ایوان صدر میں بابائے قوم کی سالگرہ کی تقریب

ایڈیٹر  |  اداریہ

ایوان صدر میں منعقدہ بابائے قوم کی سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ممنون حسین نے کہا ہے کہ قائداعظم کے اصولوں اتحاد، ایمان اور تنظیم پر عمل پیرا ہوکر ملک ترقی کرسکتا ہے۔ اگر ہم قائد کے اصولوں پر چلیں تو دنیا میں اپنا جائز مقام حاصل کر لیں گے۔ پاکستان کو قائداعظم کے ویژن کی عملی تصویر بنایا جائیگا، ملک کو دہشت گردی، توانائی بحران اور دیگر اقتصادی مسائل سے جلد چھٹکارا مل جائیگا۔
کل تک ایوانِ صدر میںجئے بھٹو کے نعرے لگتے اور قائد کی تصویر تک کو نظر انداز کیا جاتا تھا ۔ گزشتہ روز ایوان صدر میں بانی پاکستان کی سالگرہ کی تقریب محبان وطن کیلئے یک گونہ طمانیت کا باعث بنی۔اس موقع پر صدر ممنون حسین نے بجا کہا کہ قائداعظم کے اصولوں اتحاد، ایمان اور تنظیم پر عمل پیرا ہوکر ملک ترقی کرسکتا ہے۔اس کار خیر کی ابتدا حکمران پارٹی کی طرف سے ہونی چاہیئے جس نے ممنون حسین کو اپنا صدر منتخب کیا ہے۔انہوں نے فرمایا کی پاکستان کو قائد کے ویژن کی عملی تصویر بنا یا جائے گالیکن یہ نہیں بتایا کہ کب اور کیسے ؟مسلم لیگ ن تیسری مرتبہ اقتدار میں آئی ہے۔ اس نے پاکستان کو قائد اعظم کے ویژن کی عملی تصویر بنانے کی کوشش کی ہوتی تو ممنون حسین کو آج یہ نہ کہنا پڑتا۔آ ج تو حکومت میں موجود مسلم لیگ بھی قائد کی نہیں نواز شریف کی مسلم لیگ ہے۔صدر صاحب قوم کو ملک سے دہشت گردی، توانائی بحران اور دیگر اقتصادی مسائل سے جلد چھٹکارے کی امید دلا رہے ہیں۔اس حوالے سے انہوں نے اب تک کیا کردار ادا کیا ہے ؟ایسے کام بیانات اور زبانی جمع خرچ سے نہیں ہوتے۔صدر کے منصب کا آئینی تقاضا ہے کہ وہ جہاں مناسب سمجھیں حکومت کو اصلاح کیلئے مشورہ دے سکتے ہیں ۔ ملک آج بدترین بحرانوں کی زد میں ہے لیکن صدر صاحب کی طرف سے اب تک تو حکومت کو اصلاح احوال کیلئے کوئی یاددہانی نہیں کرائی گئی جس سے یہ تاثر تقویت پکڑ رہا ہے کہ وہ صدر کے اعلیٰ منصب پر پہنچانے پر حکمران پارٹی کے ممنون ہیں۔