوری کرنے اور منی لانڈرنگ کرنے والوں کے لئے قانون میں آسانیاں اور چور دروازے موجود ہیں۔ غیرقانونی طریقوں سے قومی دولت باہر لے جانے اور انکم ٹیکس بچانے والوں کا راستہ روکنا اور چور دروازوں کو بند کرنا ضروری ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت نے ایف بی آر ان لینڈ ریونیو اینڈ انٹیلی جنس کو منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا اختیار بھی دے دیا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے لئے سزائیں بھی تجویز کی گئی ہیں۔ تحقیقات میں رکاوٹ اور ریکارڈ تک رسائی نہ دینا بھی منی لانڈرنگ کے زمرے میں آئے گی۔ اپوزیشن جماعتوں نے انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کو منی لانڈرنگ قرار دینے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اسے باہمی افہام و تفہیم سے حل کیا جائے اور ضروری ہے کہ حکومت اپنے بنائے قوانین پر عملدرآمد بھی یقینی بنائے۔