این جی اوز کی رجسٹریشن اور سکروٹنی کے ساتھ کڑی نگرانی بھی ضروری ہے

ایڈیٹر  |  اداریہ
این جی اوز کی رجسٹریشن اور سکروٹنی  کے ساتھ کڑی نگرانی بھی ضروری ہے

وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں کام کرنیوالی غیر ملکی تنظیموں کو سکیورٹی سے متعلق حساس علاقوں میں کام کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ ا وزیر داخلہ نے وزیر اعظم کی ہدایت کیمطابق غیر ملکی این جی اوز کو 6 ماہ کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ 6 ماہ تک سیو دی چلڈرن سمیت تمام این جی اوز اسی قانون کے تحت کام کرتی رہیں گی۔
حکومت کی طرف سے چند روز قبل سیو دی چلڈرن کے دفاتر سیل کردیئے تھے۔ اس پر امریکی دفترخارجہ کے ترجمان جان کربی نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کو خبردار کیا تھا کہ اس فیصلے سے خود پاکستان کو نقصان ہوگا۔اس بیان کے بعد ہی شاید سیو دی چلڈرن کو بھی چھ ماہ کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔چودھری نثار کہتے ہیں کہ ’سیو دی چلڈرن کے دفاتر کی تعداد 70 سے کم کرکے 13 کر دی گئی ہے۔ یہ تنظیم 1997 سے پاکستان میں رجسٹرڈ ہے تاہم 2012 میں اسامہ بن لادن کیخلاف ایبٹ آباد اپریشن کے بعد خفیہ اداروں کی رپورٹس اس تنظیم کے حق میں نہیں تھیں۔ پھر بھی اس وقت کی حکومت نے اس تنظیم کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔ وزیرداخلہ بتائیں انہوںنے اقتدار میں آ کر کیا کارروائی کی۔ اب اگر کی ہے تو سب کو چھ ماہ کی مہلت دیدی۔ اس کا مطلب ہے کہ امریکہ کی دھمکی میں آ گئے اور شملہ بھی اونچا رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکومتی سطح پر بدانتظامی کی صورت یہ ہے کہ 40 فیصد تک تنظیمیں رجسٹرڈ ہی نہیں۔ غیر ملکی تنظیمیں پاکستان آ کر کس کی اجازت سے کام کرتی ہیں۔ ویزے کے اجراءکے وقت مکمل سکروٹنی کیوں نہیں ہوتی۔ پاکستان کو غیر ملکی تنظیموں نے مقامی ایجنٹوں سے مل کر ”ماسی کا ویڑھا“ بنایا ہوا ہے۔ اس سینہ زوری کی وجہ حکومت کی کمزور پالیساں ہیں۔ کچھ مقامی تنظیموں کی سرگرمیاں بھی مشکوک رہی ہیں۔اندریں حالات بلا امتیاز غیر ملکی اور ملکی این جی اوز کی سکروٹنی کی جائے۔ رجسٹریشن ناگزیر ہے اسکے ساتھ کڑی نگرانی کا بھی اہتمام کیا جائے۔