پولیو کا عالمی دن اور پاکستان

ایڈیٹر  |  اداریہ
پولیو کا عالمی دن اور پاکستان

ملک بھر میں مزید پانچ بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق رواں سال کے دوران سامنے آنیوالے پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 214 ہو گئی۔
24 اکتوبر کو پولیو کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے اس دن پولیو سے آگاہی کیلئے سیمینار اور تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ پولیو پوری دنیا سے ختم ہو چکا ہے سوائے 3 ملکوں کے۔ بدقسمتی سے پاکستان کا شمار بھی ان تین ممالک میں ہوتا ہے جہاں پر پولیو ختم ہونے کی بجائے خودکار پودے کی طرح بڑھتا جا رہا ہے۔ حکومت پاکستان اس موذی مرض کے سدباب کیلئے انتھک کوششیں کر رہی ہے لیکن مرض بڑھتا جا رہا ہے۔ اسکی ایک وجہ تو ناقص قطروں کا استعمال ہے دوسری وجہ مذہبی لوگوں کا عوام میں قطروں کے خلاف پھیلایا گیا بلاجواز خوف ہے ۔ پاکستان میں آئے روز پولیو ٹیموں پر حملے ہوتے ہیں۔ حال ہی میں لاہور جیسے شہر میں لوگوں نے پولیو ٹیم کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ پولیو ایک لعنت ہے اس سے قوم کے پھول مرجھا رہے ہیں جبکہ حکومت خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے۔ اگر پولیو کیخلاف حکومت کی کوششیں سُست رفتاری کا شکار رہیں تو پھر آنیوالی نسل کو اپاہج اور معذور ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ وزیراعظم میاں نواز شریف نے گزشتہ روز پولیو کے حوالے سے ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان محض رسمی نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس پر پوری طرح عمل کیا جائے۔ دیہاتوں، قصبوں پسماندہ علاقوں میں سکیورٹی کے ساتھ پولیو قطرے پلانے شروع کئے جائیں اور یونین کونسل تک مستقل بنیادوں پر ٹیمیں بنائی جائیں اور ہر علاقے کا پانی چیک کیا جائے۔ جراثیم والے علاقے میں پانی کے فلٹر لگائے جائیں تاکہ اس موذی مرض سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے۔