ایل او سی پر منموہن کی ”مایوسی“

ایڈیٹر  |  اداریہ

بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے چین میں کمیونسٹ پارٹی کے سینٹرل پارٹی سکول میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ نیویارک ملاقات میں سیز فائر پر اتفاق ہوا تھا پاکستانی وزیراعظم ایل او سی پر سیز فائر میں ناکام رہے جس پر بھارت کو مایوسی ہوئی ہے۔ سیز فائر کے بغیر معاملات آگے نہیں بڑھ سکتے۔ کنٹرول لائن پر فائرنگ کے واقعات دونوں ممالک کےلئے بہتر نہیں ہیں۔
 لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی اور شرپسندی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا بھارت کا وطیرہ رہا ہے۔ رواں سال 6 اگست کو لائن آف کنٹرول (مقبوضہ اور آزاد کشمیر کے درمیان حد بندی) کے پار 6 بھارتی فوجیوں کی فائرنگ میں ہلاکت کا الزام پاکستان پر لگا کر بھارتی فوج نے LOCاور ورکنگ با¶نڈری پر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ورکنگ با¶نڈری پر مسلسل دس روز سے فائرنگ جاری ہے جس سے پاک فوج کے متعدد جوان اور سویلین جاں بحق ہو چکے ہیں۔ پانچ دیہات کے لوگ بے گھر ہونے پر مجبور ہو گئے۔ ڈی جی رینجرز میجر جنرل طاہر خان کا کہنا ہے کہ بی ایس ایف نہتے شہریوں پر فائرنگ کرکے بزدلی کا مظاہرہ کر رہی ہے جبکہ پاکستان کی طرف سے جواب میں سول آبادی کو کبھی نشانہ نہیں بنایا گیا۔ اس موقع پر سیکٹر کمانڈر بریگیڈئر متین احمد خان نے کہا کہ بھارتی اپنے جرم کو نہیں مانتے بلکہ جھوٹ بولتے ہیں۔ منموہن نے چین میں جو کچھ کہا وہ بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ بھارت کی مسلسل اشتعال انگیزی کو اسکی طرف سے جنگ کی ریہرسل قرار دیا جا سکتا ہے۔ قوم اور فوج کو بہرکیف کسی بھی قسم کی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کیلئے اپنی تیاری مکمل رکھنی چاہئے۔