لندن فوجی کا بہیمانہ قتل، قابل مذمت

لندن فوجی کا بہیمانہ قتل، قابل مذمت

لندن کے علاقے وول وچ میں بدھ کے روز برطانوی فوجی کے دو مسلمانوں کے ہاتھوں سر قلم کرنے کے باعث بہیمانہ قتل کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ قاتلوں کی طرف سے یہ تاثر دیا گیا کہ حملہ برطانوی فوجیوں کی مسلمان ممالک میں کارروائیوں کا بدلہ لینے کیلئے کیا گیا۔ حملے کی خبر چلنے کے بعد اور تفصیلات ظاہر ہونے پر مسلمانوں کیخلاف مظاہرے کئے گئے۔ حملہ آوروں نے فوجی کو قتل کرکے 20 منٹ تک وقوعہ کی جگہ پر خوف و ہراس پھیلائے رکھا۔دہشت گردوں کا تعلق نائیجریا سے بتایا جاتا ہے اور دونوں اپنا مذہب مسلمان بتاتے ہیں۔ دہشت گردوں کا کسی مذہب سے تعلق نہیں ہو سکتا۔ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کا حقائق پر مبنی خطاب بین المذاہب ہم آہنگی کی بہترین مثال ہے اور ایک جذباتی وقت پر ذمہ داری کا جرا¿ت مندانہ اور قابل مظاہرہ ہے جس میں انہوں نے کہا کہ برطانوی فوجی کی ہلاکت کا الزام کسی صورت اسلام پر نہیں لگایا جا سکتا۔ یہ حملہ صرف برطانیہ پر ہی نہیں مسلمانوں پر بھی تھا۔ یہ حملہ مسلمانوں سے غداری ہے۔ برطانیہ میں موجود مسلمانوں کی اس بہیمانہ حملے کے بعد ذمہ داری میں مزید اضافہ ہو گیا کہ وہ اپنی صفوں میں موجود اسلام کا لبادہ اوڑھ کر شدت پسندی کو فروغ دینے والے مشکوک افراد کو قانون کے حوالے کر دیں۔ برطانوی حکومت ایسے لوگوں کو کڑی سزا دیتی ہے یا ملک بدر کرتی ہے اس سے یقیناً برطانیہ ممکنہ دہشت گردی کی کارروائیوں سے محفوظ رہ سکے گا۔