16گھنٹے کی لوڈشیڈنگ عوام بلبلا اٹھے

ایڈیٹر  |  اداریہ
16گھنٹے کی لوڈشیڈنگ عوام بلبلا اٹھے

لاہور سمیت مختلف شہروں میں طویل لوڈشیڈنگ جاری‘ عوام کی زندگی اجیرن بن گئی کئی شہروں میں احتجاج‘ روزہ دار گرمی کے باعث بے ہوش‘ حکومت نے عوام سے مُنہ موڑ لیا ہے۔
موجودہ حکومت نے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے نام پر ووٹ لیے تھے‘ وزیراعظم میاں نوازشریف ہر شہر میں جلسے کے دوران لوگوں کو مخاطب کرکے پوچھتے تھے کہ آپ کے علاقے میں کتنے گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے عوام کے بتانے پر میاں صاحب کہتے تھے کہ آپ ہمیں ووٹ دیں ہم لوڈشیڈنگ ختم کردیں گے۔ اندھیرے ختم ہوجائیں گے، چار سُو روشنی ہوگی‘عوام نے ووٹ دئیے تو لوڈشیڈنگ کے حوالے سے انکے شب و روز مزید تاریک ہوگئے ہیں۔زرداری دور میں لوڈشیڈنگ کا ایک شیڈول تھا آج کل وہ بھی نہیں دیہی علاقوں میں عوام روزے کے ساتھ حکومت کو بددعائیں دے رہے ہیں رمضان المبارک سے قبل حکومت نے بڑے طمطراق سے اعلان کیا تھا کہ سحری اور افطاری میں لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی لیکن سحری اور افطاری دونوں وقت گھر میں اندھیرا چھایا ہوتا ہے۔ حکومت نے 2018ءمیں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا اعلان کررکھا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ موجودہ سسٹم زیادہ لوڈ برداشت ہی نہیں کرسکتا۔ اس وقت یکساں لوڈمینجمنٹ کی ضرورت ہے۔ حکومت تمام علاقوں میں یکساں لوڈشیڈنگ کا شیڈول جاری کرے اور عوام کو احتجاج پر مجبور مت کرے۔