پنجاب یونیورسٹی خسارے میں

پنجاب یونیورسٹی کو بجٹ میں ایک ارب 4 کروڑ 70 لاکھ روپے کے خسارے کا سامنا انتظامیہ کی طرف سے کمی پوری کرنے کیلئے امتحانی فیس‘ رجسٹریشن‘ مائیگریشن اور ڈگری فیس میں 10 تا 20 فیصد اضافہ کی تجویز‘ یونیورسٹی سے ملحقہ کالجز کے طلبہ کی رجسٹریشن اور امتحانی فیس میں 10 فیصد اور پرائیویٹ امیدواروں کی فیس میں 20 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ 23 کروڑ 50 لاکھ کی سبسڈی بھی بتدریج ختم کی جائے گی۔
اب یونیورسٹی کی طرف سے کئے گئے ان اقدامات سے غریب اور متوسط طبقے کے زیر تعلیم بچوں کے تعلیمی اخراجات میں اضافہ ناقابل برداشت ثابت ہوسکتا ہے یہ خاندان اس مہنگائی کے دور میں پہلے ہی نجانے کتنی مشکل سے اپنے بچوں کو پڑھا رہے ہیں۔ اس سے قبل بھی سابقہ حکومت کے ہائیر ایجوکیشن کمشن کے خلاف اقدامات‘ اس کے بجٹ میں کمی کے باعث یونیورسٹیوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے وظائف روک دئیے ہیں جس سے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ پریشان ہیں اب ان نئے اقدامات سے تو زیر تعلیم طلبہ اور انکے والدین پر مزید بوجھ پڑے گا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کو پہلا قدم فیس بڑھانے کا نہیں لیناچاہئے یہ یونیورسٹی پاکستان میں شاید سب سے بڑی وار سٹی ہے اور سالہا سال سے معقول سبسڈی کا فائدہ اٹھاتی آئی ہے۔ یونیورسٹی کی مینجمنٹ کی بجٹنگ میں مدد کرنے کیلئے قومی اور صوبائی حکومت مینجمنٹ ماہرین کو ٹاسک دے کہ وہ یونیورسٹی کے خسارے کو ختم کرنے اور اسے منافع بخش ادارہ بنانے کیلئے منصوبہ بندی پیش کرے۔