پاکستان بھارت سرحدی محافظوں میں سیزفائر لائن پر مشترکہ گشت پر اتفاق....کشمیر پر پاکستان کے مو¿قف سے دستبرداری کی بنیاد تو نہیں رکھی جا رہی ؟

ایڈیٹر  |  اداریہ

پاکستان بھارت سرحدی محافظوں کے اجلاس کے دوسرے روز سرحدی حکام نے دونوں ممالک کے مابین سزا پوری کرنیوالے قیدیوں کی واپسی اور سرحدوں پر غیرقانونی نقل و حمل روکنے کیلئے مشترکہ گشت پر اتفاق کیا۔ رینجرز ہیڈکوارٹرز لاہور میں گزشتہ روز منعقدہ اس اجلاس میں سرحد سے متعلق معاملات‘ سمگلنگ کی روک تھام‘ بلااشتعال فائرنگ اور سرحد کے آرپار غیرقانونی تعمیرات جیسے مسائل پر تفصیلی تبادلہ¿ خیال کیا گیا۔ بھارتی بارڈر و سکیورٹی فورس اور پاکستان رینجرز حکام کے مابین یہ اجلاس پانچ روز تک جاری رہے گا جس میں پاکستانی ٹیم کی قیادت ڈی جی رینجرز میجر جنرل طاہر جاوید خان اور بھارتی ٹیم کی قیادت ڈی جی پی ایس سبھاش جوشی کر رہے ہیں۔ اس اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ کل 28 دسمبر کو جاری ہو گا۔ گزشتہ روز کے اجلاس میں دونوں جانب سے ہاٹ لائن رابطے کو مزید مو¿ثر بنانے پربھی اتفاق ہوا۔ اس سے قبل دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کے مابین 14 سال بعد ہونیوالی ملاقات میں دونوں اطراف سے سیزفائر لائن برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
یہ حقیقت اپنی جگہ درست ہے کہ چھ دہائیوں سے زیادہ عرصہ سے جاری پاکستان بھارت کشیدگی نے ان دونوں ممالک کی معاشی اور اقتصادی ترقی کی راہ میں ہی رکاوٹیں کھڑی نہیں کیں‘ علاقائی اور عالمی امن کو بھی سخت خطرات سے دوچار کیا ہے۔ اگر پڑوسی ممالک پرامن بقائے باہمی کے فلسفہ کے تحت امن و آشتی کی فضا کو پروان چڑھا رہے ہوں تو یہ پالیسی ملکی‘ قومی اور علاقائی امن و استحکام کی ضمانت بنتی ہے۔ اس سلسلہ میں پڑوسی ممالک باہم مل بیٹھ کر اپنے تنازعات اور مسائل حل کرنے کی راہ اختیار کریں تو انکی سالمیت کو کوئی بیرونی خطرہ بھی لاحق نہیں ہو سکتا۔ اگر قیام پاکستان کے بعد بھارت کی جانب سے پرامن بقائے باہمی کے اسی فلسفہ کی بنیاد پر پاکستان کی آزاد اور خودمختار حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے اسکی جانب دوستی اور خیرسگالی کا ہاتھ بڑھایا گیا ہوتا تو اس وقت کشمیر سمیت دونوں ممالک کے مابین کسی قسم کا تنازعہ پیدا نہ ہوتا اور دونوں ممالک اپنے اپنے وسائل جنگی تیاریوں پر جھونکنے کے بجائے اپنی اپنی معیشت کی سمت درست کرنے اور عوام کو خوشحالی کی منزل سے ہمکنار کرنے کے مقاصد حاصل کر چکے ہوتے مگر قیام پاکستان کے بعد بھارت نے شروع دن سے ہی اسکے ساتھ دشمنی کی پالیسی اختیار کرلی اور اسکے آزاد وجود کو دل سے قبول نہ کرتے ہوئے اسکی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی خاطر کشمیر کا تنازعہ خود ہی کھڑا کردیا جس کا تقسیم ہند کے فارمولے کے تحت کوئی جواز ہی نہیں بنتا تھا مگر بھارتی نیت کشمیر پر قابض ہو کر پاکستان کو اپنے لئے مرغ دست آموز بنانے کی تھی تاکہ اسکی سالمیت کیخلاف کسی بھی وقت اپنی من مرضی کے نتائج حاصل کئے جا سکیں۔ تقسیم ہند کے 67 سال کی تاریخ میں پاکستان کیخلاف بھارتی سازشوں اور مکاریوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا جبکہ بھارت نے اپنے پیدا کردہ تنازعہ کشمیر کو نہ صرف آج تک مذاکرات کی میز پر حل نہیں ہونے دیا‘ بلکہ اس پر غاصبانہ قبضہ کرکے اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے کی ہٹ دھرمی پر بھی تسلسل کے ساتھ قائم ہے اور یہ حقیقت ہے کہ بھارت جب تک اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی ترک کرکے یو این قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم نہیں کرتا‘ مذاکرات کی میز پر مسئلہ کشمیر سمیت پاکستان بھارت کوئی بھی تنازعہ حل نہیںہو پائے گا اور اس طرح دونوں ممالک کے مابین 60 سال سے زائد عرصہ سے جاری کشیدگی کی فضا بھی چھٹ نہیں پائے گی‘ نتیجتاً دونوں ممالک کی معیشت بھی نقصانات اٹھاتی رہے گی اور علاقائی اور عالمی امن بھی مسلسل خطرات میں گھرا رہے گا جبکہ دونوں ممالک کے ایٹمی طاقت ہونے کے باعث علاقائی اور عالمی امن کو لاحق خطرات اس خطہ ارضی پر موجود ہر ذی روح کی ہلاکتوں پر منتج ہو سکتے ہیں۔
اسی پس منظر میں امریکہ سمیت بیرونی دنیا کی جانب سے پاکستان بھارت کشیدگی ختم کرانے کی پالیسیاں طے کی جاتی ہیں مگر وہ اخلاص سے عاری ہونے کے باعث اثر پذیر نہیں ہو پاتیں‘ کیونکہ کشمیر ایشو پر بھارت کے حق میں ڈنڈی ماری جاتی ہے جس سے بھارت کو کشمیر پر اپنی اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی کو مزید مستحکم بنانے کا موقع ملتا ہے۔ اس تناظر میں تو علاقائی اور عالمی امن کیلئے فکرمند بیرونی قوتوں کو جیسے بھی ہو‘ بھارت سے یو این قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر حل کرا دینا چاہیے تاکہ پائیدار امن کی بنیاد رکھی جا سکے مگر بدقسمتی سے اب بیرونی دنیا کے ایجنڈے کے تحت ہماری اپنی حکومتی اور سیاسی قیادتیں بھی مسئلہ کشمیر کے حل میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتیں بلکہ انکے اقدامات اور پالیسیاں کشمیر پلیٹ میں رکھ کر بھارت کے حوالے کرنیوالی نظر آتی ہیں جو درحقیقت ملک کی سالمیت کو اسکے دشمن کے ہاتھوں تاراج کرانے والی پالیسیاں ہیں۔
گزشتہ ایک سال سے تسلسل کے ساتھ جاری پاکستان بھارت سرحدی کشیدگی تو بھارت کی اپنی پیدا کردہ ہے جسے ختم کرانے کی ٹھوس اور قابل عمل پالیسی کے بجائے دونوں ممالک میں معمولی نوعیت کے سرحدی اور علاقائی تنازعات طے کرانے کی کوشش کی جارہی ہے جس میں ہمارے اپنے حکمران پیش پیش نظر آتے ہیں جو بھارت کے ساتھ دوستی اور تجارت کا ایجنڈہ طے کرکے یکطرفہ طور پر بھارت کی جانب ہاتھ بڑھاتے بھاگے چلے جا رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں دونوں ممالک کے مابین 14 سال بعد ہونیوالی ڈی جی ایم اوز کی ملاقات کو برف پگھلنے اور اس تناظر میں بڑی کامیابی سے تعبیر کیا جا رہا ہے جبکہ اب پاکستان بھارت سرحدی محافظوں کی سطح پر ہونیوالے مذاکرات میں سرحد پر غیرقانونی نقل و حمل روکنے کیلئے مشترکہ گشت پر اتفاق کرکے درحقیقت سیزفائر لائن کو مستقل طور پر کنٹرول لائن تسلیم کرنے کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ یہ یقیناً بھارت کی تو بہت بڑی کامیابی ہے کہ اس سے تنازعہ کشمیر میں پاکستان کے دیرینہ اور اصولی مو¿قف پر زد پڑے گی تو بھارت کو کشمیر پر تسلط جمانے کا مزید موقع ہی نہیں‘ استحقاق بھی حاصل ہو جائیگا۔ یہ تجویز اگر ہماری جانب کی مذاکراتی ٹیم میں سے کسی کے ذہن ِ رسا کی پیداوار ہے تو اسکے پس منظر کا ضرور کھوج لگانا چاہیے کہ کشمیر کا سودا کتنے میں طے ہو رہا ہے۔ یہی وہ پالیسی ہے جس کی بنیاد پر ہمارے کج فہم سیکرٹری خارجہ نے بھی پچھلے دنوں بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن پر دیوار تعمیر کرنے کے معاملہ کو بھارت کا استحقاق بنا دیا تھا اور دلیل دی تھی کہ بھارت اپنے علاقے میں ہی دیوار تعمیر کر رہا ہے۔ اگر بھارت کا یہ استحقاق تسلیم کرلیا جائے تو پھر سیزفائر لائن تو عملاً ختم ہو جائیگی اور اسے مستقل کنٹرول لائن کی حیثیت سے تسلیم کرکے کشمیر پر اپنے استحقاق سے دستبرداری کا عندیہ دے دیا جائیگا۔ یہی سوچ اب سیزفائر لائن پر مشترکہ گشت کی صورت میں پروان چڑھائی گئی ہے چنانچہ بادی النظر میں یہ سوچ بھارت کو پسندیدہ ترین قرار دے کر اسکے ساتھ تجارتی و ثقافتی مراسم بڑھانے کی پالیسی کا ہی شاخسانہ نظر آتی ہے۔ اسی سوچ کے تحت وزیراعظم نوازشریف نے پاکستان اور بھارت کے مابین ویزہ فری تجارت کی تجویز پیش کی جسے وزیراعلیٰ پنجاب میاں نوازشریف نے بھارتی پنجاب کے دورے پر جا کر پروان چڑھایا اور اب وہ اسی سوچ کے تابع بھارتی پنجاب کے تجربات سے فائدہ اٹھا کروہ توانائی کے منصوبے آگے بڑھانے کی خواہش رکھتے ہیں جبکہ بھارت تو عملاً ہماری سالمیت ختم کرنے کے تجربات کر رہا ہے جن میں کشمیر کے راستے آنیوالے پاکستان کے پانی کو بھارتی ڈیمز کے ذریعے روکنے کے تجربات بھی شامل ہیں۔ اگر ہمارے پاس پانی ہی نہیں ہو گا تو بھارت کے کون سے تجربے سے فائدہ اٹھا کر توانائی کے منصوبے پروان چڑھائے جائینگے؟
پاکستان کی سالمیت کیخلاف بھارتی سازشوں کے تانے بانے چونکہ کشمیر کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اس لئے وہ ہمیں اپنی اس شہ رگ سے محروم کرنے کی منصوبہ بندی کرکے اسے عملی جامہ بھی پہنا رہا ہے‘ اگر کشمیر پر بھارت کوئی ایک لفظ سننا بھی گوارا نہیں کرتا تو دیگر معاملات پر اسکے ساتھ کسی بھی سطح کے مذاکرات عملاً بے معنی ہیں اور اس تناظر میں ہی بزرگ کشمیری لیڈر سید علی گیلانی باور کرا رہے ہیں کہ بھارت کے ساتھ بنیادی تنازعات کو چھوڑ کر پاکستان جزئیات کی طرف توجہ دے رہا ہے۔ اگر کشمیر ایشو پر بھارت کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ بند کیا جا رہا ہے تو دوسرے معمولی اور معمول کے تنازعات پر وہ خود ہی پاکستان کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ رہے گا جس کا بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے گزشتہ روز یہ کہہ کر عندیہ بھی دے دیا ہے کہ پاکستان سے مذاکرات کے سوا چارہ ہے‘ نہ تنازعات راتوں رات طے ہو سکتے ہیں۔ یہ بھارتی پالیسی درحقیقت دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے کیونکہ وہ کشمیر ایشو پر مذاکرات کی نوبت ہی نہیں آنے دیتا تو دوسرے کون سے ایشوز ہیں‘ جن پر پاکستان بھارت سنجیدہ مذاکرات کی ضرورت ہے؟ قوم کو اسی پس منظر میں بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اپنے حکمرانوں کی پالیسیوں پر تشویش ہے کہ کہیں ان تعلقات کی خاطر پاکستان کی شہ رگ کشمیر کا سودا تو نہیں کیا جا رہا؟ حکمرانوں کو قومی جذبات کا ہی نہیں‘ ملک کی سالمیت کے تقاضوں کا بھی سوچنا چاہیے۔ اگر بھارت کے ساتھ تعلقات کی جانب پیش رفت کا کوئی اقدام ملک کی سالمیت کمزور کرنے کا باعث بن رہا ہے تو قوم اپنے حکمرانوں کی ایسی پالیسی کو کیسے قبول کر سکتی ہے؟