اب اقتصادی راہداری کیخلاف بھارتی سازشوں کا توڑ بھی ممکن ہوگا

ایڈیٹر  |  اداریہ
اب اقتصادی راہداری کیخلاف بھارتی سازشوں کا توڑ بھی ممکن ہوگا

پاکستان کی شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت اور بھارت کو این ایس جی کی رکنیت سے انکار‘ ہماری بڑی سفارتی کامیابی

پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم کی مستقل رکنیت حاصل ہو گئی ہے‘ اس سلسلہ میں جمعۃ المبارک کے روز ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں سربراہ اجلاس کے موقع پر پاکستان کی مستقل رکنیت کی باضابطہ منظوری دی گئی جس کیلئے دستخطی تقریب میں صدر مملکت ممنون حسین نے پاکستان کی نمائندگی کی اور مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز نے شرائط کی یادداشت میمورنڈم آف اوبلیگیشن پر دستخط کئے۔ بھارت کو بھی شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت حاصل ہو گئی ہے‘ اس سلسلہ میں چین‘ روس‘ قازقستان‘ کرغیرستان‘ ازبکستان اور تاجکستان سمیت شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزراء خارجہ نے پاکستان اور بھارت کیلئے شرائط کی یادداشت وضع کی تھی۔ پاکستان کی رکنیت سے روس کے ساتھ فوجی اور تکنیکی اور چین کے ساتھ بڑے کمیونیکیشن منصوبوں پر مثبت اثرات مرتب ہونگے اور شنگھائی تعاون تنظیم پاکستان کو خطے میں مستحکم پوزیشن اور چین‘ روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے وسائل تک رسائی فراہم کریگی۔ صدر ممنون حسین نے اس حوالے سے کہا ہے کہ تنظیم کے مکمل رکن کی حیثیت سے پاکستان تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ اپنے روابط مزید مضبوط بنائے گا اور علاقائی امن و استحکام و ترقی کے ساتھ ساتھ دہشت گردی اور انتہاء پسندی کیخلاف بھی بھرپور طریقے سے کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے سربراہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کی تعمیر پر کام زورشور سے جاری ہے جو شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کو بحرۂ عرب اور جنوبی ایشیاء تک رسائی کا ایک قدرتی ذریعہ فراہم کریگی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ چین نے پاکستان کی شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت کیلئے فعال کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان کو اس ماہ سفارتی محاذوں پر دو اہم امتحان درپیش تھے‘ ان میں ایک نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں شمولیت کیلئے لابنگ کرنا اور اس گروپ میں بھارت کا راستہ روکنا اور دوسرے شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان کی مستقل رکنیت کیلئے سرخروئی حاصل کرنا شامل تھا۔ ان دونوں محاذوں پر پاکستان کی سفارتی کوششیں اور لابنگ مؤثر ثابت ہوئی اور برادر پڑوسی ملک چین نے ہر دو معاملات میں کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا۔ اگرچہ پاکستان کو انہی شرائط کی بنیاد پر نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) کی رکنیت نہیں مل سکی جن شرائط کی بنیاد پر بھارت کا این ایس جی کی رکنیت کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا تاہم ہمارے لئے یہ بہت بڑی کامیابی ہے کہ این ایس جی کی رکنیت کیلئے امریکہ کے کھل کر بھارت کی حمایت میں آنے کے باوجود اسکی این ایس جی میں شمولیت کی خواہش پوری نہیں ہو سکی۔ اس طرح اس کا علاقے کی تھانیداری کا خواب بھی ادھورا رہ گیا ہے۔ بھارت نے این ایس جی کی رکنیت کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور اس مقصد کیلئے بھارتی وزیر خارجہ سشماسوراج نے این ایس جی کے رکن ممالک کے دورے بھی کئے جس کی بنیاد پر وہ پرامید تھیں کہ وہ این ایس جی میں بھارت کی شمولیت کیلئے رکن ممالک کو قائل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔ مگر چین نے شروع دن سے ہی بھارت کی مخالفت کا بیڑا اٹھایا اور سیئول میں این ایس جی سربراہی کانفرنس شروع ہونے سے پہلے ہی این ایس جی کے رکن ممالک کو مراسلہ بھیجوا دیا کہ وہ این پی ٹی پر دستخط کرنیوالے ممالک کو این ایس جی میں شامل کرنے کی حمایت نہ کریں۔ اسکے ساتھ ساتھ چین نے یہ بھی باور کرادیا کہ اگر بھارت کو این پی ٹی پر دستخطوں کے بغیر ہی این ایس جی کی رکنیت دی جائیگی تو پھر یہ اصول پاکستان کیلئے بھی لاگو ہوگا اور چین پاکستان کی قیمت پر بھارت کو این ایس جی کا رکن نہیں بننے دیگا۔ اس سلسلہ میں پاکستان کی جانب سے بھی سفارتی محاذ مؤثر انداز میں بروئے کار لایا گیا چنانچہ چین کے علاوہ این ایس جی کے دوسرے رکن ممالک ترکی‘ نیوزی لینڈ‘ آئرلینڈ‘ جنوبی افریقہ اور اٹلی بھی این ایس جی میں بھارت کی رکنیت کی مخالف لابی کا حصہ بن گئے اور اجلاس کے آخری مراحل میں سوئٹزرلینڈ نے بھی بھارت کی مخالفت کرکے اسکے ساتھ ہاتھ کر دیا چنانچہ بھارت کو این ایس جی میں شمولیت سے متعلق اپنی کوششوں میں مایوس و نامراد واپس لوٹناپڑا۔ اس بھارتی ناکامی میں بلاشبہ چین کا بنیادی عمل دخل ہے جو بھارت کی جانب سے پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے کی مخالفت کی بنیاد پر اسکے بارے میں تحفظات رکھتا ہے اور علاقائی مشترکہ مفادات کے پیش نظر ہر ایشو پر پاکستان کی حمایت کرکے وہ پاک چین لازوال دوستی کو مزید مستحکم بنا رہا ہے۔ اسی تناظر میں چین این ایس جی میں بھارت کی شمولیت کے معاملہ میں اپنا دوٹوک موقف تسلیم کرانے میں کامیاب ہوا ہے جبکہ بھارت اس تنظیم میں اپنی شمولیت کیلئے ایک مرحلہ پر پاکستان کو بھی این ایس جی کی رکنیت دلانے پر آمادہ ہو گیا تھا جس کا اعلان بھارتی وزیر خارجہ نے باضابطہ طور پر ایک پریس کانفرنس میں کیا مگر اسکی یہ چال بھی کامیاب نہ ہوسکی اور این ایس جی نے اپنے سربراہی اجلاس میں بھارت کی رکنیت کی درخواست زیرغور نہ لا کر خطے میں اسکے توسیع پسندانہ عزائم کو بھی موضوع بحث بنا دیا جبکہ اب پاکستان چین دوستی مزید استوار اور مزید پائیدار ہوگئی ہے جو ہر آزمائش میں پورا اترتی ہے اور دشمنوں کے عزائم خاک میں ملاتی ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم میں چونکہ پاکستان اور بھارت دونوں کی شمولیت طے شدہ تھی اس لئے بھارتی لابی چاہتی بھی تو پاکستان کو شنگھائی تنظیم کی رکنیت سے محروم نہ کر پاتی جبکہ بھارت کو اصل خوشی تو این ایس جی کی رکنیت ملنے پر ہوتی جس کیلئے آخری مراحل تک اسکی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوسکی۔ پاکستان کو بے شک این ایس جی کی رکنیت نہیں ملی مگر اس کیلئے این ایس جی کے مقابلے میں شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن بننا زیادہ اہم ہے کیونکہ اسکی بنیاد پر پاکستان کے شنگھائی تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ اقتصادی روابط مستحکم ہونگے اور یہ ممالک اب پاکستان چین اقتصادی راہداری کے ذریعہ ہی عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرینگے جس کے باعث پاکستان کا رابطے کا کردار اسکے اقتصادی استحکام اور معاشی ترقی کا بھی ضامن بن جائیگا۔ شنگھائی تنظیم میں چین اور روس کے علاوہ تمام وسطی ایشیائی ریاستیں شامل ہیں جن کے ساتھ پاکستان کے اقتصادی روابط بڑھیں گے تو بھارت کی ان ممالک کو اقتصادی راہداری سے دور لے جانے کی سازشیں بھی اپنی موت آپ مر جائیں گی۔ پاکستان 2005ء سے اس تنظیم کے اجلاسوں میں بطور مبصر شریک ہو رہا تھا اور گزشتہ سال روس کے شہر اوفا میں ہیڈز آف سٹیٹ کونسل کے اجلاس میں پاکستان کو اس تنظیم کی مستقل رکنیت دینے پر اتفاق کیا گیا۔ اسی طرح تاشقند کانفرنس میں پاکستان کے علاوہ بھارت کو بھی شنگھائی تنظیم کی مستقل رکنیت دینے پر اتفاق ہوچکا تھا اس لئے اس تنظیم کی رکنیت بھارت کیلئے کسی بڑے معرکے سے تعبیر نہیں ہو سکتی جبکہ پاکستان کو بھی اسکے ساتھ ہی شنگھائی تنظیم کی رکنیت حاصل ہوگئی ہے۔ اب اقتصادی راہداری منصوبہ مکمل ہونے کے بعد وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ پاکستان کے تجارتی اور اقتصادی روابط میں وسعت کا امکان پیدا ہو گیا ہے جو سی پیک کو ناکام بنانے کی بھارتی سازشوں کی موجودگی میں پاکستان کیلئے بہت بڑی کامیابی ہے۔ روس کی جانب سے شنگھائی تعاون تنظیم کو توسیع دینے کی حکمت عملی کے تحت اب اگلے مرحلے میں افغانستان‘ ایران اور منگولیا کو شنگھائی تنظیم کی مستقل رکنیت ملنے کا امکان ہے جبکہ آذربائیجان‘ آرمینیا‘ کمبوڈیا اور نیپال کی اس تنظیم میں بطور ’’مذاکراتی شراکت دار‘‘ شمولیت کی راہ بھی ہموار کی جاچکی ہے اور بیلاروس کو مبصر کی حیثیت سے مدعو کرنے کا بھی پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہے۔ اس طرح وسعت اختیار کرتی یہ علاقائی تعاون کی تنظیم پاکستان کی بھی علاقائی اور عالمی منڈیوں تک رسائی میں ممدومعاون ثابت ہوگی۔ اس کیلئے ہمیں اپنی قومی خارجہ پالیسی کو ملکی و قومی مفادات کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارت نے جس طرح اقتصادی راہداری کو ناکام بنانے کیلئے ایران کی چاہ بہار پورٹ کے خطے کے ممالک کو سبزباغ دکھائے ہیں‘ شنگھائی تنظیم کا رکن بننے سے پاکستان ان بھارتی سازشوں اور عزائم سے بھی اس تنظیم کے رکن ممالک کو آگاہ کرکے انہیں اقتصادی راہداری کیلئے قائل کرنے میں کامیاب ہوگا اس لئے موجودہ حالات میں شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان کی شمولیت اس کیلئے کسی نعمت ِغیرمترقبہ سے کم نہیں اور یہ یقیناً ہماری سفارتی محاذ کی فعالیت سے ہی ممکن ہوا ہے۔