منشیات کے استعمال میں تشویشناک اضافہ

ایڈیٹر  |  اداریہ
 منشیات کے استعمال میں تشویشناک اضافہ

 اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں منشیات استعمال کرنے والوںکی تعداد میں ایک برس کے دوران 100 فیصد سے بھی زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
 منشیات کا استعمال انسا ن اپنی طرف سے ذہنی سکون حاصل کرنے کیلئے کرتا ہے لیکن آہستہ آہستہ وہ اسکی عادت بن جاتا ہے ۔ معاشرے میں ہر دوسرا انسان پریشان ہے‘ نوجوان بیروزگاری سے پریشان ہیں جبکہ خواتین گھریلو جھگڑوں کے باعث نیند کی گولیاں کھا کر سوتی ہیں۔ اگر معاشرہ خوشحال ہوگا تو کوئی بھی نشے کے قریب نہیں جائیگا۔ نشے کے قریب جانے کی بڑی وجہ معاشرے میں پھیلی بے راہ روی اور بے چینی اور دگرگوں اقتصادی حالات ہیں۔ پوش ایریاز میں لوگ شروع میں فیشن کے طورپر نشہ کرتے ہیں لیکن آہستہ آہستہ وہ نشے کے عادی بن جاتے ہیں ایک برس میں 67 لاکھ افراد نے کسی نہ کسی شکل میں منشیات کا استعمال کیا ہے جس میں چرس، ہیروئن، افیم اور نیند آور ادویات شامل ہیں۔ چرس کا سب سے زیادہ استعمال صوبہ پنجاب میں ہورہا ہے جس میں 25 سے39 سال کے افراد اس لت میں مبتلا ہیں۔یہ سب کچھ اسلامی تعلیمات سے دوری اور بے راہ روی کے باعث ہے۔ والدین اپنی اولاد کی تربیت اچھے طریقے سے کریں انہیں اچھا ماحول فراہم کریں اور حکومت عوام کو تفریح کے مواقع فراہم کرے۔ نوجوان نسل کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں اور منشیات کے اڈوں کیخلاف کریک ڈائون کیاجائے۔