حکمران پیپلزپارٹی کا انجام سامنے رکھیں اور ہائیڈل بجلی کے حصول پر توجہ دیں

ایڈیٹر  |  اداریہ
حکمران پیپلزپارٹی کا انجام سامنے رکھیں اور ہائیڈل بجلی کے حصول پر توجہ دیں

لوڈشیڈنگ پر قابو پانے میں حکومتی ناکامی‘ عوام سراپا احتجاج‘ اپوزیشن متحد

ملک میں بڑھتی ہوئی گرمی کی حدت اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کے دورانیہ میں اضافہ سے بڑھتے ہوئے عوامی مسائل کیخلاف جہاں ملک بھر میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے‘ وہیں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اپوزیشن نے بھی متحد ہو کر حکومت کیخلاف احتجاج کا سلسلہ شروع کردیا ہے جبکہ اس ایشو پر گرینڈ اپوزیشن الائنس کی فضا بھی ہموار ہوتی نظر آرہی ہے۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں پیپلزپارٹی‘ تحریک انصاف اور دوسری اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے لوڈشیڈنگ کیخلاف اجلاس کی کارروائی کا علامتی بائیکاٹ کیا جبکہ کراچی میں حبس اور گرمی سے جاںبحق ہونیوالے ساڑھے چار سو کے قریب شہریوں کی اپوزیشن ارکان نے قومی اسمبلی کے باہر غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جس کے بعد اپوزیشن متاثرین نے جمعة المبارک کو ملک بھر میں یوم سوگ منانے کا اعلان کیا۔ عوام اور اپوزیشن کی جانب سے بالخصوص ماہ رمضان المبارک کے دوران بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ پر سخت احتجاج کرتے ہوئے اسے وزارت پانی و بجلی کی نااہلی اور حکومتی بدنظمی سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ لوڈشیڈنگ کیخلاف قومی اسمبلی سے واک آﺅٹ کرنے والوں میں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے علاوہ جماعت اسلامی‘ قومی وطن پارٹی‘ ایم کیو ایم متحدہ‘ اے این پی اور عوامی مسلم لیگ کے ارکان بھی شامل تھے جنہوں نے پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ دو سال میں لائن لاسز کم ہوئے نہ لوڈشیڈنگ پرقابو پایا جا سکا جبکہ بجلی کے نرخوں میں دوگنا اضافہ کردیا گیا۔ حکومت کو اپوزیشن کے ایسے ہی احتجاج کا سامنا گزشتہ روز پنجاب اسمبلی‘ سندھ اسمبلی‘ خیبر پی کے اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی میں بھی کرنا پڑا جہاں اپوزیشن ارکان نے اجلاس کی کارروائی سے واک آﺅٹ کرتے ہوئے اسمبلیوں کے باہر احتجاجی مظاہرے کئے۔ 

قوم کو توانائی کے بحران کا پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں بھی اسی طرح سامنا رہا ہے۔ اس وقت بھی حکومت کی جانب سے لوڈشیڈنگ کے ستائے عوام کو وعدے وعید پر ٹرخانے اور لالی پاپ دے کر مطمئن کرنے کی ہی پالیسی اختیار کئے رکھی گئی اور اس وقت کی اپوزیشن میاں نوازشریف کی قیادت میں وفاقی حکمران کے اسی طرح لتّے لیتی رہی جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف تو مینار پاکستان پر احتجاجی کیمپ لگا کر بیٹھ گئے تھے جو وہاں ہفتوں بیٹھے دستی پنکھا جھلتے وفاقی حکمرانوں کیخلاف عوامی جذبات بھڑکاتے رہے۔ اسکے ساتھ ساتھ مسلم لیگ (ن) کے قائدین قوم کو بجلی کے بحران سے مستقل نجات دلانے کے وعدے بھی کرتے رہے چنانچہ لوڈشیڈنگ ہی وہ واحد ایشو تھا جو عوام میں حکومت مخالف جذبات ابھارنے کا باعث بنا اور انہوں نے مئی 2013ءکے انتخابات میں پیپلزپارٹی کو بری طرح مسترد کر دیا جبکہ عوام کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کو حکمرانی کا مینڈیٹ توانائی بحران ختم کرنے سے متعلق اس پارٹی کے قائدین کے بلند بانگ دعوﺅں کی بنیاد پر ہی دیا گیا تھا۔
