پاک افغان صدور کی تاشقند میں ملاقات

ایڈیٹر  |  اداریہ
پاک افغان صدور کی تاشقند میں ملاقات

صدر ممنون حسین نے تاشقند میں افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کے دوران اس امر کا اظہار کیا ہے کہ موثر سرحدی انتظام دونوں ممالک کے مفاد میں ہے تاہم طورخم واقعات اچھی ہمسائیگی اور دوستانہ تعاون کے جذبہ سے مطابقت نہیں رکھتے۔
خطے کے ہمسائے اور برادر مسلم ممالک ہونے کے ناطے پاکستان اور افغانستان کے مابین خیرسگالی کے تعلقات استوار ہونے چاہئیں۔ جو بدقسمتی سے اب تک نہیں ہو سکے اور قیام پاکستان سے اب تک افغانستان کی پاکستان کے ساتھ سردمہری کی فضا برقرار رہی ہے۔ اس وقت جبکہ دہشت گردی کے خلاف افواج پاکستان کا آپریشن ضرب عضب فیصلہ کن مراحل میں ہے۔ پاک افغان سرحد پر دو طرفہ آزادانہ نقل و حرکت پر موثر کنٹرول ضروری ہے جس کے لیے پاکستان نے طورخم میں اپنی حدود کے اندر گیٹ کی تعمیر شروع کی جو افغانستان کو قبول نہیں ہوئی اور افغان فورسز کی جانب سے تقریباً ایک ہفتہ تک پاکستان کے اندر بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔ اس کے باوجود پاکستان نے قیام امن کی خاطر صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیا اور افغانستان کے ساتھ افہام و تفہیم کے ذریعے مسئلہ کا حل نکالنے کی کوشش کی۔ گذشتہ روز صدر ممنون حسین نے اسی تناظر میں افغان صدر سے شنگھائی کانفرنس کے موقع پر بات چیت کی ہے جبکہ مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز کی افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی سے ملاقات ہوئی ہے جس میں سرحدی کشیدگی دور کرنے سمیت تمام امور پر مشاورت کیلئے اعلیٰ سطح کا میکنزم قائم کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ افغانستان کو پاکستان کی امن کی کوششوں اور دہشت گردی کی جنگ میں اسکی قربانیوں کا ادراک ہو گا اور وہ بارڈر مینجمنٹ پر پاکستان کے موقف سے متفق ہو جائے گا۔ خطے میں قیام امن اور سرحدوں کو دہشت گردی کیلئے استعمال ہونے سے روکنے کی خاطر پاک افغان سرحد پر نقل و حمل کو ضابطہ کار میں لانا بہرصورت وقت کی ضرورت ہے۔