پنجاب اسمبلی میں ارکان کی تنخواہوں میں اضافے کا بل جمع‘ خیبر پی کے اسمبلی سپیکر و ڈپٹی سپیکر کی تنخواہ دس لاکھ کرنے پر غور…ارکان قائد کے پیروکار بنیں تو مراعات کی ضرورت نہیں

ایڈیٹر  |  اداریہ
پنجاب اسمبلی میں ارکان کی تنخواہوں میں اضافے کا بل جمع‘ خیبر پی کے اسمبلی سپیکر و ڈپٹی سپیکر کی تنخواہ دس لاکھ کرنے پر غور…ارکان قائد کے پیروکار بنیں تو مراعات کی ضرورت نہیں

 پنجاب اسمبلی کے ارکان نے مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا مطالبہ کر دیا ہے، لیگی رکن میاں طاہر جمیل نے پرائیویٹ بل پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرا دیا، بنیادی تنخواہ 12 ہزار سے بڑھا کر 60 ہزار روپے کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، الائونسز اور چار اسلحہ لائسنس سمیت دیگر مراعات بھی مانگ لیں۔ دو روز قبل پنجاب اسمبلی نے بلیو پاسپورٹ فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے قرارداد منظور کی تھی، ڈیلی الائونس 650 سے بڑھا کر پانچ ہزار، کنوینس الائونس 400 سے بڑھا کر ایک ہزار روپے، ٹریولنگ الائونس پانچ روپے فی کلومیٹر سے بڑھا کر پندرہ روپے فی کلومیٹر جبکہ ایڈیشنل ٹریولنگ الائونس 75000 ہزار سے بڑھا کر دو لاکھ روپے سالانہ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ بل میں سٹینو ٹائپسٹ، کلرک اور نائب قاصد کی سہولت کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے جبکہ تاحیات اسمبلی سیکرٹریٹ انٹری، سپیکر گیلری، اسمبلی لائبریری کی سہولت کے علاوہ ائیرپورٹ پر وی آئی پی لائونج کے استعمال اور چار اسلحہ لائسنس سرکاری فیس پر دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ بل پر تحریک انصاف، پی پی، جماعت اسلامی کے ارکان نے بھی دستخط کئے ہیں۔دریں اثنا خیبر پی کے اسمبلی کے اجلاس میں صوبے کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی تنخواہ ایک لاکھ سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کرنے کی تجویز پر غور کیا گیا۔ وزیر قانون امتیاز قریشی نے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا بل پیش کیا۔
ارکان قومی اسمبلی کی مراعات کے حوالے سے ایک رپورٹ کم از کم چار سال سے میڈیا کی زینت بن رہی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ماہانہ تنخواہ ایک لاکھ بیس ہزار روپے سے 2 لاکھ روپے۔ آئینی اخراجات کی مد میں ادائیگیاں ایک لاکھ روپے۔ دفتری اخراجات ایک لاکھ چالیس ہزار روپے۔ سفری مراعات (8 روپے فی کلومیٹر کے حساب سے) اسلام آباد آمد اور روانگی 6000 کلومیٹر، 48 ہزار روپے۔ ڈیلی BETA اخراجات پانچ سو روپے۔ فرسٹ کلاس اے سی ٹرین میں سفر کی مراعات لامحدود۔ اہلیہ یا پرسنل اسسٹنٹ کے ساتھ بزنس کلاس کی پرواز ایک سال میں 40 ٹرپ ۔ کسی بھی سرکاری ہاسٹل میں رہائش مفت۔ گھر میں بجلی کے اخراجات 50 ہزار یونٹس کا مفت استعمال۔ لوکل ٹیلیفون کال چارجز ایک لاکھ 70 ہزار کالیں مفت۔ اسطرح ایک رکن قومی اسمبلی کا سالانہ خرچ 3 کروڑ 20 لاکھ روپے بنتا ہے۔ ایک رکن قومی اسمبلی کا پانچ سال کا خرچ 16 کروڑ روپے ہے۔ بیمار پڑ جائیں تو کروڑوں کا خرچہ بھی حکومت کے ذمے ہے۔
