محکمہ صحت جعلی ادویات اور استعمال شدہ سرنجوں کا استعمال روکے

ایڈیٹر  |  اداریہ
 محکمہ صحت جعلی ادویات اور  استعمال شدہ سرنجوں کا استعمال روکے

 سرکاری محکموں کی عدم دلچسپی ناقص حکمت عملی، غیر معیاری اور جعلی ادویات کی بھرمار سرکار ی ہسپتالوں میں بھی کم نرخوں والی ادویات خریدی جانے لگیں۔ ڈرگ ٹیسٹنگ لیب میں صرف 30 فی صد ادویات کی چیکنگ ہوتی ہے۔ لاہور کے 12ہزار میڈیکل سٹورز میں سے صرف چند ایک کا معائنہ ہوتا ہے،باقی پر مافیا کاروبار میں مصروف ہے۔
 صحت تعلیم اور روزگار کے نام پر برسر اقتدار آنے والی حکومتوں کی سنگ دلی کا اندازہ اسی بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ یہ تینوں شعبے آج تک بد حالی کا شکار ہیں۔ صحت کے شعبہ کی بدحالی کا اندازہ نوائے وقت کی اس خصوصی رپورٹ سے بخوبی ہوتا ہے جس کیمطابق کم قیمت پر غیرمعیاری اور جعلی ادویات سرکاری ہسپتالوں کیلئے خریدی جاتی ہیں کیونکہ ان ہسپتالوں میں امرا اور اشرافیہ کا نہیں غریب عوام کا علاج ہوتا ہے جو مہنگے ہسپتالوں اور قیمتی ادویات کی خریداری کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ اب یہاں بھی انکی قسمت میں معیاری ادویات دستیاب نہیں ہیں اور جعلی ادویات سے ان کو موت کے مزید قریب کیاجارہا ہے۔پہلے بھی حکومت پنجاب نے جعلی ادویات کے بارے میں سخت اقدامات کا اعلان کیا شاید اب بھی کریگی مگر جب تک ان اقدامات پر عمل نہیں ہوتا یہ سماج دشمن عناصر عوام کی صحت اور زندگیوں سے اسی طرح کھیلتے رہیں گے۔ اس گھنائونے دھندے میں سرکاری ادارے اور انکے اہلکار بھی پوری طرح ملوث ہیں۔ جنکی بیخ کنی بہت ضروری ہے۔ دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے بھی انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں استعمال شدہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال سے ایڈز کا خوفناک مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اب یہ محکمہ صحت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلے میں کڑی نگرانی اور اقدامات کرکے یہ جان لیوا کاروبار بند کرائے۔