منتخب وزیراعظم ”اپنا گھر ٹھیک“ کرنے کیلئے ضروری فیصلے خودکریں

ایڈیٹر  |  اداریہ

ڈرون حملوں کے معاملہ میں امریکی حکام اور طالبان کا نوازشریف کے دورہ¿ امریکہ پر ایک جیسا تبصرہ

سینئر امریکی حکام نے کہا ہے کہ امریکہ تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کی پاکستانی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا معاملہ اٹھایا اور ہم نے سنا‘ اب عافیہ صدیقی کے حوالے سے مزید کوئی بات نہیں ہو گی۔ اوبامہ‘ نوازشریف ملاقات کے حوالے سے گزشتہ روز میڈیا بریفنگ میں سوالوں کے جواب دیتے ہوئے امریکی حکام نے کہا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کا معاملہ ہر ملاقات میں اٹھایا گیا جبکہ حافظ محمدسعید کے بارے میں امریکہ کی جانب سے ٹھوس ثبوت وزیراعظم پاکستان کو فراہم کر دیئے گئے ہیں۔ انہوں نے ڈرون حملوں کے معاملہ میں سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ امریکہ تحریک طالبان سے اوپن مذاکرات کی حمایت کرتا ہے کیونکہ اس کا مقصد پاکستان میں امن و استحکام کا قیام ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نوازشریف سے افغانستان اور بھارت کے معاملہ پر بھی بات ہوئی ہے اور نوازشریف نے افغانستان میں مداخلت نہ کرنے اور بھارت سے تعلقات بہتر کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ حالانکہ بھارت روزانہ کنٹرول لائن سے مسلسل حملے کر رہا ہے۔انکے بقول نوازشریف کے دورہ¿ امریکہ کا ایجنڈہ ڈرون حملے نہیں بلکہ تجارت اور معیشت تھی‘ اس حوالے سے امریکہ نے انہیں یقین دہانی بھی کرائی ہے اور اس مقصد کیلئے چار ورکنگ گروپس بھی تشکیل دے دیئے گئے ہیں۔
وزیراعظم میاں نوازشریف امریکی دورے کے بعد ابھی ملک واپس نہیں پہنچے کہ امریکی حکام نے انکے اس دورے کے حوالے سے پیدا شدہ خوش فہمیوں پر اوس ڈالنا شروع کر دی ہے‘ ویسے تو اوبامہ‘ نوازشریف ملاقات کے بعد جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا‘ اس سے ہی بخوبی اندازہ ہو گیا تھا کہ میاں نوازشریف اس ملاقات میں صدر اوبامہ سے ملک اور عوام کے مفاد میں کچھ بھی حاصل نہیں کر پائے اور اسکے برعکس امریکی صدر نے بھارتی وکیل بن کر ان سے دہشت گردی اور بھارت کی الزام کردہ دراندازی کو روکنے کیلئے میاں نوازشریف سے یقین دہانیاں ضرور حاصل کرلی ہیں۔ پاکستان کے عوام ہی نہیں‘ دنیا کو بھی یہ توقع تھی کہ اوبامہ‘ نوازشریف ملاقات میں امریکی ڈرون حملوں کے معاملہ میں برف ضرور پگھلے گی جس کیلئے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے ڈرون حملوں کیخلاف آواز اٹھا کر فضا ہموار بھی کر دی تھی جبکہ مسئلہ کشمیر کے حل کے معاملہ میں بھی میاں نوازشریف عوام کو ان توقعات کے ساتھ وابستہ کر گئے تھے کہ وہ اس ایشو کو اوبامہ اور دوسرے امریکی حکام کے سامنے پاکستان کے مو¿قف کے مطابق بھرپور انداز میں اٹھائیں گے مگر میاں نوازشریف کے دورہ¿ امریکہ کے حوالے سے اصل حقائق منظر عام پر آنا شروع ہوئے ہیں تو اس دورے سے وابستہ عوام کی امیدیں بھی مایوسیوں میں تبدیل ہونے لگی ہیں جبکہ اب میاں نوازشریف نے خود بھی لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کرلیا ہے کہ بھارت مسئلہ کشمیر میں امریکہ کا کردار نہیں چاہتا‘ اس سے یہی مراد ہے کہ امریکہ نے کشمیر ایشو پر ثالثی کے کردار سے اس بنیاد پر ہی معذرت کی ہے کہ وہ اس معاملہ میں بھارت کی ناراضگی مول نہیں لینا چاہتا مگر بھارتی زبان میں دہشت گردی اور دراندازی کے تدارک کیلئے پاکستان سے اقدامات اٹھانے کے تقاضے کرنا اپنا حق سمجھتاہے۔کالعدم لشکر طیبہ پر عالمی پابندی کا پاکستان آج بھی احترام کرتا ہے۔ جماعت الدعوةکو 2008ءمیں یو این سلامتی کونسل کی جاری کردہ واچ لسٹ میں ضرور شامل کیا گیا جبکہ ممبئی حملوں میں بھارتی واویلے کے بعد حکومت پاکستان نے خود جماعت الدعوة پر مختلف پابندیاں لگائی تھیں اس لئے صدر اوبامہ کی جانب سے جماعت الدعوة کے معاملہ میں میاں نوازشریف سے بین الاقوامی پابندیوں کا احترام نہ کرنے کا الزام بلاجواز تھا۔ اسی طرح میاں نوازشریف اور انکے میڈیا منیجرز کی جانب سے یہ کریڈٹ بھی لیا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی امریکہ حوالگی کے تقاضے پر انہوں نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ایشو پر بات کی تھی۔ یہ کیا بات تھی‘ اس کا اندازہ امریکی حکام کے اس لہجے سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اب ڈاکٹر عافیہ کے معاملہ میں مزید کوئی بات نہیں ہو گی۔
جہاں تک ڈرون حملوں کا معاملہ ہے‘ اس ایشو پر تو میاں نوازشریف کے دورہ¿ امریکہ کے موقع پر پاکستان کو ناکامی ہی نہیں‘ ہزیمت کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے جبکہ امریکی حکام نے یہ باور کرانا بھی ضروری سمجھا کہ ڈرون حملے میاں نوازشریف کے دورے کے ایجنڈے کا حصہ ہی نہیں تھے۔ صرف اس پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا‘ امریکی اخبارات ”واشنگٹن پوسٹ“ اور ”نیشنل جرنل“ کی رپورٹوں کی بنیاد پر امریکی میڈیا نے اس امر کا بھی خوب پروپیگنڈہ کیا کہ پاکستانی حکام ڈرون حملوں کی خفیہ حمایت کرتے تھے جبکہ کئی ڈرون حملے پاکستانی حکام کی درخواست پر کئے گئے۔
یہ صورتحال تو اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ امریکہ کا ڈرون حملوں کی پالیسی پر نظرثانی کا کوئی ارادہ نہیں بلکہ وہ ان حملوں کے جواز میں اب سخت لہجہ بھی اختیار کر رہا ہے۔ اسکے باوجود وزیراعظم نوازشریف نے لندن میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے یہ دعویٰ کردیا ہے کہ ڈرون حملے جلد بند ہو جائینگے۔ کیا عوام انکے ایسے کسی دعوے پر یقین کر سکتے ہیں جبکہ اس معاملہ میں اصل حقائق امریکی حکام اور میڈیا کی زبانی منظرعام پر آچکے ہیں۔ اس صورتحال میں اگر امریکہ طالبان سے مذاکرات کیلئے پاکستان کے مو¿قف کی حمایت کرتا ہے تو یہ بھی امریکی ڈپلومیسی کا ہی حصہ ہے۔ کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہداللہ شاہد نے میڈیا کو جاری کئے گئے اپنے بیان میں باور کرایا ہے کہ امن مذاکرات کیلئے حکومت سے پہلے کوئی توقع تھی‘ نہ اب ہے۔ شاہداللہ کے بقول میاں نوازشریف ڈرون حملے رکوانے نہیں‘ امداد کی بحالی کیلئے امریکہ گئے تھے۔ ترجمان تحریک طالبان نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ میاں نوازشریف ڈرون حملوں اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر سیاست کر رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان نہ امریکہ کی آشیرباد کے انتظار میں تھا کہ طالبان سے مذاکرات شروع کئے جائیں اور نہ ہی ڈرون حملوں کی مخالفت طالبان سے شاباش لینے کیلئے کررہا تھا۔ دونوں پر پاکستان کا مو¿قف ریاست کا موقف ہے اور کسی بیرونی دباﺅ کا اشارہ نہیں۔ اب دیکھنا یہ ہو گا کہ کیا وزیراعظم کے دورے کے درمیان ڈرون حملے رکنے کے بارے میں جو گفتگو ہوئی اور جو نہ ہوئی‘ کیا اس میں پاکستانی ریاست کی جیت ہوگی یا امریکی ریاست کی؟
 میاں نوازشریف کے بقول ہم نے اپنی پیدا کی گئی خرابیاں خود ہی دور کرنی ہیں تو پھریہ نیک کام کو وزیراعظم وطن واپس پہنچ کر شروع کریں۔ وزیراعظم نوازشریف تمام حقائق قوم کے سامنے رکھیں اور گھر کی خرابیاں دور کرنے کیلئے ٹھوس اور فیصلہ کن اقدامات کا آغاز کردیں۔ ہم اپنے اندر کے دشمن پر قابو پالیں گے تو کوئی بیرونی دشمن بھی ہم پر غالب نہیں ہو سکے گا۔