لاپتہ افراد کے مسئلے کو فی الفور حل کیاجائے

ایڈیٹر  |  اداریہ

 پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس دوست محمد خان نے کہا ہے کہ لا پتہ افراد کے معاملے پر پارلیمنٹ اور حکومتوں کی خاموشی شرم کی بات ہے جب تک پارلیمنٹ کوئی ایکشن نہیں لیتی لاپتہ افراد کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
نائن الیون کے بعد اور آج تک جاری پالیسی کے تحت لاپتہ افراد کے مسئلے نے شدت اختیارکی شکوک و شہبات کی بنا پر لوگوں کو گھروں سے اٹھا کرٹارچر سیلوں میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے لاپتہ افراد کے معاملے میں اپوزیشن اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے احتجاج کیا۔ پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے لاپتہ افراد کے لواحقین نے جب احتجاجی کیمپ لگایا تھا تو تب کے اپوزیشن لیڈر چودھری نثار نے میاں نواز شریف کے ہمراہ اس کیمپ میں بیٹھ کرلواحقین سے اظہار ہمدردی کیا تھا اور حکومت پر لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے زور ڈالا تھا۔اب چودھری نثار خود خود وزیر داخلہ ہیں جبکہ میاں نوازشریف وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائزہیں انہیں اب خود ہی لا پتہ افراد کے مسئلے کو حل کرناچاہئے۔
 حکومت نے جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں لاپتہ افراد پر کمشن بھی تشکیل دیا تھا لیکن ابھی تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا ایجنسیاں تمام افراد کو عدالت میں پیش کریں اگر وہ مجرم ہیں تو قانون کے مطابق انہیں گرفتار کیاجائے تاکہ معاشرے میں پھیلی بے چینی ختم ہوسکے اور لاپتہ افراد کے لواحقین کوبھی اپنے پیاروں کا پتہ چل سکے ۔