امریکی صدر اوبامہ کا ڈرون حملے قانونی قرار دیکر جاری رکھنے کا اعلان ....یہ امریکی پالیسی کیا ہمارے آنیوالے حکمرانوں کو چیلنج ہے؟

امریکی صدر اوبامہ کا ڈرون حملے قانونی قرار دیکر جاری رکھنے کا اعلان ....یہ امریکی پالیسی کیا ہمارے آنیوالے حکمرانوں کو چیلنج ہے؟

امریکی صدر باراک اوبامہ نے کہا ہے کہ ڈرون حملے انسانی جان بچاتے ہیں‘ انکے ذریعے دہشت گردوں کو نشانہ بنانا قانونی ہے۔ یہ انتہائی مو¿ثر ہیں‘ القاعدہ پر ڈرون حملے 2014ءتک جاری رہیں گے۔ گزشتہ روز واشنگٹن میں انٹرنیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے اوبامہ نے کہا کہ اسامہ بن لادن کیخلاف اپریشن میں پاکستانی حکومت نے تعاون کیا تھا۔ ہمیں افغانستان سے باہر بھی جنگ لڑنا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو آزادی کی قیمت کا اندازہ ہے‘ نائن الیون میں دہشت گردوں کا گروہ امریکہ پر حملہ آور ہوا تھا۔ اب جنگ کا خاتمہ قریب ہے اور اسامہ کی ہلاکت سے امریکہ زیادہ محفوظ ہو گیا ہے۔ ہم دہشت گردی کی روک تھام کے نئے طریقے استعمال کر رہے ہیں اور القاعدہ کے ساتھ جنگ کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ ڈرون حملوں کی وجہ سے ہم اپنے دشمن کو آسانی سے ہدف بنا سکتے ہیں۔ انکے بقول سات ہزار امریکی فوجیوں نے اس جنگ میں اپنی جان دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ امریکہ اور اسلام کسی جنگ میں ہیں۔ امریکہ اور اسلام کے درمیان کوئی جنگ نہیں اور اس تاثر کو مسلمانوں کی اکثریت مسترد کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری کوشش ہو گی کہ ڈرون حملوں میں کوئی شہری ہلاک نہ ہو کیونکہ ڈرون حملے دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کیلئے ہیں۔ دوسری جانب امریکی دفتر خارجہ نے توقع ظاہر کی ہے کہ پاکستان اور امریکہ دونوں ممالک مشترکہ مفادات پر کام کرینگے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے بقول صدر اوبامہ ڈرون کے استعمال کا اختیار فوج کو دے دینگے۔
یقیناً ہر ملک کو اپنی آزادی اور سالمیت کے تحفظ کیلئے اپنے مفادات کے مطابق پالیسیاں اختیار کرنے کا حق حاصل ہے اور امریکہ نے اسی پس منظر میں دہشت گردی کی جنگ میں ڈرون حملوں کی پالیسی اختیار کی جس کے صدر اوبامہ کے بقول مثبت نتائج سامنے آئے ہیں اور اب امریکہ زیادہ محفوظ ہو گیا ہے مگر امریکہ کو اپنی آزادی اور سالمیت کے تحفظ کی خاطر کسی دوسرے ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے اور ڈرون حملوں کے ذریعے وہاں کے شہریوں کے قتل عام کی کسی عالمی قانون‘ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور اخلاقی طور پر بھی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انسانی معاشرہ پرامن بقائے باہمی اور ایک دوسرے کی خودمختاری کو تسلیم کرنے کے فلسفہ کی بنیاد پر ہی استوار ہوا ہے جبکہ ڈرون حملوں کی پالیسی کے تحت بادی النظر میں اس آفاقی اصول کی نفی ہی نہیں‘ خلاف ورزی بھی کی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں ڈرون حملوں کی امریکی پالیسی کیخلاف دنیا بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی میں بھی ڈرون حملوں کے حوالے سے امریکہ کیخلاف شکایت درج کرائی جا چکی ہے جس کا یو این سیکرٹری جنرل بانکی مون نے نوٹس بھی لے