ممبران سینٹ کی مراعات بھی کم و بیش ممبران قومی اسمبلی کے برابر ہیں۔ مذکورہ مراعات میں کبھی کمی تو دیکھنے میں نہیں آئی البتہ اضافے کے مطالبات ضرور سامنے آتے رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے الائونسز میں اضافے کیلئے دھرنوں کا جواز پیش کیا گیا کہ فاضل ارکان کو پارلیمنٹ تک آنے کیلئے راستے بدل کر آنا پڑتا ہے۔ صوبائی ارکان کی مراعات ممبران قومی اسمبلی اور سینٹ کے مقابلے میں کم ہیں تاہم انکی طرف سے کبھی ارکان سینٹ اور قومی اسمبلی کے برابر مراعات کا مطالبہ نہیں کیا گیا البتہ اپنی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کی قراردادیں اور مطالبات سامنے آتے رہے اور منظور بھی ہوتے رہے ہیں۔ خیبر پی کے ارکان نے گزشتہ ماہ اپنی تنخواہوں میں دگنا اضافے کا مطالبہ کیا شاید تنخواہوں میں مطلوبہ اضافہ کردیا گیا ہے جس سے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر محروم رہے۔ انکی تنخواہ میں اضافے کی ترجمانی وزیر قانون کو کرنا پڑی۔ اے این پی کے زاہد خان کہتے ہیں کہ خیبر پی کے کے دو وزراء طالبان کو بھتہ دیتے ہیں۔ وہ شاید مراعات میں اضافے کیلئے زیادہ سرگرم ہوں۔گزشتہ سال مارچ میں سندھ اسمبلی میں صوبائی ارکان کی مراعات میں اضافے کیلئے بل منظور کیا گیا جس کے تحت سابق ارکان کو بھی تاحیات بعض مراعات حاصل ہونگی۔ رکن کے انتقال پر اسکے جیون ساتھی کو یہ مراعات تاحیات ملیں گی۔ اسی بل میں ارکان کی تنخواہ 60 فیصد اضافہ کیا گیا۔ قومی اسمبلی‘ سینٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو مچھلی منڈی بنتے قوم نے بار بار دیکھا ہے۔ سیاسی اخلافات کو ذاتیات تک لے جایاجاتا ہے۔ برداشت اور تحمل کا سیاست میں شدید فقدان نظر آتا ہے۔ مگر جب بھی مراعات کی بات ہوئی‘ ارکان سینٹ اور اسمبلیوں کے ممبران کے درمیان مثالی اخوت‘ بھائی چارہ اور اتحاد آیا۔ تنخواہوں مراعات میں اضافے کا بل بڑی آسانی سے متفقہ طور پر منظور ہو جاتا ہے۔
ہمارے سیاست دان سیاست کو عبادت اور خدمت خلق کا درجہ دیتے ہیں مگر اس معیار پر کوئی کوئی ہی پورا اترتا ہے۔ سیاست میں اکثر اکابرین کے آئیڈیل بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح ہیں۔ معززین ارکان کے رویے سے واضح ہوتا ہے کہ قائداعظم کو آئیڈیل محض عوام کو دکھاوے کیلئے قرار دیتے ہیں۔ اگر واقعی کوئی قائد کو اپنا آئیڈیل قرار دیتا ہے تو خود کو قائد کا سچا اور حقیقی پیروکار بھی ثابت کرے۔ قائداعظم نے اپنی اس دور کی اربوں روپے کی جائیداد میں سے ایک معمولی سا حصہ اپنے عزیزوں کیلئے رکھ کر ساری جائیداد اور دولت نوزائیدہ مملکت کے نام کر دی تھی۔ آج قائد کے جانشینوں اور انکو آئیڈیل قرار دینے والوں کا کردار وعمل اسکے بالکل برعکس نظر آتا ہے۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ کی مثال ہمارے حکمرانوں اور سیاست دانوں کیلئے رہنمائی کا روشن مینارہ ہے۔ حضرت ابوبکرؓ خلیفہ بنے تو آپؓ نے اپنا کاروبار سمیٹ لیا کہ لوگ محض خلیفہ کی خوشنودی کیلئے انکے ساتھ کاروبار کرینگے۔ حضرت ابوبکرؓ کا گزارے کیلئے بیت المال سے مناسب سا وظیفہ مقرر کر دیا گیا۔ اگر ہمارے فاضل پارلیمنٹیرین حضرت ابوبکرؓ جیسا معیار قائم کرلیں تو ان کو انکے اخراجات کے مطابق تنخواہیں اور مراعات ضرور ی جانی چاہئیں۔ قائداعظم محمدعلی جناح‘ ذوالفقار علی بھٹو تنخواہ کی مد میں علامتی طور پر ایک روپیہ وصول کیا کرتے تھے۔ وزیراعظم نوازشریف اور وزیراعلیٰ شہباز شریف بھی تنخواہ کی مد میں کچھ وصول نہیں کرتے مگر انکے قومی خزانے سے اخراجات کا کوئی شمار نہیں ہے۔ بھٹو صاحب بھی خزانے کا بے دریغ استعمال کیا کرتے تھے تاہم وہ کرپشن جیسی لعنت سے محفوظ تھے۔ آج شاید ہی کوئی مقتدر ہو جس کا دامن کرپشن سے پاک ہو۔
ارکان پارلیمنٹ کو بھی عام پاکستانی کی طرح گھربار چلانا ہوتا ہے‘ انکو بھی مراعات کی ضرورت ہے‘ جو ریاست نے مقرر کردی ہیں۔ ان کا کام قانون سازی ہے‘ قومی اسمبلی میں 342 ارکان جبکہ سینٹ کے ممبران کی تعداد سو سے زائد ہے۔ صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی مجموعی تعداد ہزار سے زائد ہے۔ ریکارڈ اٹھا کر دیکھیں تو واضح ہوتا ہے کہ اکثر ارکان کا قانون سازی کے دوران کردار صفر رہا۔ یہ ایوان میں ایک لفظ تک نہیں بولتے۔ پارٹی لیڈر نے کہا تو ہاںمیں ہاتھ اٹھا دیا۔ قانون سازی کیلئے درجن ڈیڑھ درجن لوگ ہی فعال کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر متحارب حریف کو نعروں اور دھینگا مشتی میں پچھاڑنا ہے تو اتنی تعداد میں ارکان کا ایوانوں میں آنا نہایت ضروری ہے۔ ممبران کو مراعات کے ساتھ ساتھ اپنے اپنے علاقوں میں ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز بھی ملتے ہیں۔ جو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بلاتفریق فنڈ جاری کرے‘ اسکی وسیع پیمانے پر جے جے کار ہوتی ہے۔ فنڈز کی مالیت کروڑوں سے اربوں تک بھی ہو سکتی ہے۔ اس میں 3 فیصد کمیشن پر معزز ارکان کا قانونی حق ہے۔ کئی مل ملاپ کرکے کئی ساری گرانٹ بھی ڈکار جاتے ہیں۔ کئی کے کاروبار کو منتخب ہونے کے بعد چار چاند لگتے ہیں۔
قوم کی خدمت کا جذبہ رکھنے والے فاضل ارکان کے اخراجات قومی خزانے سے پورے ہونے چاہئیں بشرطیکہ ان کو واقعی ضرورت ہو‘ یہ لوگ قوم وملک کیلئے اخلاص ثابت کرتے ہوئے منتخب ہونے کے بعد اپنا کاروبار وہیں پہ چھوڑ دیں۔ ایک ٹکے کی کرپشن نہ کریں‘ ترقیاتی فنڈز اسی مد میں لگائیں جس کیلئے جاری ہوا۔ خود کو دیانت کا نمونہ بنا کر پیش کریں تو اخراجات کیلئے آج سے دگنی تنخواہیں مراعات کی ضرورت ہو گی تو قوم بڑی خوشی سے انکی نذر کریگی۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ چند ایک کے سوا قوم کے نمائندے اس معیار پر پورا نہیں اترتے۔ اکثر کی نس نس میں کرپشن سرایت کر چکی ہے۔ ضرورت سپریم کورٹ کے ان ریمارکس کو عملی شکل دینے کی شدت سے محسوس ہو رہی ہے کہ صادق اور امین کا فیصلہ ہو جانا چاہیے‘ پوری اسمبلی بھی فارغ ہو جائے تو کوئی پروا نہیں۔