چاہیے تو یہ تھا کہ توانائی کے بحران کیخلاف عوام کے پروان چڑھتے حکومت مخالف جذبات کو مسلم لیگ (ن) پیش نظر رکھتی اور اقتدار میں آنے کے بعد توانائی کے بحران سے نجات اپنی اولین ترجیح بناتی۔ اس کیلئے مسلم لیگ (ن) کے اقتدار کی پہلی سہ ماہی کے دوران وزیراعظم نوازشریف سے لے کر وفاقی اور صوبائی وزراءتک کی جانب سے عوام کا دل لبھانے والے بیانات بھی دیئے گئے اور وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب نے یکے بعد دیگرے چین کے دورے کرکے اور وہاں توانائی کے منصوبوں پر معاہدے اور ایم او یوز کرکے عوام کو توانائی کے بحران کے خاتمہ کے معاملہ میں اپنے سنجیدہ ہونے کا یقین دلانے کی بھی کوشش کی مگر ان سب دعوﺅں اور معاہدوں کے باوجود بوتل سے باہر نکلا ہوا بجلی کے بحران کا جن بپھرا ہی نظر آیا جس سے موجودہ حکمرانوں کے بارے میں بھی عوام میں مایوسی‘ بددلی اور منافرت کی فضا ہموار ہونا فطری امر تھا۔ گزشتہ سال عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری نے اپنی حکومت مخالف دھرنا تحریک میں چونکہ صرف انتخابی دھاندلیوں کو اپنی تحریک کی بنیاد بنایا تھا اس لئے توانائی کا بحران برقرار ہونے کے باوجود حکومت کو لوڈشیڈنگ کیخلاف عوام کی احتجاجی تحریک کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا مگر اب تو حکومت مخالف تحریک کیلئے لوڈشیڈنگ کا ایشو ہی فوکس ہو چکا ہے جس پر عوام تو پہلے ہی سراپا احتجاج بنے آئے روز سڑکوں پر مظاہرے کرتے نظر آتے ہیں جبکہ اب منتخب فورموں پر حکومت کو اسی ایشو پر اپوزیشن ارکان کی سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جس میں شدت کراچی میں حبس اور غیرمعمولی گرمی سے روزانہ ہونیوالی سینکڑوں انسانی ہلاکتوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے اور اپوزیشن جماعتوں کو حکومت مخالف گرینڈ الائنس کیلئے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونے کا موقع بھی مل گیا ہے اس لئے حکومت نے قوم کو لوڈشیڈنگ کے عذاب سے نجات دلانے کیلئے فوری اقدامات نہ اٹھائے اور توانائی کے حصول کیلئے پانی کے دستیاب وسائل سے استفادہ کرنے سے گریز کی سابقہ حکمرانوں والی پالیسی اختیار کئے رکھی تو آنیوالے دنوں میں حکومت کو سخت عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
عوام تو پہلے ہی لوڈشیڈنگ سے پیدا ہونیوالے مسائل سے عاجز آئے ہوئے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے اقتدار کے موجودہ دو سال کے دوران بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں مسلسل اضافہ کی صورت میں مہنگائی کے پڑنے والے اضافی بوجھ نے بھی عوام کی چیخیں نکال دی ہیں جبکہ وزارت پانی و بجلی نے بجلی چوروں اور لائن لاسز پر قابو پانے میں ناکامی کے بعد بجلی چوری والے علاقے کے تمام مکینوں کو ماہ رمضان المبارک کے دوران بھی لوڈشیڈنگ کے عذاب سے دوچار رکھنے کی پالیسی اختیار کی تو اس سے بھی عوام کے دلوں میں حکومت مخالف سوچ کو تقویت حاصل ہوئی۔ اب وفاقی بجٹ کی منظوری کے بعد عوام کو بجلی پر سبسڈی ختم ہونے اور فیول چارجز کی شکل میں اضافی ٹیکس لگنے سے بجلی کے بلوں میں مزید اضافے کا بوجھ اٹھانا پڑےگا تو انکے حکومت مخالف جذبات برانگیخت ہونے میں رہی سہی کسر بھی پوری ہو جائیگی جبکہ کراچی کے حالات نے حکومت مخالف تحریک کا ماحول اور بھی سازگار بنا دیا ہے۔
