سابق بھارتی سفارتکار کا بہترین مشورہ

ایڈیٹر  |  اداریہ
سابق بھارتی سفارتکار کا بہترین مشورہ

اقوام متحدہ میں بھارت کے سابق مستقل مندوب اور دہلی پالیسی گروپ  کے اہم رکن چھنما یا آرگھارے خان نے مسئلہ کشمیر کو ایک تاریخی اور تلخ حقیقت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے جا کربھارت نے بڑی غلطی کی، بھارت مسئلہ کشمیر پر مذاکرات سے ہمیشہ کے لئے نہیں بھاگ سکتا۔ کشمیر ایک حقیقت ہے جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ 67 سال سے پاکستان اور بھارت کے مابین یہ مسئلہ موجود ہے۔ یکم جنوری 1948 کو بھارت یہ معاملہ لے کر سلامتی کونسل گیا جب کہ 6جنوری 1948 سے یہ مسئلہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے 30 جنوری کو 1948 کو سلامتی کونسل نے ایک اور قرارداد منظور کی جس کے تحت حالات کا جائزہ لینے کے لئے ایک کمشن کا تقرر کیا گیا تھا۔ 5 جنوری 1949ء کی ایک قرارداد میں واضح طور پر استصواب رائے کے پورے لائحہ عمل کا اعلان کیا گیا۔ اس کے بعد بھی متعدد مرتبہ اقوام متحدہ نے اپنی قراردادوں کی توثیق اور یاددہانی کرائی تھی لیکن بھارت نے مسئلے کو جوں کا توں رکھا ہوا ہے 7 لاکھ بھارتی فوجیوںنے درندوں کا روپ دھار کر پورے کشمیر کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ کشمیریوں کی آزاد نقل وحرکت ختم ہو چکی ہے۔ پوری دنیا بھارت پر کو مسئلہ کشمیر حل کرنے پر زور دے رہی ہے لیکن اس کے سر پر جوں تک نہیں رینگی۔ اب گھر کے بھیدی نے ہی لنکا ڈھاتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت ہمیشہ کیلئے مسئلہ کشمیر سے بھاگ نہیں سکتا۔ بھارت اگر مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل میں لے کر گیا یہ اس کی بڑی غلطی تھی اب کسی نہ کسی دن تو ان قراردادوں پر بحث ہو گی اور بھارت کو کشمیر سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ چھنمایا کی بات کو ہی پلے باندھ کر بھارت کو کشمیر میں استصواب رائے کرانا چاہئے۔ کیونکہ اب پاکستان کی طرف سے نہیں بلکہ بھارت کے اندر سے ہی آوازیں اٹھنا شروع ہو چکی ہیں۔