آپریشن منطقی انجام تک پہنچایا جائے

ایڈیٹر  |  اداریہ
آپریشن منطقی انجام تک پہنچایا جائے

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ وہ اپنے کارکنوںسے اپیل کرتے ہیں وہ آئی ڈی پیز کی مدد کیلئے  فوری متحرک ہو جائیں۔محفوظ نقل مکانی تک آپریشن روکا جائے۔ دوسری طرف پاک فوج کے شمالی وزیرستان  میں جاری آپریشن میں مزید 2 دہشت گرد ہلاک ہو گئے ۔
پاک فوج شمالی وزیرستان میں کامیابی کے ساتھ دہشت گردوں کا صفایا کر رہی ہے۔  درجنوں تخریب کار ہلاک اور ان کے ٹھکانے تباہ ہو چکے ہیں اور وہ پسپائی اختیار کرتے ہوئے محفوظ ٹھکانے تلاش کر رہے ہیں ۔  نقل مکانی کے باعث پاک فوج آپریشن میں تیزی نہیں لا رہی۔ اس وقت علاقہ چھوڑنے والے متاثرین  کی تعداد 3 لاکھ 94 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ فوج نے دو مرتبہ  علاقہ چھوڑنے کی ڈیڈ لائن میں توسیع کی ہے۔ اب اگر  عمران خان کے مطالبے پر آپریشن روکا جاتا ہے۔ تو پھر دہشت گردوں  کو بھاگنے کا موقع مل جائے گا۔ اور آپریشن دوبارہ شروع  ہونے تک دہشت گرد منظم بھی ہو سکتے ہیں۔  لہذا دانشمندی کا  تقاضہ یہی ہے کہ اس آپریشن کو  منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور اس فتنے کی بیخ کنی کر کے زمین کو صاف کیا جائے۔ کسی بھی انسان  کیلئے گھر بار چھوڑنا مشکل ہوتا ہے لیکن شمالی وزیرستان کے عوام نے اپنے گھر چھوڑکر علاقے کو خالی کر دیا ہے۔ یہ ان کی بڑی قربانی ہے وفاقی حکومت آئی ڈی پیز کو رہائش اور خوراک پہنچانے کے لئے  خیبر پی  کے حکومت کے ساتھ  تعاون کرے۔ عمران خان نے جن خدشات کا اظہار کیا ہے۔ وفاقی حکومت کوباریک بینی سے اس کا جائزہ  لے کر انہیں دور کرنا چاہئے۔  کیونکہ آپریشن میں اگر  مقامی افراد کی حمایت حاصل ہو گئی تو وہ کامیاب ہو گا اور علاقہ  پرامن ہو سکے گا۔ لہذا پاک فوج ‘ وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتوں کو آپس میں رابطہ  رکھنا ہو گا۔  تاکہ متاثرین  کو کسی قسم  کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