کراچی میں اگرچہ گرمی کی حدت اور حبس میں غیرمعمولی اضافہ کے باعث عوامی مسائل پیدا ہوئے ہیں اور لوگ گرمی سے بچاﺅ کی احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرکے اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں تاہم لوڈشیڈنگ سے قوم کی خلاصی کے معاملہ میں پہلے سے جاری حکومتی بے نیازی اور گورننس کی خامیوں کے باعث غیرمعمولی گرمی سے پیدا ہونیوالے کراچی کے عوام کے مسائل بھی حکومت کے گلے پڑ گئے ہیں۔جب وفاقی وزیر پانی و بجلی سے لے کر وزیراعظم تک کی جانب سے قوم کو یہ یقین دلایا جارہا ہو کہ ماہ رمضان المبارک کے دوران عوام کو سحروافطار کے اوقات میں لوڈشیڈنگ کے عذاب کا سامنا نہیں کرنا پڑیگا اور حقائق اسکے قطعی برعکس نظر آرہے ہوں بلکہ لوڈشیڈنگ کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہو تو مسائل کے مارے عوام سے مزید صبر کی توقع رکھنا عبث ہوگا چنانچہ اب ایسی فضا بنی ہے کہ توانائی کے وسائل نہ بڑھانے والی سابقہ حکمرانوں کی ناکردنیاں بھی موجودہ حکمرانوں کے گلے پڑ رہی ہیں کیونکہ ان حکمرانوں نے بھی توانائی کے وسائل بڑھانے کیلئے کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا اور توانائی کے حصول کے جو معاہدے چین اور ترکی سے کئے گئے ہیں‘ انکے ماتحت منصوبوں کی تکمیل کی صورت میں عوام کو 2018ءتک لوڈشیڈنگ سے نجات دلانے کے حکومتی دعوے سامنے آرہے ہیں۔ چونکہ 2018ءاگلے انتخابات کا سال ہے اس لئے عوام حکومت کے ان دعوﺅں کو انکے انتخابی نعروں سے تعبیر کررہے ہیں جن کے پورا ہونے کی کبھی نوبت نہیں آتی۔ اگر ایسی حکومتی پالیسیوں سے لوڈشیڈنگ بڑھنے سے عوام کے دلوں میں بڑھتے ہوئے غم و غصہ کی کیفیت کا ادراک کرنے کے بجائے پانی و بجلی کے وزیر مملکت عابد شیر علی قوم کو یہ لیکچر دے رہے ہوں کہ لوگ بجلی نہ ہونے سے نہیں مرتے تو تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق عوام ایسے بیانات پر حکمرانوں کے گلے میں ہار تھوڑا ڈالیں گے۔ اس وقت بجلی کا شارٹ فال چھ ہزار میگاواٹ سے بھی بڑھ گیا ہے تو یقیناً اس میں وزارت پانی و بجلی کی بدنظمی اور حکومتی رٹ کی کمزوری کا بھی عمل دخل ہے کیونکہ حکومت بجلی چوری کے قلع قمع اور لائن لاسز کم کرنے کیلئے اب تک کوئی مو¿ثر اقدام اٹھا ہی نہیں پائی۔ بجلی چوروں کی اکثریت منتخب ایوانوں میں بیٹھی انکی قانون شکنیوں کا تحفظ کررہی ہوتی ہے جبکہ اربوں کے ڈیفالٹ سے حکومت تھرمل کمپنیوں اور پی ایس او کو بروقت ادائیگی نہیں کرپاتی تو تھرمل بجلی کی پیداوار ر ک جاتی ہے جس سے توانائی کا بحران زیادہ شدت اختیار کرتا ہے۔
اس وقت ملک کو ضرورت کالاباغ ڈیم کے علاوہ بھی ڈیمز تعمیر کرنے کی ہے جو عوام کو سستی بجلی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ کاشتکاری کیلئے مطلوبہ پانی کی فراہمی میں بھی ممدومعاون ہو سکتے ہیں۔ اگر قومی ضرورت کے حامل ڈیمز کو بھی سیاست کی نذر کیا جارہا ہے تو اس سے بڑی ملک دشمنی اور کیا ہو سکتی ہے اس لئے حکومت کو مفاد پرستوں کے اختلاف رائے کی پروا کئے بغیر کالاباغ ڈیم اور دوسرے ڈیمز کی تعمیر کیلئے عملی پیش رفت کا آغاز کر دینا چاہیے۔ جب ان ڈیمز کی تعمیر کے مخالف حلقے سرگرم ہونگے تو عوام خود ان سے نمٹ لیں گے مگر عوام اب قومی مفادات پر مفاہمتوں کی سیاست ہرگز قبول نہیں کرینگے۔