شمالی وزیرستان میں فورسز کی زمینی کارروائی

ایڈیٹر  |  اداریہ
شمالی وزیرستان میں  فورسز کی زمینی کارروائی

شمالی وزیرستان میں زمینی فورسز نے آپریشن کلین اپ کر کے شدت پسندوں کے ٹھکانے مسمار کر دئیے ہیں۔
کالعدم تحریک طالبان کی عسکری کارروائیوں کے بعد پاک فوج نے شمالی وزیرستان میں زمینی آپریشن کر کے شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو مسمار کیاہے، اب ردعمل کے طور پر یہ شدت پسند شہروں کا رُخ کرینگے اور ملک میں افراتفری پھیلانے کی کوشش بھی ہو گی۔ مہمند اور باجوڑ کے طالبان گروپ نے تو برملا کہہ دیا ہے کہ اب جنگ کے سوا کوئی چارہ نہیں، خودکش بمبار بھیجیں گے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ حکومت آپریشن شروع کرنے سے پہلے خیبر پی کے حکومت کو اعتماد میں لیتی اور صوبہ بھر میں سیکورٹی کو ہائی الرٹ کیا جاتا۔ عمران خان اب بھی وزیراعظم کو اعتماد میں لینے کا کہہ رہے ہیں۔ وزیراعظم مذاکرات یا جنگ ہر دو صورت میں پارلیمنٹ‘ سیاسی جماعتوں اور خصوصی طور پر خیبر پی کے حکومت کو اعتماد میں لیں اور اسکے بعد کارروائی کا باقاعدہ اعلان کیا جائے۔ گورنر خیبر پی کے سردار مہتاب احمد خان نے تو اعتراف کیا ہے کہ طالبان سے مذاکرات میں کوئی خاص کامیابی نہیں ملی، اتنی تگ و دو کے باوجود کوئی خاص کامیابی نہیں ملی تو پھر مستقبل میں مذاکرات کی کامیابی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ لہٰذا حکومت کو عسکری قیادت کے ساتھ بیٹھ کر ملک و قوم کی بہتری کے بارے ایسا فیصلہ کرنا چاہئے جس میں سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