خادم پنجاب جو کہتے ہیں اب کر بھی گزریں

ایڈیٹر  |  اداریہ
خادم پنجاب جو کہتے ہیں  اب کر بھی گزریں

 وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے لاہورکالج فار ویمن یونیورسٹی کے 11 ویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان نسل ہمارا قیمتی اثاثہ اور امید کی کرن ہے۔ قوم کو اپنی باصلاحیت بیٹیوں پر فخر ہے۔ میری اپیل ہے کہ خواتین ڈگریاں حاصل کرکے گھروں میں بیٹھنے کی بجائے قومی تعمیر و ترقی میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔ لاہور میں 11 ماہ کی ریکارڈ مدت میں میٹرو بس جیسا عظیم الشان شاہکار بنایا جا سکتا ہے تو نظام بھی بدلا جا سکتا ہے۔۔ وائس چانسلرز، محکمہ تعلیم کے حکام اور ماہرین یونیورسٹیوں میں تعلیم و تحقیق کے معیار کو عالمی یونیورسٹیوں کے ہم پلہ بنائیں تو میں پنجاب حکومت کے خزانے اس مقصد کیلئے نچھاور کرنے پر تیار ہوں۔
شریف برادران 1981ء سے اب تک وقفے وقفے سے اقتدار میں آتے رہے۔ خود میاں شہباز شریف پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے اب تیسری بار وزیراعلیٰ بنے ہیں۔ گذشتہ دنوں انہوں نے موجودہ نظام کو گلا سڑا نظام کہا اب وہ اس کو بدلنے کے عزم کا اظہار کر رہے ہیں۔ نظام کوئی بھی برا نہیں ہوتا۔ برائیاں اس کو چلانے والوں میں ہوتی ہیں۔ اگر شہباز شریف نظام ہی بدلنا چاہتے ہیں تو انتظار کس بات کا۔ خواتین کو یقیناً قومی تعمیر و ترقی میں فعال کردار ادا کرنا چاہئے وہ اسی صورت ممکن ہے جب ان کا تحفظ بھی ہو اور انہیں روزگار کے مواقع بھی باآسانی حاصل ہوں۔ جو فعال کردار ادا کر رہی ہیں ان کو تو پولیس ڈنڈے مارتی ہے ۔ تعلیم و تحقیق کے معیار کو عالمی سطح پر دو تین فیصد بجٹ سے نہیں لایا جا سکتا اور پھر جب بنیاد ہی کمزور ہو گی تو یونیورسٹیاں‘ وی سی اور پرنسپل کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت زار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اس سب کی اصلاح کرنا ہوگی جو اول و آخر حکمرانوں کی ذمہ داری ہے۔ اس مقصد کیلئے خادم اعلیٰ خزانے نچھاور کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو انتظار نہ کریں ایک بھی پائی ضائع نہ ہونے کو یقینی بناتے ہوئے ایسا کر گزریں بلاشبہ بامقصد تعلیم کے ذریعے ہی ملک اور معاشرے ترقی کرتے ہیں۔