حکومتی بے تدبیریوں کے باعث ڈاکٹر طاہر القادری پاکستان آ کر دس گھنٹے تک سیاسی ڈرامہ سٹیج کرنے میں کامیاب …… اب بھی وقت ہے حکمران سیاسی بصیرت سے کام لیں اور جمہوریت مخالف سیاست کو پنپنے نہ دیں

ایڈیٹر  |  اداریہ
حکومتی بے تدبیریوں کے باعث ڈاکٹر طاہر القادری پاکستان آ کر دس گھنٹے تک سیاسی ڈرامہ سٹیج کرنے میں کامیاب  …… اب بھی وقت ہے حکمران سیاسی بصیرت سے کام لیں اور جمہوریت مخالف سیاست کو پنپنے نہ دیں

 دوبئی سے امارات ائر لائنز کے ذریعے پاکستان آنے والے تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کو پیر کی صبح اسلام آباد اُترنے کی اجازت نہ دی گئی اور امارات کی متعلقہ پرواز کو اسلام آباد کے بجائے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائر پورٹ لاہور میں اتار لیا گیا جہاں ڈاکٹر طاہر القادری مسلسل 9 گھنٹے تک جہاز کے اندر موجود رہے اور باہر آنے کیلئے مطالبات پیش کرتے رہے، بالآخر گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے وزیراعظم میاں نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے رابطہ کر کے معاملہ طے کرایا۔ حکومت نے ڈاکٹر طاہر القادری کا یہ مطالبہ فوری طور پر منظور کر لیا کہ گورنر پنجاب انہیں لاہور ائر پورٹ لینے آئیں اور وہ ان کے ہمراہ ہی ائر پورٹ سے باہر آئیں گے۔ چنانچہ گورنر پنجاب وزیراعظم کی ہدایت پر لاہور ائر پورٹ پہنچے اور جہاز کے اندر جا کر ڈاکٹر طاہر القادری سے مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا۔ اس دوران ڈاکٹر طاہر القادری نے ان کے سامنے چار مطالبات رکھے کہ (1) وہ ان کی گاڑی کی بجائے اپنی بُلٹ پروف گاڑی میں جائیں گے جو ان کیلئے چودھری پرویز الٰہی نے بھجوائی ہے (2) وہ پہلے سانحۂ ماڈل ٹائون کے زخمیوں کی عیادت کریں گے (3) ادارہ منہاج القرآن سے تمام رکاوٹیں اور بیرئر ہٹا کر اس کی 16 جون سے پہلے والی پوزیشن بحال کر دی جائے (4) 16 جون کو گرفتار کئے گئے تحریک منہاج القرآن کے تمام کارکنوں کو رہا کر دیا جائے۔ حکومت نے ان کے پہلے مطالبے کی بنیاد پر ان کیلئے خود بُلٹ پروف گاڑی ائر پورٹ بھجوائی جس پر انہوں نے سوار ہونے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ چودھری محمد سرور کے ساتھ ان کی سرکاری حیثیت میں نہیں بلکہ ان کے ساتھ ذاتی مراسم کی بنا پر جہاز سے باہر آنے پر آمادہ ہوئے ہیں اور ائر پورٹ کے باہر وہ گورنر پنجاب کے ہمراہ نہیں بلکہ گورنر پنجاب ان کے ہمراہ آئیں گے۔ انہوں نے فرمائش نما یہ مطالبہ بھی کیا کہ ان کو جہاز کے اندر سے ائر پورٹ کے باہر تک تمام ٹی وی چینلز پر لائیو میڈیا کوریج دی جائے۔ ان کے جہاز سے باہر آنے کے تقریباً آدھ گھنٹہ بعد مسلم لیگ (ق) کے رہنما چودھری پرویز الٰہی بھی ائر پورٹ پہنچ گئے چنانچہ وہ ان کے اور گورنر پنجاب کے ہمراہ ائر پورٹ سے باہر نکل کر تحریک منہاج القرآن کے زخمی کارکنوں کی عیادت کیلئے جناح ہسپتال روانہ ہوئے۔
