چین کی معاونت سے لاہور میٹروٹرین کے منصوبے اور تجارتی راہداری جلد مکمل کرنے پر اتفاق …… عوام کے دیگر مسائل بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کریں

ایڈیٹر  |  اداریہ
چین کی معاونت سے لاہور میٹروٹرین کے منصوبے اور تجارتی راہداری جلد مکمل کرنے پر اتفاق …… عوام کے دیگر مسائل بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کریں

پاکستان میں پہلی میٹرو ٹرین چلانے کے معاہدے کی تاریخی تقریب گزشتہ روز شنگھائی میں منعقد ہوئی۔ پاکستان کیطرف سے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور چین کی طرف سے نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارمز کمیشن کے چیئرمین ژوسوسائی نے میٹرو ٹرین چلانے کے منصوبے کے معاہدے پر دستخط کئے۔ اس موقع پر عوامی جمہوریہ چین کے صدر ژی جی پنگ اور پاکستان کے صدر ممنون بھی موجود تھے۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف نے اس معاہدے کو تاریخ ساز قرار دیتے ہوئے کہا کہ لاہور میں میٹرو ٹرین کا منصوبہ ملک کی تاریخ میں اہم سنگ میل ثابت ہو گا جس سے عوام کو جدید اور بہترین سفری سہولتیں میسر آئینگی۔ یہ منصوبہ آمدورفت کے نظام میں انقلاب لائے گا۔ چین کی معاونت سے شروع کیا جانیوالا یہ منصوبہ 27 ماہ میں مکمل ہو گا جس کے تحت لاہور اورنج لائن ٹرین کا 27.1 کلومیٹر طویل ٹریک بچھایا جائیگا جبکہ 25.4 کلومیٹر ٹریک معلق ہوگا۔ میٹرو ٹرین سے شروع میں تقریباً اڑھائی لاکھ شہری روزانہ سفر کرینگے جبکہ 2025ء تک مسافروں کی تعداد بڑھ کر دوگنا ہو جائیگی۔ اس منصوبے کا تخمینہ 1.6 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ میاں شہبازشریف نے ملک واپس آکر گزشتہ شب ایک نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ چین کے صدر اور وزیراعظم پاکستانی عوام کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ہر طرح کا تعاون کرنے کو تیار ہیں۔
عوام کو جہاں غربت‘ مہنگائی‘ بے روزگاری‘ بدامنی اور توانائی کے بحران کے گھمبیر مسائل کا سامنا ہے‘ وہیں پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی کا مسئلہ بھی ان کیلئے سوہانِ روح بنا رہتا ہے جبکہ شہریوں کو ٹرانسپورٹ کی فراہمی بھی حکومت کی بنیادی آئینی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ یقیناً اسی تناظر میں مسلم لیگ (ن) کے ہر دور حکومت میں شہریوں کو ٹرانسپورٹ کی بہتر سہولتوں کی فراہمی اسکی اولین ترجیحات میں شامل رہی ہے۔ میاں نوازشریف نے بطور وزیراعظم اپنے پہلے دور حکومت میں جب لاہور تا راولپنڈی موٹروے کے منصوبے کا آغاز کیا تو انکے خیرخواہوں نے انہیں شیرشاہ سوری کا لقب دیا جبکہ انکے مخالفین نے اس منصوبے پر قومی دولت و وسائل کے بے جا اصراف کے الزامات عائد کئے مگر جب یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچا تو یہ شہریوں کو بہتر سفری سہولتوں کی فراہمی میں ہی ممدومعاون نہیں ہوا‘ اس سے اقتصادی ترقی کی بھی نئی راہیں کھلیں۔ اسی بنیاد پر آج دنیا بھر میں اس منصوبے کا تذکرہ اچھے الفاظ میں کیا جاتا ہے اور اب اس منصوبے کے ناقدین کی زبانیں بھی بند ہوچکی ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو بطور اپوزیشن لیڈر اس منصوبے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتی رہیں مگر برسراقتدار آنے کے بعد وہ بھی اس منصوبے کی افادیت کی قائل ہو گئیں۔ موٹروے کا منصوبہ اپنی افادیت کے پیش نظر پشاور تک وسعت پا چکا ہے اور اب لاہور سے ملتان تک اس منصوبے کی توسیع بھی حکومتی حلقوں میں زیرغور ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف بھی اپنے سابقہ ادوار حکومت میں اسی جذبے اور لگن کے تحت عوام کو بہتر سفری سہولتوں کی فراہمی کے منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچاتے رہے ہیں جبکہ حکومت کے تعمیراتی‘ ترقیاتی منصوبوں میں سڑکوں کی تعمیر میاں شہباز شریف کی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل رہی ہے۔ گزشتہ دور حکومت میں انہوں نے برادر ترکی کے تعاون سے لاہور کے شہریوں کو میٹروبس کا تحفہ دیا۔ یہ منصوبہ عالمی معیار کے ساتھ انتہائی کم مدت میں پایۂ تکمیل کو پہنچا جبکہ انہیں بھی سیاسی مخالفین کی جانب سے اس منصوبے کے حوالے سے کمیشن خوری کے الزامات سمیت سخت تنقید کا سانا کرنا پڑا اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی تو ’’جنگلا بس‘‘ قرار دیکر اس منصوبے کو تضحیک کا نشانہ بناتے رہے مگر آج یہی منصوبہ شہریوں کیلئے بہترین اور سستی سفری سہولتوں کی گواہی بن گیا ہے جس سے روزانہ ہزاروں افراد مستفید ہو رہے ہیں اور مسافروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ کے باعث اب مزید میٹرو بسیں بھی فلیٹ میں شامل کرلی گئی ہیں۔
ٹرانزٹ ٹرین کا منصوبہ میاں شہبازشریف کے سابق دور حکومت میں بھی زیرغور رہا ہے مگر اسے عملی جامہ نہ پہنایا جا سکا تاہم اب چین کے ساتھ باضابطہ معاہدہ کرکے وزیراعلیٰ شہبازشریف نے لاہور میٹرو ٹرین کے منصوبے کی بنیاد رکھ دی ہے جس کا مجوزہ ٹریک لاہور کی تقریباً تمام آبادیوں کو کور کریگا۔ اس طرح شہریوں کیلئے اپنے دفاتر‘ کاروبار اور دیگر مقاصد کیلئے آمدورفت آسان ہوجائیگی اور جن شہریوں کو آمدورفت کے سلسلہ میں پبلک ٹرانسپورٹ کی قلت کے باعث گھنٹوں بس سٹاپوں پر کھڑے ہو کر انتظار کی اذیت برداشت کرنا اور دوران سفر دھکے کھانا پڑتے تھے‘ انہیں اب میٹرو ٹرین کی شکل میں ایک اچھی اور سستی سفری سہولت دستیاب ہو جائیگی۔
قوموں کی ترقی میں ذرائع رسل و رسائل انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جن کے ذریعہ شاہراہ ترقی میں سبک خرامی سے چلنا آسان ہو جاتا ہے اس لئے وزیراعلیٰ شہبازشریف ٹرانسپورٹ کی بہتر سہولتوں کو یقینی بنا کر درحقیقت قومی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں اور یہ خوش آئند صورتحال ہے کہ انہیں میٹروبس کے منصوبے میں برادر ترکی کی بے لوث معاونت حاصل ہوئی تو میٹرو ٹرین کیلئے برادر چین نے انکی آواز پر لبیک کہا ہے۔ چین تو پہلے ہی ہمارا بے لوث اور ہر آڑے وقت میں کام آنیوالا دوست رہا ہے جو اس وقت توانائی کے بحران پر قابو پانے کیلئے بھی ہماری بھرپور معاونت کررہا ہے جبکہ مشترکہ دفاعی حکمت عملی میں بھی وہ کبھی پیچھے نہیں رہا۔ اب میٹروٹرین منصوبے سے پاک چین دوستی خلوص اور مٹھاس کے نئے بندھنوں میں بندھے گی۔ وزیراعظم میاں نواشریف نے بھی گزشتہ روز اسلام آباد میں چینی وفد سے گفتگو اور موبائل کمپنیوں کو لائسنس دینے کی تقریب میں خطاب کے دوران اسی تناظر میں اعلان کیا ہے کہ اب ملکی وقار بحال کرنے کا آغاز ہو گیا ہے اور ہم چار سال بعد قوم کو روشن‘ توانا اور خوشحال پاکستان دینگے۔ انہوں نے اقتدار میں آتے ہی چین کی معاونت سے اقتصادی دھماکوں کی منصوبہ بندی کرلی تھی جس کیلئے اب تک بہت پیشرفت کی جا چکی ہے۔ اس وقت گواردر پورٹ کے منصوبے پر بھی چین کی معاونت سے کام جاری ہے جبکہ چین کے ساتھ طے پانے والے توانائی کے منصوبوں کے پایۂ تکمیل کو پہنچنے پر توانائی کے بحران سے بھی ہم مستقل طور پر خلاصی پالیں گے جس کے بعد شاہراہ ترقی پر گامزن رہنا ہمارے مقدر کا حصہ اور روشن مستقبل کی ضمانت بن جائیگا۔ ان ترقیاتی منصوبوں سے لازمی طور پر شہریوں کیلئے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں اور قومی معیشت کو بھی استحکام حاصل ہوتا ہے چنانچہ لاہور میٹروٹرین کا منصوبہ بھی اس تناظر میں اہم پیشرفت ثابت ہوگا تاہم ایسے ترقیاتی منصوبوں سے یہ تاثر ہرگز پیدا نہیں ہونا چاہیے کہ حکومت شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے اور بالخصوص لاہور کے شہریوں کو نوازا جا رہا ہے۔ اس تاثر کی بنیاد پر ہی مسلم لیگ (ن) کے قائدین کو ناقدین کی جانب سے تخت لاہور کے طعنے ملتے ہیں اس لئے حکومت کو ایسے ترقیاتی منصوبوں کا رخ دیگر صوبوں کی جانب بھی کرنا چاہیے۔ اس وقت بلوچستان‘ تھر اور جنوبی پنجاب کے علاقے چولستان میں پسماندگی اور وسائل سے محرومی کے باعث وہاں کے عوام انتہائی بے چارگی کی زندگی بسر کر رہے ہیں جن کے بارے میں مختلف این جی اوز اور اپوزیشن جماعتیں بالخصوص موجودہ حکمرانوں کو تنقید کا نشانہ بناتی رہتی ہیں اس لئے قومی ترقی کے منصوبوں میں ملک کے ان پسماندہ اور خشک سالی کا شکار علاقوں کو ہرگز نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ یقیناً میٹروبس یا میٹروٹرین ان علاقوں کے لوگوں کی ضرورت نہیں‘ انہیں پانی‘ بجلی‘ اناج‘ ملازمتوں اور امن و امان کی ضرورت ہے۔ حکومت ان کا ہر مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کا بیڑہ اٹھائے تو پنجاب کے ترقیاتی منصوبوں پر انکی تنقید کی گنجائش بھی کم ہو سکتی ہے اور شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا تاثر بھی زائل ہو سکتا ہے۔ اسی طرح میٹروبس اور میٹروٹرین کے منصوبوں سے متاثر ہونیوالے شہریوں کی بھی فوری اور مناسب دادرسی ضروری ہے تاکہ حکومت پر تنقید کا ایک اور دروازہ کھلنے سے رک سکے۔ اگر حکومت لندن‘ یورپ جیسے انڈر گرائونڈ ٹرین کے کسی منصوبے کو عملی جامہ پہناتی تو اس سے لوگوں کی زمینیں اور جائیدادیں بھی زد میں آنے سے بچ سکتی تھیں اور شہر کا حسن بھی برقرار رہتا ۔ ممکن ہے اس منصوبے کی زیادہ لاگت کے باعث اسے عملی جامہ نہ پہنایا جا سکتا ہو۔ اب میٹروٹرین کا منصوبہ معیاری ہی نہیں‘ مکمل شفاف بھی ہونا چاہیے تاکہ برادر چین کے ساتھ اعتماد کے رشتہ میں کوئی دراڑ نہ آئے۔