رکھا ہے جبکہ ڈرون حملوں کیخلاف یو این ہیومن رائٹس ونگ کی ایک جامع رپورٹ بھی گزشتہ ماہ منظرعام پر آچکی ہے جس کے ذریعے یہ سوہان روح حقائق منظر عام پر لائے گئے ہیں کہ پاکستان‘ افغانستان‘ یمن اور صومالیہ میں اب تک کئے گئے چار سو ڈرون حملوں میں چار ہزار سات سو بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ اس سے پہلے گزشتہ سال تین امریکی تعلیمی اداروں کی جانب سے پاکستان کے ڈرون حملوں سے متاثرہ علاقوں کا سروے کراکے ایک مشترکہ رپورٹ جاری کی جا چکی ہے جس میں ڈرون حملوں کے پیدا کردہ انسانی مصائب و آلام کی روح فرسا منظرکشی کی گئی اور امریکہ پر ڈرون حملوں کی پالیسی فی الفور ترک کرنے پر زور دیا گیا۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر ہی یو این ہیومن رائٹس ونگ کی جانب سے واشنگٹن انتظامیہ کو باقاعدہ نوٹس جاری کرکے باور کرایا گیا کہ وہ ڈرون حملوں کی بنیاد پر بدترین جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔
دہشت گردی کیخلاف جاری افغان جنگ میں چونکہ زیادہ تر ڈرون حملے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ہوئے ہیں جن میں چار سو سے زائد بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں کی خود یو این ہیومن رائٹس ونگ کی جانب سے تصدیق کی جا چکی ہے اس لئے ڈرون حملوں میں سب سے زیادہ متاثر بھی پاکستان ہو رہا ہے جو دہشت گردی کی جنگ میں امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی ہے مگر اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصانات پاکستان ہی کو اٹھانے پڑ رہے ہیں جبکہ یہاں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی زیادہ تر وارداتیں ڈرون حملوں کے ردعمل میں ہوئی ہیں۔ صدر اوبامہ کو افغان جنگ میں سات ہزار امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں پر بہت تشویش ہے جبکہ اس جنگ میں براہ راست یا بالواسطہ ہماری سیکورٹی کی فورسز کے 15 ہزار سے زائد جوانوں اور افسران کو اپنی جانوں کے نذرانے دینا پڑے اور متعدد اہم سیاسی شخصیات سمیت ملک کے چالیس ہزار کے قریب شہریوں کی جانیں اسی جنگ کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں‘ اگر صدر اوبامہ کے بقول امریکہ اپنے تحفظ کی خاطر ڈرون حملے برقرار رکھتا ہے تو یہ حملے ہمارے شہریوں کی جانوں کی مزید قربانیوں اور ملک کی سالمیت کی قیمت پر ہی جاری رکھے جائینگے۔ اس تناظر میں امریکی ڈرون حملوں کی پالیسی پاکستان کی سالمیت کو براہ راست چیلنج کرنے کے مترادف ہے جبکہ ملکی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کو یقینی بنانا ہر حکومت کے اولین فرائض میں شامل ہیں۔
امریکی صدر اوبامہ کا یہ کہنا کہ اسامہ کیخلاف اپریشن میں پاکستانی حکومت نے تعاون کیا تھا‘ ہماری دراصل فوج کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی خواہش کا اظہار ہے۔ اسامہ کے اپریشن کے وقت امریکہ کی خاموشی سے فوج کو جو شرمندگی ہوئی‘ اس کا ازالہ کرنے کیلئے صدر اوبامہ نے ”پاکستانی تعاون“ کا لالی پاپ کل کے خطاب میں آفر کیا ہے۔ یہ آنیوالے حکمرانوں کیلئے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ صدر اوبامہ نے یہ اعلان کیا ہے کہ ہمیں اب افغانستان سے باہر بھی جنگ لڑنا ہو گی‘ کیا آنیوالی حکومت اس جنگ کا دائرہ کار پاکستان تک پھیلانے سے روک سکے گی۔ اسی تناظر میں انہوں نے 2014ءتک ڈرون حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے جبکہ ڈرون حملے زیادہ تر پاکستان ہی میں ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال میں ہمارے آنیوالے حکمرانوں کو یقیناً ڈرون حملوں کی امریکی پالیسی کیخلاف ملکی سلامتی اور شہریوں کی جانوں کے تحفظ کی خاطر ملکی و قومی مفادات سے مطابقت رکھنے والی کوئی پالیسی فوری طور پر وضع کرنا ہو گی کیونکہ امریکہ کو اپنی سلامتی کے تحفظ کے نام پر ڈرون حملوں سمیت کوئی بھی قدم اٹھانے کا حق حاصل ہے تو اسی مقصد کے تحت یہ حق ہمیں کیوں حاصل نہیں ہو سکتا۔
اس وقت جبکہ امریکہ برطانیہ سمیت پوری دنیا میں ڈرون حملوں کیخلاف احتجاج ہو رہا ہے اور پشاور ہائیکورٹ نے ڈرون حملوں کو غیرقانونی قرار دیکر حکومت کو ان حملوں کی روک تھام یقینی بنانے کے احکام بھی جاری کردیئے ہیں جبکہ ڈرون حملے بند نہ ہونے کی صورت میں امریکہ کیخلاف سلامتی کونسل میں قرارداد لانے‘ امریکہ کی لاجسٹک سپورٹ اور نیٹو سپلائی بند کرنے اور ڈرون حملوں میں جاں بحق اور زخمی ہونیوالوں کے لواحقین کیلئے امریکہ سے معاوضہ طلب کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ اسی طرح لاہور ہائیکورٹ میں بھی ڈرون حملوں کیخلاف رٹ درخواست کی سماعت جاری ہے جبکہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی گزشتہ روز ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں عالمی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی قرار دیا ہے تو ہمارے آنیوالے حکمرانوں کو اس معاملہ میں بہرصورت کوئی ٹھوس پالیسی مرتب کرنا ہو گی کیونکہ ڈرون حملے نہ رکے تو ان حملوں کے علاوہ دہشت گردی اور خودکش حملوں میں بھی بے گناہ انسانوں کے خونِ ناحق کی ندیاں بہتی رہیں گی۔
صدر اوبامہ کی تقریر میں ڈرون حملے برقرار رکھنے کے اعلان کے بعد گزشتہ روز منگی روڈ پشاور میں ایک مسجد کے قریب ہونیوالا بم دھماکہ بھی بادی النظر میں اسی پالیسی کا شاخسانہ نظر آتا ہے جس میں تین افراد جاں بحق اور ایک زخمی ہوا جبکہ اس سے ایک روز قبل کوئٹہ میں بلوچستان کانسٹیبلری کے ایک ٹرک پر حملہ میں 12 اہلکاروں سمیت 13 افراد جاں بحق اور 22 زخمی ہوئے اور اسی طرح کرم ایجنسی میں سکیورٹی فورسز پر حملہ میں ایک کیپٹن سمیت چار اہلکار جاں بحق ہوئے ہیں۔ اس تناظر میں دہشت گردی کا خاتمہ تو ہماری اپنی اشد ضرورت ہے‘ مگر اس کا حل ملک کے باہر سے ہم پر فضائی اور زمینی جارحیت نہیں ہے۔ دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے ہماری حکومتی اور عسکری قیادتوں کو بھی کسی بھی نوعیت کے اقدامات اٹھانے کا حق حاصل ہے جو وہ استعمال بھی کر رہی ہیں مگر یہ اقدام اسی صورت مو¿ثر ہو سکتا ہے جب بیرونی جارحیت کی مو¿ثر روک تھام ہو گی کیونکہ ڈرون حملوں کی شکل میں اس بیرونی جارحیت کا ارتکاب ہماری سرزمین پر دہشت گردی کم کرنے کے بجائے اس میں اضافہ کا موجب بن رہا ہے۔ اگرصدر اوبامہ کے بقول امریکہ اسامہ کی ہلاکت کے بعد زیادہ محفوظ ہو گیا ہے تو پھر انہیں اپنی ڈرون پالیسی کے تحت ہمیں عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کیوں سوجھ رہی ہے؟ اگر افغان جنگ میں باہمی اعتماد مجروح ہو گا تو اس جنگ کی کامیابی کی کیسے ضمانت دی جا سکتی ہے؟