ڈاکٹر طاہر القادری چونکہ 23 جون کو اسلام آباد آنے کا اعلان کرنے کے بعد اپنے بیانات اور ویڈیو کانفرنسوں کے ذریعے حکومت کے خلاف جارحانہ انداز اختیار کر چکے تھے اور اپنی آمد کے وقت فوج سے اسلام آباد ائر پورٹ اپنی تحویل لینے کا مسلسل تقاضہ کر کے صورتحال کشیدہ بنا رہے تھے جبکہ پنجاب پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے 16 جون کی رات ماڈل ٹائون میں ادارہ منہاج القرآن اور ڈاکٹر طاہر القادری کے گھر پر اپریشن کر کے، سیدھی فائرنگ کر کے اور لاٹھی، گولی، آنسو گیس سمیت تشدد کے دیگر ہتھکنڈے اختیار کر کے تحریک کے کارکنوں کو مزید مشتعل کر دیا تھا جبکہ ڈاکٹر طاہر القادری کو اس سانحہ کے نتیجہ میں اپنی سیاست کیلئے اپنے کارکنوں کی درجن بھر لاشیں بھی مل گئی تھیں اس لئے حکومت نے اس خدشے کے تحت کہ ڈاکٹر طاہر القادری کے اسلام آباد آنے سے امن و امان کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہو سکتی ہے، انہیں اسلام آباد ائر پورٹ اُترنے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا اور امارات ائر لائنز کی متعلقہ پرواز کا رُخ لاہور کی جانب موڑ دیا گیا چنانچہ کسی خطرے کی بنیاد پر عجلت میں کئے گئے حکومت کے اس فیصلہ کو بھی ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنی سیاسی پوائنٹ سکورنگ کیلئے خوب استعمال کیا اور تقریباً 9 گھنٹے تک جہاز میں بیٹھ کر اپنے مطالبات پیش کرتے اور حکومت کا ان مطالبات کے آگے سر تسلیم خم ہوتا دیکھ کر حکومتی کمزوریوں سے خوب فائدہ اٹھاتے رہے جبکہ مسلم لیگ (ق) کے رہنما چودھری پرویز الٰہی نے بھی اپنی سیاسی پوائنٹ سکورنگ کیلئے اس موقع کو غنیمت جانا اور اپنی بُلٹ پروف گاڑی بھجوانے کے بعد خود بھی ائر پورٹ پہنچ گئے۔ اس سارے عرصے میں اسلام آباد سے لاہور تک گورننس نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی تھی۔ ڈاکٹر طاہر القادری کی کال پر ملک بھر سے اسلام آباد آنے والے تحریک منہاج القرآن کے کارکنوں نے بھی دن بھر ائر پورٹ کے باہر اودھم مچائے رکھا جن کی لٹھ ماری اور پتھرائو سے جہاں ایک سو کے قریب پولیس اہلکار زخمی ہوئے وہیں ائر پورٹ کے باہر کھڑی گاڑیوں اور دوسری املاک کو بھی نقصان پہنچایا جبکہ ڈاکٹر طاہر القادری کو جہاز سے باہر نکالنے کا کریڈٹ بھی گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے لے لیا اور گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کا مفاہمانہ کردار حکومتی کمزوریوں کے باعث پس منظر میں چلا گیا۔ اگر حکومت کسی خوف کی بنیاد پر ڈاکٹر طاہر القادری کو اسلام آباد نہ اُترنے دینے کا فیصلہ کرنے کی بجائے انہیں اسلام آباد ائر پورٹ اُترنے دیتی اور پھر وہیں سے انہیں ہیلی کاپٹر میں بٹھا کر لاہور پہنچا دیا جاتا تو دن بھر ہونے والی حکومت کی سبکی کی نوبت نہ آتی۔ اس حکومتی اقدام کے باعث جہاں ایک انٹرنیشنل فلائیٹ کا رُخ موڑ کر لاہور لے جانے سے عالمی سطح پر پاکستان کا تشخص مجروح ہُوا اور مخصوص مفادات کے حامل عناصر کو ملکی اور غیر ملکی میڈیا پر پاکستان کے خلاف پراپیگنڈے کا موقع ملا وہیں پاکستان کیلئے بیرونی پروازوں کے حوالے سے بھی متعلقہ ائر لائنز کے تحفظات کا اظہار سامنے آیا۔ امارات ائر لائنز نے تو پاکستان آنے والی اپنی پرواز کے روکے جانے پر حکومتِ پاکستان کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے جس سے اس وطن عزیز کی ساکھ مزید مجروح ہو گی۔ یہ حقیقت اپنی جگہ درست ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری بعض اندرونی اور بیرونی قوتوں کی سرپرستی میں جمہوری نظام کو سبوتاژ کرنے کا ایجنڈہ لے کر پاکستان آئے ہیں جس کا عندیہ ان کے بیانات، ٹی وی انٹرویوز اور ویڈیو کانفرنسوں میں ان کے اظہارِ خیال سے بھی ملتا ہے تاہم حکومت کو فہم و بصیرت اور ہوشمندی کے ساتھ اس سازش کا سیاسی توڑ کرنا چاہئے تھا اور ایسی کوئی حکمتِ عملی طے نہیں کرنی چاہئے تھی جس سے سیاسی مخالفین کو ریاستی طاقت کے زور پر دبانے کا تاثر پیدا ہوتا ہو جبکہ ماڈل ٹائون پولیس اپریشن نے ڈاکٹر طاہر القادری اور ان کے سرپرستوں کو جمہوریت اور منتخب جمہوری حکومت پر گند اُچھالنے کا نادر موقع فراہم کر دیا۔ اس سانحہ میں حکومت کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے معذرت خواہانہ رویے، وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے استعفے اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے کارِ خاص توقیر شاہ کو ان کے منصب سے فارغ کرنے سے بھی نہیں ہو سکا جبکہ لاہور پہنچائے جانے کے بعد گذشتہ روز ڈاکٹر طاہر القادری اپنے حکومت مخالف ایجنڈے کی تکمیل کیلئے بڑھکیں لگاتے نظر آئے۔ یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ سیاست اور اظہار رائے کی آزادی کے باوجود کسی کو قانون ہاتھ میں لینے، امن و امان سے کھیلنے اور مروجہ نظام کو طاقت کے زور پر اکھاڑنے کی دھمکیاں دینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور حکومت کی جانب سے ڈاکٹر طاہر القادری کے حوالے سے اسی تناظر میں اقدامات اُٹھائے گئے ہیں مگر حکومت کو اپنے اقدامات کے ذریعے ایسی صورتحال ہرگز پیدا نہیں ہونے دینی چاہئے تھی جس سے ملک اور جمہوریت دشمن عناصر کو ڈاکٹر طاہر القادری کے ذریعے اپنے مخصوص ایجنڈے کی تکمیل کا موقع مل سکتا ہو۔ بدقسمتی سے حکومتی اقدامات نے ایسے ہی مواقع پیدا کئے چنانچہ ڈاکٹر طاہر القادری تمام تر حکومتی اقدامات کے باوجود لاہور پہنچ کر اپنی مرضی سیاست چمکانے کی پوزیشن میں آ گئے ہیں حالانکہ دہشت گردوں کے خلاف جاری فوجی اپریشن کے دوران ایسی مفاد پرستانہ سیاست کی قطعاً گنجائش نہیں نکلتی۔ اب بھی وقت ہے کہ حکومت ڈاکٹر طاہر القادری کے جمہوریت مخالف ایجنڈے کا سیاسی فہم و فراست سے مقابلہ کرے اور ان کے اور ان کی تنظیم کے خلاف حکومتی ریاستی مشینری بروئے کار لانے کے بجائے سیاسی طور پر ان کے ایجنڈے کو بے نقاب کرے بصورت دیگر جو عناصر ڈاکٹر طاہر القادری کی احتجاجی تحریک کے ذریعے جمہوریت کی بساط کسی ماورائے آئین اقدام کے تحت لپیٹنے کی نیت رکھتے ہیں، حکومتی بے تدبیریاں انہیں اپنے ان مقاصد کی تکمیل کا موقع فراہم کر دیں گی۔