تھر قحط پر سیاستدان پوائنٹ سکورنگ نہ کریں

ایڈیٹر  |  اداریہ
تھر قحط پر سیاستدان  پوائنٹ سکورنگ نہ کریں

تھر میں مزید 6 زیر علاج بچے بیماریوں اور غذائی قلت کا شکار ہو کر دم توڑ گئے، گزشتہ ساڑھے تین ماہ میں جاں بحق ہونیوالے بچوں کی تعداد دو سو سے زائد ہو گئی۔
سندھ حکومت کی نااہلی کے باعث تھر میں بھوک سے موت نے ڈیرے ڈالے تو میڈیا کی توجہ دلانے پر سندھ حکومت خواب خرگوش سے جاگی۔ مرکزی حکومت بھی سرگرم ہوئی۔ فوج اور مخیر حضرات نے بھی اپنی اپنی بساط کے مطابق امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں لیکن وہاں ہنوز موت کا رقص جاری ہے۔ امدادی اشیاء کی تقسیم میں بھی گھپلوں کی خبریں آ رہی ہیں۔ قحط سالی سندھ کے ایک محدود علاقے میں ہے جہاں تک امداد پہنچانا سندھ حکومت کیلئے ناممکن نہیں ہونا چاہئے مگر وہ جہاں سے ممکن ہے جھولی پھیلا کر امداد کے حصول کیلئے سرگرداں ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے ایک ارب روپے دینے کا وعدہ کیا تھا جو وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کیمطابق ابھی تک سندھ حکومت کو نہیں ملے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کہتے ہیں کہ 50 کروڑ روپے بینظیر انکم سکیم میں ٹرانسفر کر رہے ہیں باقی رقم مئی میں فراہم کی جائیگی۔ مرکزی حکومت نے کیا 50 کروڑ کمیشن میں رکھ لئے ہیں۔ حکمران خدا کا خوف کریں۔ جب تھر میں انسانیت تڑپ رہی ہے ان حالات میں پوائنٹ سکورنگ کی کوشش نہ کریں۔ سندھ ہائیکورٹ نے دور دراز علاقوں میں امداد بہم پہنچانے کیلئے آرمی ایوی ایشن کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت کی ہے مرکزی حکومت اس پر عمل کو بھی یقینی بنائے۔