مولانا فضل الرحمن پر خودکش حملہ

ایڈیٹر  |  اداریہ
مولانا فضل الرحمن پر خودکش حملہ

مولانا فضل الرحمن کوئٹہ میں خودکش حملہ میں بال بال بچ گئے، بم پروف گاڑی مکمل تباہ 2افراد جاںبحق اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے صدر وزیراعظم وزراء اعلیٰ اور سیاسی و مذہبی رہنمائوں کی شدید مذمت۔
مولانا فضل الرحمن ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں انہوں نے وسیع حلقہ احباب رکھنے اور خصوصی طور پر مذہبی مکتب فکر سے تعلق رکھنے کے باوجود آج تک اپنے ووٹر اور عقیدت مندوں کو دھرنے کی سیاست سے دور رکھا انہیں نہ صرف سیاست کرنے کا فن آتا ہے بلکہ بڑے بڑے سیاستدان انہیں سیاست میں ایک گرو کا درجہ دیتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن مذہبی جماعت کے لیڈر ہونے کے باوجود فرقہ وارانہ تعصب سے کوسوں دور ہیں بلکہ ماضی میں انہوں نے فرقہ واریت کے خاتمے کیلئے تمام مذہبی جماعتوں کو ایم ایم اے کے پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔ شیعہ سنی علماء کرام کے درمیان دوریاں ختم کیں۔ مولانا فضل الرحمن مذہبی لیڈر ہونے کے باوجود ایک مکمل سیاسی آدمی ہیں ان کی سیاست کا مرکز اپنے مکتبہ فکر کو بھی پروان چڑھانا نہیں بلکہ وہ مذہب کو سیاست سے الگ رکھتے ہیں اور ملک کی خوشحالی استحکام اور اداروں کی مضبوطی کیلئے کام کرتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن انقلاب کیلئے بلٹ کی بجائے بیلٹ پر یقین رکھتے ہیں اسی بناء پر ماضی میں ان پر تین خودکش حملے ہو چکے ہیں۔ حالیہ حملہ انتہائی خطرناک تھا جس میں انکی بم پروف گاڑی بھی جزوی طور پر تباہ ہوگئی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں محفوظ رکھا۔ کوئٹہ صبح کے وقت 2 افراد کو قتل کیا گیا۔ لیکن حکومت کی نا اہلی دیکھئے کہ اتنے بڑے جلسے کیلئے سکیورٹی انتظامات نہ ہونے کے برابر تھے۔ نادیدہ قوتیں ملک میں امن و امان خراب کرنے کی تگ و دو میں ہیں۔ حکومت سیاستدانوں مذہبی رہنمائوں اور عوام الناس کی سکیورٹی سخت کرے۔ محرم کی آمد سے قبل سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے جائیں۔